مندرجات کا رخ کریں

ایک شرن دھرم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ایک شرن دھرم[1] (لفظی معنی: ”ایک دھرم کی پناہ“) ویشنو مت کا ایک فرقہ ہے، پندرھویں اور سولھویں صدی عیسوی میں بھارت کی ریاست آسام میں شری منت شنکردیو نے اس کی تبلیغ کی۔ اس نظریے نے ویدک رسومات پر حد سے زیادہ توجہ کو کم کیا اور اپنی تمام تر توجہ کرشن کی عقیدت (بھکتی) پر مرکوز کر دی، جس کا اظہار اجتماعی سماعت (”شرَوَن“) اور بھگوان کے نام و اعمال کو گیتوں (”کیرتن“) کی صورت میں کیا جاتا ہے۔

اس سادہ اور سہل عقیدے نے اپنی مساوات پسند فطرت کے باعث ہندو اور غیر ہندو، دونوں آبادیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ نو وارد افراد کو اس عقیدے میں ایک مخصوص تقریب کے ذریعے شامل کیا جاتا ہے جسے ”خورون لُوا“ (لفظی معنی: پناہ لینا) کہا جاتا ہے۔ یہ تقریب عموماً ”سترادھیکاروں“ کی زیرِ نگرانی منعقد ہوتی ہے، جو ستر نامی خانقاہی اداروں کے سربراہ ہوتے ہیں اور جن کا روحانی سلسلہ عموماً شنکردیو سے ملتا ہے۔ تاہم بعض سترادھیکار (بالخصوص برہما سنگھٹی سے تعلق رکھنے والے) ابتدائی دور کے کچھ اختلافات کی بنا پر شنکردیو سے اپنے روحانی سلسلے کے انتساب کو مسترد کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر کے کچھ اصلاحی ادارے ”ستر“ سے باہر بھی ”خورون لوا“ کی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ ”ایک شرن دھرم“ کی ترویج کرنے والے ان اداروں، یعنی ستر (خانقاہوں) اور دیہاتی نام گھروں (عبادت گاہوں) نے آسام کی سماجی ساخت کے ارتقا پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس تحریک کے بطن سے جنم لینے والی تخلیقات نے ادب، موسیقی (بور گیت یا آسمانی نغمے)، تھیٹر (انکیا ناٹ) اور رقص (ستریہ رقص) کی نئی اصناف کو جلا بخشی۔

اس فرقے کے مقدس مذہبی متون میں ”شنکردیو کا بھاگوت“ شامل ہے، جو شری منت شنکردیو اور ایک شرن دبستان کے دیگر ابتدائی ارکان نے سنسکرت کی بھاگوت پران سے اخذ کر کے مرتب کیا تھا۔ اس کتاب کے ساتھ اجتماعی گائیکی کے لیے نغموں کی دو کتابیں بھی نہایت اہم ہیں: ایک شنکردیو کی تحریر کردہ کیرتن گھوشا اور دوسری مادھو دیو کی تصنیف نام گھوشا۔ یہ تمام کتابیں آسامی زبان میں لکھی گئی ہیں۔

اس مسلک کو ”مہا پورشیا“ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ”مہاپرش“ (سنسکرت میں مہا یعنی عظیم اور پرش یعنی ہستی) کی پرستش پر ہے جو بھاگوت میں اعلیٰ ترین روحانی شخصیت کا لقب ہے۔ اس کے ماننے والوں کو اکثر ”مہا پورشیا“ یا ”شنکری“ کہا جاتا ہے۔ گذرتے زمانہ کے ساتھ ”مہا پرش“ کا لقب ثانوی طور پر ان کے عظیم معلمین یعنی شنکردیو اور مادھو دیو کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔ ہندوؤں کے ذات پات کے روایتی نظام (ورن) سے عدم وابستگی اور ویدک کرم (رسومات) سے بیزاری اس فرقے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ اگرچہ اسے ہندوستان گیر ”بھکتی تحریک“ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم دیگر ویشنو مکاتب فکر کے برعکس یہاں کرشن کے ساتھ رادھا کی پوجا نہیں کی جاتی۔ اس فرقے کی پہچان عبادت کی ”داسیہ“ شکل (یعنی غلامانہ نیاز مندی) ہے۔ تاریخی طور پر یہ مسلک ذات پات کی تفریق کے خلاف، بالخصوص ہندومت کے دیگر فرقوں (جیسے شکتی مت) میں رائج جانوروں کی قربانی کا مخالف رہا ہے۔ اپنی مساوات پسندی کی بنا پر اس نے برہمنی ہندومت کی سخت مزاحمت کی اور تمام ذاتوں، نسلوں اور مذاہب (حتیٰ کہ اسلام) سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے حلقہ میں داخل کیا۔

