ایم جے اکبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایم جے اکبر
MJ Akbar تفصیل= 2014 میں ہیلی فیکس سیکورٹی فورم میں خطاب کرتے ہوئے

وزارت خارجی امور، حکومت ہند
آغاز منصب
6 جولائی 2016
MP of راجیہ سبھا
آغاز منصب
30 جون 2016
مدت منصب
3 جولائی 2015 – 29 جون 2016
مدت منصب
1989 – 1991
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سید شہاب الدین
Mohammed Taslimuddin Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 11 جنوری 1951 (68 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
اولاد موکولیکا اکبر
پریاگ اکبر
عملی زندگی
مادر علمی کلکتہ یونیورسٹی
پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا (1967–1970)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ صحافی،  مصنف،  سیاست دان[1]،  بلاگ نویس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان تمل[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

مبشر جاوید، ایم جے اکبر ایک بھارتی سیاست دان [5] ہیں جو بیرونی امور کے لیے مملکتی وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش سے صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی رکن ہیں۔ ان پر اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے جنسی ہراسانی کے الزامات کئی خواتین نے لگائے تھے اسی وجہ سے انہیں 17 اکتوبر 2018ء کو انہیں اپنے وزارتی عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ جولائی 2016 میں وزیر اعظم نریندرمودی کی جانب سے انہیں یونین کونسل آف منسٹرز میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ وہ ایک سابق بھارتی صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے 1988اور1991 کے درمیان میں پارلیمنٹ کے منتخب رکن کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور مارچ 2014ء میں اس وقت واپس عوامی زندگی کی طرف پلٹ آئے جب وہ بی جے پی میں شامل ہوئے اور اس کے بعد ان کو 2014 کے عام انتخابات کے دوران میں قومی ترجمان مقرر کیا گیاتھا تو نریندر مودی کی قیادت میں ایک سادہ سی اکثریت سے پارٹی دفتر تک محدود ہوکر رہ گئی۔ جولائی 2015ء میں انہیں جھاڑ کھنڈ کے علاقے سے ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب کیا گیا۔

صحافت میں اپنے طویل کیرئیر کے دوران میں انہوں نے ایڈیٹر کے طور پر انڈیا کا پہلا ہفتہ وار سیاسی اخبار 'سنڈے' 1976 میں شائع کیا۔ اس کے علاوہ دو روزہ اخبار ٹیلیگراف، دا ایشین ایج بھی 1989 اور 1994 میں نکالا۔ وہ انڈیا ٹو۔ڈے اور سنڈے گارڈین کے ایڈیٹوریل ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ سنڈے گارڈین کے ایڈیٹر ان چیف اور ایڈیٹوریل ڈائریکٹر بھی تھے۔ یہ ایک ہفتہ وار اخبار تھا جس کی بنیاد انہوں نے رکھی اور تب تک اس میں کام کرتے رہے جب تک کہ وہ سیاست میں مکمل شامل نہیں ہو گئے۔ وہ بھارت میں معروف میگزین اور دورانیوں کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں جن میں ٹو-ڈے انڈیا، ہیڈ لائنز ٹو- ڈے، ٹیلی گراف، ایشین ایج اور ڈیکن کرونیکل اس کے علاوہ شامل ہیں۔ انہوں نے کئی غیر افسانوی کتابیں جن میں جواہر لال نہرو کی سوانح حیات (جس کا نام نہرو ہے)، اس کے علاوہ میکنگ آف انڈیا لکھی۔ ایک کتاب کشمیر پر لکھی جس کا نام کشمیر بی ہائنڈ دی ویل، فسادات کے بعد فساد اور انڈیا جیسی کتابیں بھی ان کی تصنیف ہیں۔ انہوں نے شیڈ آف سوارڈز (تلواروں کے رنگ) بھی لکھی جس میں جہادی تاریخ کا بیان ہے۔ اکبر نے خون برادران - ایک فیملی سیگا (اطالوی ترجمہ شدہ) جیسی افسانوی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہیو پن، ول ٹریول، ایک زمینی سیاح کے مشاہدات پر مشتمل سفرنامہ بھی لکھا ہے۔ ان کی کتاب ٹنڈر باکس میں پاکستان کا ماضی اور مستقبل، جنوری 2012 میں پاکستان میں شناختی اور جماعتی جدوجہد کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت http://www.mea.gov.in/state-eam1.htm — اخذ شدہ بتاریخ: 20 جولا‎ئی 2018
  2. https://indianexpress.com/article/india/indian-muslims-not-falling-prey-to-islamist-violence-because-of-democracy-mj-akbar-5213683/ — اخذ شدہ بتاریخ: 20 جولا‎ئی 2018
  3. https://www.oneindia.com/india/29-leaders-in-29-states-hullabaloo-commemorate-emergency-imposed-by-the-congress-2720916.html — اخذ شدہ بتاریخ: 20 جولا‎ئی 2018
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12178583w — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. "Muslim Women Will No Longer Live Under Fear Of Talaq: MJ Akbar"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:Bharatiya Janata Party