ایم ڈی طاہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عوامی مسائل پر عدالتی چارہ جوئی سے شہرت پانے والے قانون دان ۔

مظلموں کی آواز[ترمیم]

ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ اپنی وکالت کے ابتدائی دنوں میں مختلف سیاسی اور سماجی مسائل پر شدید احتجاج کرتے رہے جس کی وجہ سے ان کو جیل بھی جانا پڑا تاہم بعدازں انہوں نے احتجاج کی بجائے ان مسائل کے حل کے لیے اعلیْ عدالتوں میں دادرسی کے لیے آئینی درخواستیں دائر کرنا شروع کر دیں۔

عوامی مسائل[ترمیم]

مرحوم نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے ایک درخواست دائر کی جس پر عدالت نے انہیں جنرل یحییْ خان سے ان کی بیماری کے دوران ملاقات کرنے اور ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دی تھی۔ درویش صفت ایم ڈی طاہر کو عوامی مسائل پر عدالت سے رجوع کرنے پر شہرت جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملی جب انہوں نے موٹر سائیکل سوار کے لیے ہلمٹ پہنے کی پابندی کو چیلنج کیا اور تین عشروں میں ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ نے عوامی مسائل پر سینکڑوں درخواستیں عدالت کے روبرو دائر کرکے ایک منفرد مقام حاصل کیاا

مرحوم نے مشرقی پاکستان کے علیحدگی کے بعد بہاریوں کی آباد کاری، پتنگ بازی پر پابندی، پاکستانی حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں اکے اخراجات، فوجی کو اونے پونے داموں اراضی الاٹ کرنے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور صدر پرویز مشرف کے بطور آرمی چیف صدارتی انتخاب سمیت کئی اہم درخواستیں آج بھی عدالت کے روبرو زیر سماعت ہیں۔ چالیس سال تک وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے۔

تصانیف[ترمیم]

ایم ڈی طاہر چار کتابوں کے مصنف بھی تھے اور ان کتابوں میں پنجابی شاعری کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ ایم ڈی طاہر نے مختلف شہروں سے آنے والے خطوط اور ان میں درج مسائل پر درخواستیں دائر کرتے رہے۔ اپریل 2008 میں 65 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