عبادت معبود اور تصور نجات

[ترمیم]

ایک شرن مذہب کے بانی معلمین اور مابعد کے قائدین کی تمام تر توجہ بنیادی طور پر "بھکتی" (عقیدت و محبت) کی مذہبی مشق پر مرکوز رہی اور فلسفیانہ موشگافیوں کی باقاعدہ اور منظم وضاحت سے احتراز برتتے رہے۔[2] تاہم شنکردیو اور مادھو دیو کی ضخیم تصانیف میں بکھرے ہوئے حوالے اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ ان کے الہیاتی نظریات کی جڑیں بھاگوت پران میں پیوست ہیں،[3] جس پر شری دھر سوامی کی تفسیر "بھاوارتھ دیپیکا" کے توسط سے ادویت ویدانت کا گہرا اثر جھلکتا ہے۔[4] اس کے باوجود شنکردیو نے ان متون کی جو تعبیر و تشریح کی ہے وہ بیک وقت "اچھوتی اور جدید" تسلیم کی گئی۔[5] محققین کا خیال ہے کہ ان متون کی لفظ بہ لفظ پیروی نہیں کی گئی، بلکہ تحریروں میں جا بجا انحراف نظر آتا ہے، خصوصاً ان مقامات پر جہاں اصل فلسفیانہ مواد "ایک شرن دھرم" کے مرکزی نصب العین یعنی "بھکتی" کے تصور سے متصادم ہے۔[6]

فطرت الہی

[ترمیم]

اگرچہ ایک شرن دھرم غیر شخصی معبود (نرگن برہم) کا اعتراف کرتا ہے، تاہم یہ "ذاتِ شخصی" (سگن برہم) کو لائق عبادت قرار دیتا ہے،[7] جس کی جلوہ گری اس فرقے کو بھاگوت پران کے نارائن میں نظر آتی ہے۔[8] وہ واحد وصف جو شخصی ہستی کو غیر شخصی ہستی سے ممیز کرتا ہے، "فعلِ تخلیق" ہے،[9] جس کی مدد سے نارائن نے بساطِ ہستی بچھائی۔ گوڑیہ ویشنو مت کے برخلاف یہ دھرم برہم، پرماتما اور بھگوت کے مابین کسی ثنویت یا فرق کا قائل نہیں ہے، بلکہ "ایک شرن" کے نزدیک یہ واحد حقیقتِ کبریٰ کے مختلف القاب و علامات ہیں۔[10]

اگرچہ لفظ "نارائن" بعض اوقات "وشنو" کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن دیوتاؤں یعنی وشنو، برہما اور شیو کو الوہیت کے نچلے مدارج پر فائز سمجھا گیا۔[11]

