ایوب علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پیغمبر۔ قرآن میں متعدد جگہ آپ کا ذکر ہے۔ سورۃ النساء آیہ 163 اور سورۃ انعام آیہ 85 میں ‌دوسرے انبیاء کرام کے ناموں کے ساتھ صرف آپ کا نام ہے، حالات نہیں۔ سورۃ انبیا (آیہ 83 تا 84) اور سورۃ ص (آیہ 41 تا 44) میں‌آپ کا مختصر حال بیان کیا گیا ہے۔ قرآن سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ آپ بہت خوشحال اور مالدار تھے۔

تعارف[ترمیم]

مفسرین نے آپ کے تفصیلی حالات لکھے ہیں جو تھوڑے سے اضافے کے ساتھ تمام تر بائبل سے ماخوذ ہیں۔ بائبل میں پورا ایک صحفہ (سفر ایوب) کے نام سے ہے۔ جو قدیم شاعری کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس کے مطابق آپ کا نا یوباب تھا اور آپ زراح بن رعوائل بن عیسوا دوم بن اسحاق کے بیٹے تھے۔ عیسوا دوم حضرت اسحاق سے ناراض ہو کر اپنے چچا حضرت اسماعیل کے پاس چلے گئے تھے، کیونکہ ان کے بھائی یعقوب نے اپنے باپ سے نبوت حاصل کر لی تھی۔ بائبل نے آپ کا وطن بصری بتایا ہے جو فلسطین کے پاس ایک چھوٹا سا شہر ہے۔

مورخین کا بیان ہے کہ آپ نے حضرت اسماعیل کی لڑکی سے شادی کی۔ علاوہ ازیں دو اور نکاح کیے اور ان سے جو اولاد ہوئی اُسے لے کر کوہ شعر (کوہ سرات) کے دامن میں‌چلے گئے۔ یہ مقام شمال مغربی عرب میں واقعہ ہے۔ کچھ مدت بعد آپ کے قبیلے نے ایک طاقتور قوم کی شکل اختیار کر لی۔ جس پر آٹھ بادشاہوں نے حکومت کی۔ حضرت ایوب دوسرے بادشاہ تھے، بائبل میں ان آٹھوں بادشاہوں کے نام درج ہیں۔ بعض‌مورخین نے آپ کا زمانہ 1000 ق م اور بعض نے 1520 ق م بتایا ہے۔ بائبل کے مطابق آپ نے ایک سو چالیس سال کی عمر پائی۔

صبر ایوب[ترمیم]

حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہت برگزیدہ نبی ہوئے ہیں۔
Ra bracket.png وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ Aya-44.png La bracket.png
حضرت ایوب کے لیے ابتلاء و آزمائش کے اس امتحان میں کامیابی کی سند کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم نے انکو صابر پایا "۔ اور ایسا صابر کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہیں مل سکتی۔ یہاں تک کہ صبر ایوب ضرب المثل بن گیا۔
بعض روایتوں اور کتابوں میں یوں آیا ہے کہ شیطان نے کہا کہ ایوب علیہ السلام اس لیے عبادت کرتے اور شکر گذاری کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت سے نواز رکھا ہے۔ اگر ان کی آزمائش کی جائے تو وہ ناشکری کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش مختلف آفات سے کی۔ سب سے پہلے اُن کے جانور مر گئے، پھر بچے انتقال کر گئے۔ پھر بیماری نے آ لیا کہ صرف زبان ہی محفوظ تھی۔ اس حال میں بھی اُن کو یہ فکر تھی کہ زبان کو کچھ ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کا شکر کیسے ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری دور کی، مال ودولت بھی دوبارہ دیا۔ بچے بھی ہوئے۔

آزمائش[ترمیم]

خدا نے آپ کی آزمائش کی۔ آپ کی تمام جائداد تباہ ہوگئی، آل اولاد، نوکر چاکر سب مرگئے اور آپ خود ایک موذی مرض میں مبتلا ہوگئے۔ آہ و زاری کی تو اللہ نے فرمایا (زمین پر پیر مار) پیر مارنے سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ اس میں آپ نہائے تو تندرست ہوگئے خدا نے آپ کا مال و اسباب آپ کو واپس بخش دیا اور بال بچے ، نوکر چاکر بھی دوبارہ زندہ کر دیے۔ قرآن نے آپ کو صبر کرنے والا، رجوع کرنے والا اور اچھا بندہ کہا ہے۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]