ایم ایم کلبرگی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایم ایم کلبرگی
ملیشپا ماڈیوالپا کلبرگی
Malleshappa Madivalappa Kalburgi
ایم ایم کلبرگی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 28 نومبر 1938(1938-11-28)ء
وفات 30 اگست 2015(2015-80-30) (عمر  76 سال)
دھارواڑ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی کرناٹک یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان کنڑ زبان  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Marga 4) (2006)[1]  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ملّیشَپا ماڈِوَلَپا کلبُرگی (کنڑا: ಮಲ್ಲೇಶಪ್ಪ ಮಡಿವಾಳಪ್ಪ ಕಲಬುರ್ಗಿ; 28 نومبر 1938 – 30 اگست 2015)[2] ایک بھارتی اسکالر ہیں، جو وچنا ساہتیہ (وچَنا ادب) کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ یہ ہمپی کے کنڑا یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کو اپنی خدمات کے لیے 2006ء میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔[3] یہ کنڑا زبان کے مشہور ادیب تھے۔ 1980ء میں لِنگایت طبقے نے یہ الزام لگایا کہ انہوں نے بارہویں صدی کے فلسفی بساوا پر تنقید کی ہے۔ بساوا کے پیروکار لِنگایت ہیں۔ 2014 میں بھی اننت مورتی کے خلاف بات کی تھی، جس کا اہم موضوع تھا کہ مورتی پوجا توہم پرستی کے سوا کچھ نہیں۔ مقتول کلبرگی اور ہندوتوا کے گروہ کے درمیان ہمیشہ رسّہ کشی ہوتی رہی۔[4] 30 اگست 2015 کی صبح کو دھارواڑ میں ان کے گھر کے قریب دو نامعلوم آدمیوں نے اسلحہ سے وار کیا اور ان کا قتل کر دیا۔[5]

پیشہ وران سفر[ترمیم]

1966ء میں، کلبرگی کو کرناٹک یونیورسٹی کے کنڑ شعبہ میں پروفیسر کے طور پر پرموشن ملا۔ 1982ء میں کنڑ شعبہ کے چیئرمن منتخب ہوئے۔ بعد ازیں اُسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر تقرر پائے۔

مورتی پوجا تنارعہ[ترمیم]

کلبرگی نے توہم پرستی کے خلاف ایک مہم شروع کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ توہم پرستی، اندھ وشواس کے خلاف ایک بِل بنا کر قانون بنایا جائے۔ انہوں نے یو۔ آر۔ اننت مورتی نامی مصنف کی کتاب کا بھی ذکر کیا۔ یہ کتاب 1996ء میں شائع ہوئی تھی، جس کا نام بیتھلے پوجے یاکے کوداڑو (ننگے مورتیوں کی عبادت کیوں منع ہے)، اس میں مصنف نے اپنے بچپن کے تجربات کو پیش کیا اور لکھا تھا کہ ہم مورتیوں پر پیشاب کرتے تھے اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے کہ ان میں (مورتیوں میں) کونسی آسمانی طاقتیں بسی ہیں۔ کلبرگینے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی توہم پرستیوں سے کیا انجام نکل آتے ہیں۔[6] یہ بات کو لے کر ہندوتوا رائٹ ونگ گروہ وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شری رام سینانے احتجاج شروع کیا اور دونوں مصنفوں کے خلاف نعرے بازی کی۔[7] کنڑ زبان کے نقاد نٹراج ہولیار نے یہ الزام لگایا کہ کلبرگی نے جان بوچھ کر اننت مورتی کی باتوں کو توڑ موڑ کر پیش کیا۔[8]

قتل[ترمیم]

کرناٹک کے شہر دھارواڑ میں کلبرگی کے گھر کے قریب، صبح 8:40 تاریخ 30 اگست، 2015ء کو نامعلوم آدمی جو یہ نقل کر رہاتھا کہ وہ کلبرگی کا شاگرد ہے، کلبرگی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کلبرگی کی اہلیہ اوما دیوی نے دروازہ کھولا انہیں اندر بلایا اور دونوں کے لیے کافی تیار کرنے اندر گئیں۔ دونوں میں سے ایک آدمی نے کلبرگی پر قریب سے گولی چلادی، وہ اور اس کا ساتھی موٹر سائکل پر فرار ہو گئے۔[9] فوراً انہیں ضلع سِوِل ہسپتال دھارواڑ لے جایا گیا۔ ڈاکٹرس نے یہ اعلان کیا کہ کلبرگی راستے ہی میں انتقال کر گئے۔[10]

تفتیشات[ترمیم]

30 اگست ہی سے تفتیشات شروع کردی گئیں جس دن ان کا قتل ہوا تھا۔ اس کی تفتیش کے لیے ہبلی دھارواڑ پولیس نے اسسٹنٹ کمیشنر کی سربراہی میں پانچ انسپکٹروں پر مشتمل ایک اسپیشل ٹیم کو تشکیل دی ہے اور تفتیش جاری ہے۔[10][11]

تصانیف[ترمیم]

کلبرگی تقریباً 20 کتابیں لکھی، جس میں درج ذیل کتابیں مشہور ہیں :

  • نیرو نیرادی سِتو : Neeru Neeradisittu
  • سارنگرشی : Sarangarshi
  • کاچیٹور کلیان : Kachhittu Kalyan

اعزازات[ترمیم]

  • تصنیف: مارگا 4، کے لیے کرناٹک ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ
  • مرکزی حکومت کی جانب سے ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ
  • جناپد ایوارڈ
  • یکشا گانا ایوارڈ
  • پمپا ایوارڈ
  • نروپاتُنگا ایوارڈ
  • رنّا ایوارڈ
  • بساوا پُرسکارا ایوارڈ - 2013
  • وچانا ساہتیہ ایوارڈ - 2013
  • ناڈوجا ایوارڈ

مزید دکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#KANNADA — اخذ شدہ بتاریخ: 8 اپریل 2019
  2. "Kalburgi gets Sahitya Akademi award"۔ The Hindu۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 February 2010۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. Mondal، Sudipto۔ "Karnataka: Rationalist and scholar MM Kalburgi shot dead"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 August 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. "Kannada scholar and former VC of Hampi University MM Kalburgi shot dead"۔ news.biharprabha.com۔ ANI۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 August 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. "Kannada Scholar Kalburgi Shot Dead, Third Rationalist to be Killed in Three Years"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 August 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  6. Koshy، Jacob۔ "Anti-Superstition Academic Kalburgi Shot Dead In Karnataka" (30 August 2015)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 August 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  7. Huliyar، Nataraj۔ "Scholar misquotes writer, starts humongous squabble"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 August 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  8. Aiyappa، Manu۔ "Malleshappa M Kalburgi, controversial writer and scholar shot dead"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 August 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  9. ^ ا ب Nayak, Dinesh۔ "Kannada writer M.M. Kalburgi shot dead"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 August 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  10. "Former Karnatak University vice-chancellor M M Kalaburgi, who had run-ins with hardliners, shot"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 August 2015۔ |first1= missing |last1= (معاونت); نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

سانچہ:ابتدائی ترتیب:Kalburgi, M. M.