نارائن ایک شخصی وجود و معبود کی حیثیت سے شفیق اور لائقِ محبت ہستی ہے اور ایسی ہمہ گیر صفات سے متصف ہے جو خوشہ چینانِ محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ وہ وحدہُ لا شریک، قادرِ مطلق اور عالمِ الغیب و الشہود ہے؛ کائنات کا خالق و پالنہار اور اسے فنا کرنے والا وہی ہے۔ وہ "کرونا مئے" (سراپا رحمت)، "دین بندھو" (بے کسوں کا یار)، "بھکت وتسل" (عقیدت مندوں کا دلبر) اور "پتت پاون" (گناہ گاروں کا مسیحا) جیسی اخلاقی خصوصیات کا مالک ہے اور عبادت گزاروں کا مرکزِ توجہ بناتی ہیں۔ اگرچہ یہ مسلک دیگر دیوتاؤں کے وجود کا منکر نہیں، لیکن اس کا پختہ دعویٰ ہے کہ صرف نارائن ہی لائقِ پرستش ہے اور دیگر تمام ہستیاں اس دائرے سے قطعاً خارج ہیں۔

کرشن

[ترمیم]

بھاگوت پران کے تتبع میں ایک شرن میں والہانہ عقیدت کا مرکز و محور کرشن ہیں، جو بذاتِ خود حقیقتِ مطلقہ ہیں۔[12][13] کائنات کی تمام دیگر قوتیں ان کے زیرِ نگیں ہیں۔[14] برہم، وشنو اور کرشن اصلاً ایک ہی جوہر کے مختلف اسما ہیں۔[15] اس دبستانِ فکر میں صرف کرشن ہی اوجِ کمال پر فائز معبود ہیں۔ شنکردیو کے کرشن درحقیقت وہی نارائن ہیں جو "پرم برہم" (روحِ برتر) ہیں، وہ محض وشنو کا ایک مظہر یا اوتار نہیں بلکہ خدا کی اپنی ذات ہیں۔[16] یہ مذہب نارائن (کرشن) کو اس بساطِ عالم کا "علت" (سبب) اور "معلول" (نتیجہ) دونوں گردانتا ہے،[17] اور اس امر پر زور دیتا ہے کہ صرف نارائن ہی تنہا حقیقت ہے۔[18] فلسفیانہ زاویے سے وہ "پرم برہم" ہیں۔ حواس پر حکمرانی کے سبب جوگی انھیں "پرماتما" پکارتے ہیں اور جب وہ اس کارخانۂ قدرت سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں تو "بھگونتا" کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔[19] نیز دوسرے فلسفوں میں جو صفات غیر شخصی خدا کے لیے مخصوص تھیں، یہاں انھیں نئی اور لطیف تعبیرات کے ساتھ نارائن سے منسوب کر دیا گیا۔[20]

"جیو" اور تصورِ نجات

[ترمیم]

وہ خودی جو قالبِ بشری میں مقید ہے، اسے "جیو" یا "جیو آتما" کہا جاتا ہے اور یہ نارائن ہی کا عکس ہے۔[21] یہ "خودی" مایا کے دبیز پردوں میں ملفوف ہے اور اسی سبب سے مصائب کی اسیر ہے،[22] جب انا (اہنکار) کی نفی ہو جاتی ہے تو "جیو" خود کو برہم کے روپ میں پانے لگتا ہے۔[23] "جیو" کو "مکتی" (نجات) کی دولت اس وقت نصیب ہوتی ہے جب وہ اپنی اصل فطرت پر لوٹ آتا ہے (یعنی جہالت و مایا کا پردہ چاک ہو جاتا ہے)۔ اگرچہ دیگر ویشنو دبستان فکر (رامانج، نمبارک، ولبھ، چیتنیہ) محض "ودیہا مکتی" (موت کے بعد کی نجات) کے قائل ہیں، لیکن ایک شرن کے اساتذہ نے اس کے پہلو بہ پہلو "جیون مکتی" (حیاتِ دنیوی میں نجات) کا نظریہ بھی پیش کیا۔[24] "ودیہا مکتی" کی پانچ اقسام میں سے،[25] ایک شرن "سا یوجیہ" کی صورت کو مسترد کرتا ہے، کیونکہ خدا میں کلی طور پر ضم ہو جانا "جیو" کو اس مٹھاس، لذت اور سرور سے محروم کر دیتا ہے جو "بھکتی" کا خاصہ ہے۔ اس طرح "بھکتی" نجات کے حصول کا محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ بذاتِ خود منزل اور مقصد ہے اور ایک شرن کے لٹریچر میں اس پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے۔ مادھو دیو اپنی "نام گھوشا" کا آغاز ہی ان عشاق کی خدمت میں خراجِ تحسین سے کرتے ہیں جو نجات کے مقابلے میں "عقیدت و بندگی" کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔[26]

