ایکتا (فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایکتا
ہدایت کار ھومی واڈیا
پروڈیوسر رام پنجوانی
تحریر کھیئلداس فانی
ستارے کریم بخش نظامانی
کوشیلایا بیگ
مایا دیوی
ہری شو داسانی
چانڈو شو داسانی
گلشن صوفی
موسیقی گلشن صوفی
پروڈکشن
کمپنی
واڈیا مووی ٹون اسٹوڈیو، ممبئی
تاریخ اشاعت
1940
ملک برطانوی ہندوستان
زبان سندھی

ایکتا (انگریزی: Ekta)، پہلی سندھی فلم تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار ھومی واڈیا اور پروڈیوسر رام پنجوانی تھے۔ فلم بنانے کی شروعات 1934 میں ہوئی اور 6 سال بعد 1940 کو نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ واڈیا مووی ٹون اسٹوڈیو، ممبئی سے بننے والے اس فلم کے اداکار کریم بخش نظامانی اور اداکارہ کوشیلایا بیگ تھیں۔[1][2] فلم کا موضوع ہندو مسلم اتحاد تھا۔[3] اس پہلے سندھی فلم کا دورانیہ اپنے ہمعصر فلموں سے کم تھا۔[4]


نمائش[ترمیم]

ایکتا کی نمائش کراچی کے اس وقت کے مشہور سینیما تاج محل میں دہل شرنایوں سے ہوا۔ تقریب نمائش میں وزیر اعلیٰ سندھ اللہ بخش سومرو، جمشید نسروانجی، جمشید واڈیا اور فلم پروڈیوسر رام پنجوانی شامل ہوئے۔[2]

گانے[ترمیم]

اس فلم میں دو گانے شامل تھے اور شاعری کھیئلداس فانی کی تھی۔

ترتیب گانا شاعری آواز
1 مونکھی ننڈڑی بھیں کپھی (اردو: مجھے چھوٹی سے بہن چاہیے) کھیئلداس فانی گلشن صوفی اور کوشیلایا بیگ
2 بھلو آھی سارے جہاں کھان (اردو: اچھا ہے سارے جہاں سے) کھیئلداس فانی گلشن صوفی اور کوشیلایا بیگ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عبدالمجيد مغيري (22 اپریل 2018)۔ "سنڌي فلمن جي سار ڪير لهندو!؟"۔ روزاني عوامي آواز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 جولا‎ئی 2018۔
  2. ^ ا ب "ايڪتا"۔ encyclopediasindhiana.org۔ Encyclopedia Sindhiana۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 جولا‎ئی 2018۔
  3. Firoze Rangoonwalla۔ 75 years of Indian cinema۔ Indian Book Co.۔ صفحہ 130۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2018۔
  4. Nair Roshni (5 اپریل 2015)۔ "Will the lights go out on Sindhi cinema?"۔ DNA India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2018۔