مندرجات کا رخ کریں

ایوان بالا پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ایوان بالا پاکستان
قسم
قسم
مدت
6 سال
تاریخ
آغاز اجلاس نو
12 مارچ 2018ء (2018ء-03-12)
قیادت
نائب صدر ایوان بالا پاکستان
ساخت
نشستیںseats = 100
سیاسی گروہ
حکومتی اتحاد (55)

اپوزیشن (42)

آزاد (3)

انتخابات
سنگل ٹرانسفرایبل ووٹ
پچھلے انتخابات
3 مارچ 2021
اگلے انتخابات
مارچ 2024 (متوقع)
مقام ملاقات
Senate Secretariat
مجلس شوریٰ پاکستان
اسلام آباد، پاکستان
ویب سائٹ
www.senate.gov.pk

سینیٹ آف پاکستان وفاق کا ایوانِ بالا اور پاکستان کی پارلیمان کا اعلیٰ حصہ ہے۔ اس کی رکنیت 96 اراکین پر مشتمل ہے ، جن میں سے 92 کا انتخاب صوبائی اسمبلیوں کے ارکان ایک مخصوص طریقہ انتخاب (واحد منتقلی ووٹ) کے ذریعے کرتے ہیں جبکہ چار اراکین وفاقی دار الحکومت کی نمائندگی کرتے ہیں جن کو قومی اسمبلی کے ارکان منتخب کرتے ہیں - ارکان کی مدت 6 سال ہوتی ہے اور اس کے انتخابات ہر تین سال بعد آدھی تعداد کی نشستوں کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں ۔ قومی اسمبلی کے برعکس، سینیٹ ایک مستقل ایوان ہے اور اس لیے اسے تحلیل نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹ کی تشکیل اور اختیارات پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 59 کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں۔ آبادی سے قطع نظر چاروں صوبوں میں سے ہر ایک کی نمائندگی 23 سینیٹرز کرتے ہیں، جب کہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی نمائندگی چار سینیٹرز کرتے ہیں، جن میں سے سبھی کی مدت چھ سال کی مدت تک ہوتی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ پارلیمنٹ کی عمارت کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسی عمارت کے ویسٹ ونگ میں ہوتا ہے۔ سینیٹ کے پاس متعدد خصوصی اختیارات ہیں جو قومی اسمبلی کو نہیں دیے گئے ہیں جن میں پارلیمانی بلز کو قانون میں نافذ کرنے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔ نصف سینیٹ کے لیے ہر تین سال بعد انتخابات ہوتے ہیں اور ہر سینیٹر کی مدت چھ سال ہوتی ہے۔ آئین سینیٹ کو تحلیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

بنیادی مقاصد و اغراض

[ترمیم]

اس ایوان کے قیام کی بنیادی وجہ تمام وفاقی اکائیوں اور طاقتوں کو ایک جگہ پر نمائندگی دینا ہے۔ ایوان زیریں یا قومی اسمبلی (Parliament) میں موجود ہر صوبے کی طرف سے برابر تعداد میں ہر ایک کی نمائندگی کا موقع اس ایوان بالا میں دیا جاتا ہے۔ اس وقت اس ایوان بالا میں 100 نشستیں ہیں، جن میں سے 18 خواتین کی ہیں-

1971 میں جب پاکستان ٹوٹ گیا تو اس کے ٹوٹنے کی وجوہات میں ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ حکومتیں چھوٹے صوبوں پر توجہ نہیں دیتی تھیں۔ جب ملک ٹوٹا تو 1971ء کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ بنایا گیا تاکہ تمام چھوٹے صوبوں کو بڑے صوبوں کی طرح نمائندگی مل جائے۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں تو ہر صوبے سے ارکان اکثریت کی بنیاد پہ منتخب ہوتے ہیں یعنی جس صوبے کی زیادہ آبادی ہوتی ہے وہیں سے زیادہ نشستیں منتخب ہوتی ہیں لیکن سینیٹ میں تمام صوبوں سے ارکان برابر تعداد میں منتخب ہوتے ہیں۔

صوبہ/علاقہعام نشستٹیکنوکریٹ/علماخواتینغیر مسلمکُل نشستیں
بلوچستان1444123
خیبر پختونخوا1444123
سندھ1444123
پنجاب1444123
قبائلی علاقہ جات4---4
اسلام آباد211-4
کُل نشستیں100
  • نوٹ: آئین پاکستان کے 18ویں ترمیم میں غیر مسلموں کے لیے چار نشستیں بڑھا دی گئی ہیں۔

تقرری

[ترمیم]

اس ایوان کے 100 ارکان کا انتخاب کچھ اس طرح سے ہوتا ہے :

  1. 14 ارکان ہر صوبائی اسمبلی سے منتخب ہو ں گے ۔
  2. 4 کا انتخاب فاٹا سے ہوگا ۔
  3. 2 عام نشستیں اور ایک خواتین کی نشست اور ایک ٹیکنو کریٹ جیسے کہ " عالم " ۔
  4. 4 خواتین کا انتخاب ہر صوبائی اسمبلی سے ہوگا ۔
  5. 4 علما کا انتخاب ہر صوبائی اسمبلی سے ہوگا۔
  6. ہر ہر صوبے سے ایک نشست اقلیت کے لیے مخصوص ہوگی ۔

ایوان بالا میں موجودہ اور سابقہ جماعتوں کی حیثیت

[ترمیم]

2021 تا 2024

[ترمیم]

2021 میں ہونے والے انتخابات کا نتیجہ یہ آیا:

موجودہ سینیٹ بیٹھک[1]
سیاسی جماعتنشستگرافنگخد و حال
پاکستان تحریک انصاف27
27 / 100
اپوزیشن
پاکستان پیپلز پارٹی22
22 / 100
حکومت
پاکستان مسلم لیگ19
19 / 100
حکومت
بلوچستان عوامی پارٹی12
12 / 100
اپوزیشن
جمعیت علمائے اسلام (ف)5
5 / 100
حکومت
متحدہ قومی موومنٹ3
3 / 100
حکومت
عوامی نیشنل پارٹی2
2 / 100
حکومت
نیشنل پارٹی2
2 / 100
حکومت
پاکستان مسلم لیگ1
1 / 100
اپوزیشن
پختونخوا ملی عوامی پارٹی1
1 / 100
حکومت
بلوچستان نیشنل پارٹی1
1 / 100
حکومت
جماعت اسلامی1
1 / 100
اپوزیشن
گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس 1
1 / 100
اپوزیشن
آزاد3
3 / 100
آزاد
کل سینیٹ نشت 100

2021 سے تا 2024

[ترمیم]
جماعتتعداد
پاکستان تحریک انصاف 27
پاکستان پیپلز پارٹی22
پاکستان مسلم لیگ ن19
بلوچستان عوامی پارٹی 12
جمعیت علمائے اسلام5
ایم کیو ایم3
عوامی نیشنل پارٹی2
نیشنل پارٹی (پاکستان)2
پاکستان مسلم لیگ ق1
بلوچستان نیشنل پارٹی1
پختونخوا ملی عوامی پارٹی1
جماعت اسلامی 1
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس1
آزاد3
مجموعہ100

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ahmad javed (12 جون 2013)۔ "senators"۔ dawn۔ dawn۔ AP۔ شمارہ senate۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-02-07