کرشن اور نارائن کا اتصال

[ترمیم]

نارائن کی تجلی اکثر "اوتاروں" کی صورت میں نمودار ہوتی ہے اور ان میں کرشن کو سب سے کامل مظہر تسلیم کیا جاتا ہے جو کوئی جزوی ظہور نہیں بلکہ خود نارائن کی مکمل ہستی ہے۔[27] نارائن کی پرستش عموماً کرشن ہی کے روپ میں کی جاتی ہے۔ کرشن کی یہ تصویر کشی بھاگوت پران کے اس تصور پر استوار ہے کہ وہ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ "ویکنٹھ" میں جلوہ افروز ہیں۔ چنانچہ یہ لائق عبادت شکل کرشن سے منسوب دیگر فرقوں (چیتنیہ کے رادھا کرشن، ولبھ آچاریہ کے گوپی کرشن، نام دیو کے رکمنی کرشن اور رامانند کے سیتا رام) سے بالکل منفرد اور ممتاز ہے۔[28] شنکردیو اور مادھو دیو کے افکار میں عقیدت کا یہ رنگ "داسیہ" (نیاز مندانہ غلامی) اور "بالیہ بھاؤ" (طفلانہ معصومیت و عقیدت) کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔ "مدُھرا بھاؤ" (عاشقانہ وارفتگی)، جو دیگر مسالک میں جزو اعظم خیال کی جاتی ہے، یہاں سرے سے مفقود ہے۔[29]

اصول اربعہ

[ترمیم]

چار وستو یا چار اصول جو اس مذہبی نظام کی اساس سمجھے جاتے ہیں، درج ذیل ہیں:

  1. نام: خدا کے اسما کا ورد کرنا اور اس کی صفات کے گیت گانا۔ عمومی طور پر اس میں چار نام سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں: رام، کرشن، نارائن، ہری۔[30]
  2. دیو: صرف ایک ہی معبود یعنی کرشن کی عبادت و پرستش کرنا۔[31]
  3. گرو: مرشدِ کامل یا روحانی پیشوا کے لیے دل میں حد درجہ عقیدت و احترام رکھنا۔[32]
  4. بھکت: عقیدت مندوں (بھکتوں) کی سنگت، باہمی رفاقت یا ان کا اجتماع۔

شنکردیو نے پہلے، دوسرے اور چوتھے اصول کی تعریف و تعیین کی تھی، جب کہ تیسرا اصول یعنی "گرو" کی مرکزیت مادھو دیو نے بیلاگوری کے مقام پر اس وقت متعارف کرائی جب انھوں نے شنکردیو کو اپنے اور اپنے عقیدے کے تمام پیروکاروں کے لیے مرشدِ برحق تسلیم کیا۔[33] ان چاروں اصولوں کی حقیقت سے بیعت (خورون لوا) کے وقت پردہ اٹھایا جاتا ہے اور ان کے باطنی معانی کی وضاحت کی جاتی ہے۔

کتب اربعہ

[ترمیم]

اس دبستانِ فکر میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل مذہبی کتاب شنکردیو کی بھاگوت ہے، بالخصوص اس کی دسویں کتاب ("دکشما") کو کلیدی مقام دیا گیا ہے۔ یہ شاہکار پندرھویں اور سولھویں صدی عیسوی میں اصل سنسکرت بھاگوت پران سے استفادہ کر کے آسامی زبان میں تحریر کیا گیا۔ اگرچہ اس عظیم علمی خدمت کی انجام دہی میں دس مختلف اشخاص نے حصہ لیا، لیکن اس کا سہرا بنیادی طور پر شری منت شنکردیو کے سر ہے، جنوں نے اس متن کے دس کے قریب ابواب (مکمل و جزوی) کو اپنی فصاحت آمیز آسامی زبان کے قالب میں ڈھالا۔[حوالہ درکار]

