ایوان بالا پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایوان بالا پاکستان
قسم
قسم [[ایوانِ بالا]] ہائے Majlis-e-Shoora
مدت 6 years
آغاز اجلاس نو 12 مارچ 2018 (2018-03-12)
قیادت
امیر مجلس ایوان بالا پاکستان صادق سنجرانی
آزاد سیاست دان
از 12 March 2018
Deputy Chairman Saleem Mandviwalla
پاکستان پیپلز پارٹی
از 12 March 2018
قائد ایوان بالا (پاکستان) Vacant
از12 March 2018
Leader of Opposition شیری رحمان
پاکستان پیپلز پارٹی
از22 March 2018
ساخت

حکومت پاکستان (27)

Grand Opposition (45)

Unalligned Opposition (30)

Vacant (2)
انتخابات
نظام رائے شماری Single transferable vote
3 March 2018
اگلے انتخابات March 2021 (Expected)
مقام اجلاس
Senate Secretariat
مجلس شوریٰ پاکستان
اسلام آباد، پاکستان
ویب سائٹ
www.senate.gov.pk
State emblem of Pakistan.svg
مضامین بسلسلہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

سینیٹ پاکستان کی پارلیمان کا ایوان بالا ہے۔ یہ دو ایوانی مقننہ کا اعلیٰ حصہ ہے۔ اس کے انتخابات ہر تین سال بعد آدھی تعداد کی نشستوں کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں اور۔ اور ارکان کی مدت 6 سال ہوتی ہے۔ سینیٹ کا امیر ملک کے صدر کا قائم مقام ہوتا ہے۔ موجودہ امیر ایوان بالا صادق سنجرانی ہیں جو 12 مارچ 2018 سے اس عہدے پر ہیں ۔

بنیادی مقاصد و اغراض[ترمیم]

اس ایوان کے قیام کی بنیادی وجہ تمام وفاقی اکائیوں اور طاقتوں کو ایک جگہ پر نمائندگی دینا ہے۔ ایوان زیریں یا قومی اسمبلی (Parlement) میں موجود ہر صوبے کی طرف سے برابر تعداد میں ہر ایک کی نمائندگی کا موقع اس ایوان بالا میں دیا جاتا ہے۔ اس وقت اس ایوان بالا میں 104 نشستیں ہیں جن میں سے 18 خواتین کی ہیں -

1971 میں جب پاکستان ٹوٹ گیا تو اس کی ٹوٹنے کے وجوہات میں ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ حکومتیں چھوٹے صوبوں کو توجہ نہیں دیتی تھیں۔ جب ملک ٹوٹا تو 1971 کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ بنایا گیا تاکہ تمام چھوٹے صوبوں کو بڑے صوبوں کے طرح نمائندگی مل جائے۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں تو ہر صوبے سے ارکان اکثریت کے بنیاد پہ منتخب ہوتے ہیں یعنی جس صوبے کی زیادہ آبادی ہوتی ہے وہی سے زیادہ نشستیں منتخب ہوتی ہیں لیکن سینیٹ میں تمام صوبوں سے ارکان برابر تعداد میں منتخب ہوتے ہیں۔

صوبہ/علاقہ عام نشست ٹیکنوکریٹ/علما خواتین غیر مسلم کُل نشستیں
بلوچستان 14 4 4 1 23
خیبر پختونخوا 14 4 4 1 23
سندھ 14 4 4 1 23
پنجاب 14 4 4 1 23
قبائلی علاقہ جات 8 - - - 8
اسلام آباد 2 1 1 - 4
کُل نشستیں 104
  • نوٹ: آئین پاکستان کے 18ویں ترمیم میں غیر مسلموں کے لیے چار نشستیں بڑھا دی گئی ہیں۔

تقرری[ترمیم]

اس ایوان کے 104 ارکان کا انتخاب کچھ اس طرح سے ہوتا ہے :

  1. 14 ارکان ہر صوبائی اسمبلی سے منتخب ہو ں گے ۔
  2. 8 کا انتخاب فاٹا سے ہوگا ۔
  3. 2 عام نشستیں اور ایک خواتین کی نشست اور ایک ٹیکنو کریٹ جیسے کہ " عالم " ۔
  4. 4 خواتین کا انتخاب ہر صوبائی اسمبلی سے ہوگا ۔
  5. 4 علما کا انتخاب ہر صوبائی اسمبلی سے ہوگا۔
  6. ہر ہر صوبے سے ایک نشست اقلیت کے لیے مخصوص ہوگی ۔

ایوان بالا میں موجودہ اور سابقہ جماعتوں کی حیثیت[ترمیم]

2015 تا 2021[ترمیم]

2015 میں ہونے والے انتخابات کا نتیجہ یہ آیا:

موجودہ سینیٹ بیٹھک[1]
سیاسی جماعت نشست گرافنگ خد و حال
پاکستان پیپلز پارٹی 27
27 / 104
اکثریت میں
پاکستان مسلم لیگ 26
26 / 104
اقلیت میں
متحدہ قومی موومنٹ 8
8 / 104
اکثریت میں ،پیپلزپارٹی کے ساتھ
عوامی نیشنل پارٹی 7
7 / 104
اکثریت میں ،پیپلزپارٹی کے ساتھ
پاکستان تحریک انصاف 7
7 / 104
اقلیت میں
جمعیت علمائے اسلام (ف) 5
5 / 104
اکثریت میں ،پیپزپارٹی کے ساتھ
پاکستان مسلم لیگ 4
4 / 104
اکثریت میں ،پیپلزپارٹی کے ساتھ
نیشنل پارٹی 3
3 / 104
اکثریت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ
پختونخوا ملی عوامی پارٹی 3
3 / 104
اقلیت میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ
بلوچستان نیشنل پارٹی 4
4 / 104
اقلیت میں ن لیگ کے ساتھ
پاکستان مسلم لیگ 1
1 / 104
اکثریت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ
جماعت اسلامی 1
1 / 104
اقلیت میں تحریک انصاف کے ساتھ
آزاد 6
6 / 104
قربت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ
خالی 2
2 / 104
خالی نشست
کل سینیٹ نشت 104

2008 سے تا 2015[ترمیم]

جماعت تعداد
پاکستان پیپلز پارٹی 41
پاکستان مسلم لیگ ن 14
عوامی نیشنل پارٹی 12
پاکستان مسلم لیگ ق 5
جمعیت علمائے اسلام 7
متحدہ قومی تحریک 7
آزاد 12
بلوچستان نیشنل پارٹی 4
نیشنل پارٹی (پاکستان) 3
پاکستان مسلم لیگ ف 1
پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ)
مجموعہ 104

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ahmad javed (جون 12, 2013)۔ "senators"۔ dawn (senate) (dawn)۔ AP۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 فروری 2015۔