ایڈورڈ سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایڈورڈ سعید
ایڈورڈ سعید

معلومات شخصیت
پیدائش 1 نومبر 1935[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یروشلم[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 ستمبر 2003 (68 سال)[6][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نیویارک شہر[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات ابیضاض  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ہارورڈ
جامعہ پرنسٹن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،  ادبی تنقید نگار،  صحافی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[8]،  انگریزی[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ کولمبیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں الاستشراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر ژاں پال سارتر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
بین الاقوامی نونینو انعام (1996)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

فلسطینی مصنف اور دانشور۔ پروفیسر ایڈورڈ سعید یروشلم میں پیدا ہوئے لیکن 1947ء میں پناہ گزیں بن جانے کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور ساری عمر وہیں رہے۔ شاید یہی سبب تھا کہ انہوں نے ساری زندگی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے علمی جدوجہد جاری رکھی۔

وہ عرب دنیا کی بجائے مغرب میں زیادہ معروف تھے اور شاید اس کا سبب یہ ہے کہ وہ انگریزی زبان میں لکھتے رہے لیکن ان کے قلمی کام کا اثر عرب دنیا میں بھی ویسا ہی رہا جیسا کہ باقی دنیا میں ہوا۔

وہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں علمی اور ادبی کام میں مشغول رہے۔ ان کا مضمون انگریزی اور تقابلی ادب تھا۔

اگرچہ انہوں نے کئی معرکۃ آراء کتابیں اور مکالے لکھے تاہم جس کتاب نے انہیں سب سے زیادہ شہرت بخشی وہ ’اوریئنٹلزم‘ ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر سعید نے اس نکتہ سے بحث کی ہے کہ مشرقی اقوام اور تمدن کے بارے میں مغرب کا تمام علمی کام نسل پرست اور سامراجی خام خیالی پر مبنی ہے۔

اس تحقیقی کام سے عربوں کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ مغرب نے عرب اور اسلامی ثقافت کو سمجھنے میں غلطی کی ہے اور عرب دنیا اور مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد سوچ پر اپنے نظریات کی بنیاد رکھی۔

موت سے تھوڑے ہی عرصہ پہلے انہوں کہا تھا کہ مغرب کی یہی سوچ تھی جس نے عراق پر حملے کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کیا۔

فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ان کی کاوشوں کو عرب دنیا میں تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

مغربی دنیا میں کسی عرب نژاد نے اس قدر کھل کر اور بے باک انداز میں فلسطینی حقوق اور موقف کا دفاع نہیں کیا جتنا ایڈورڈ سعید نے کیا۔ لیکن اس دفاع میں وہ قلعہ بند نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اپنے طور پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مکالمے کو جاری رکھا۔

اگرچہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تلخیاں اور شبہات بڑھتے رہے پھر بھی دونوں کو قریب لانے کے لیے ایڈورڈ سعید کے جذبہ میں کمی نہیں آئی۔

وہ فلسطینی نیشنل کانفرنس کے بھی غیروابستہ رکن رہے تاہم بعد میں وہ اس سے کنارہ کش ہو گئے۔ اسرائیل اور فلسطینی رہمنا یاسر عرفات کے درمیان اوسلو میں ہونے والے معاہدے پر انہوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے تحت فلسطینیوں کو انتہائی کم رقبہ اور بہت کم اختیارات ملیں گے۔

وہ علاحدہ علاحدہ فلسطینی اور اسرائیلی ریاستوں کے قیام کے بھی خلاف تھے۔ ان کے خیال میں ایسی صورت میں دونوں کو ہمیشہ باہمی مسائل کا سامنا رہے گا۔ ان کے خیال میں مسئلہ فلسطین کا حل دو قومی ریاست میں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0756429 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Edward-Said — بنام: Edward Said — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6fn2dtw — بنام: Edward Said — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=7982556 — بنام: Edward Wadie Said — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. اجازت نامہ: CC0
  6. http://www.columbia.edu/cu/news/03/09/edwardSaid_2.html
  7. اجازت نامہ: CC0
  8. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119232983 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