اس مذہب میں تین دیگر تصانیف کو بھی خاص عقیدت اور بلند مقام حاصل ہے: اول کیرتن گھوشا جو شنکردیو کے قلم سے ہے؛ دوم نام گھوشا اور سوم "رتناولی" یہ دونوں مادھو دیو کی فکرِ رسا کا نتیجہ ہیں۔

فرقے

[ترمیم]
کینٹلی (1984ء، صفحہ 170) کے مطابق ایک شرن دھرم کی مختلف شاخیں۔ یاد رہے کہ دامودر دیو اور ہری دیو کے پیروکار اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے شنکردیو سے بیعت کی تھی۔

شری منت شنکردیو کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد یہ مذہب چار "سنگھٹیوں" (ذیلی فرقوں) میں منقسم ہو گیا۔ شنکردیو نے اپنی زندگی میں قیادت کی ذمہ داری مادھو دیو کے سپرد کی تھی، لیکن دامودر دیو اور ہری دیو کے پیروکاروں نے مادھو دیو کی سیادت کو تسلیم نہیں کیا اور اپنا ایک الگ گروہ تشکیل دے دیا جو "برہما سنگھٹی" کہلاتا ہے۔ مادھو دیو نے اپنی وفات کے وقت کسی کو جانشین نامزد نہیں کیا تھا، چنانچہ ان کے بعد تین مختلف رہنماؤں بھوانی پوریا گوپال اتا ("کال سنگھٹی")، شنکردیو کے پوتے پروشوتم ٹھاکر اتا ("پروش سنگھٹی") اور متھورا داس برہا گوپال اتا ("نیکا سنگھتی") نے اپنے جدا جدا مسالک قائم کر لیے۔ ان گروہوں کا بنیادی اختلاف "چار وستو" (چار بنیادی اصولوں) پر ہے، بعض کسی اصول پر کم اور بعض کسی اصول پر زیادہ زور دیتے ہیں۔

برہما سنگھٹی

[ترمیم]

برہما سنگھٹی کا ظہور اس وقت ہوا جب دامودر دیو اور ہری دیو نے شنکردیو کے جانشین مادھو دیو کی قیادت سے علاحدگی اختیار کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس سنگھٹی نے برہمنی قدامت پسندی کے کچھ اجزا کو دوبارہ اپنا لیا۔ وہ ویدک رسومات جن کی دیگر سنگھٹیوں میں ممانعت ہے، یہاں جائز قرار دی گئیں۔ برہمنوں کے لیے بھی یہ فرقہ پرکشش ثابت ہوا اور روایتی طور پر اس گروہ کے بیشتر ستروں (خانقاہوں) کے سربراہ (سترادھیکار) برہمن ہی رہے ہیں۔ "چار وستو" میں سے اس گروہ میں "دیو" (خدا) پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور دیوتا (وشنو اور ان کے اہم اوتاروں، کرشن اور رام) کے مجسموں کی پوجا کی اجازت ہے۔ گروؤں میں دامودر دیو کو سب سے اعلیٰ مقام حاصل ہے اور بعد میں ان کے پیروکار انھی کی نسبت سے "دامودریہ" کہلائے۔

پرش سنگھٹی

[ترمیم]

پرش سنگھٹی کی بنیاد مادھو دیو کی وفات کے بعد شنکردیو کے پوتوں — پروشوتم ٹھاکر اور چتربھج ٹھاکر — نے رکھی۔ اس فرقے میں تمام تر زور "نام" (ذکرِ الٰہی) پر دیا جاتا ہے۔ گروؤں کے مراتب میں شنکردیو کو ایک منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ یہاں برہمنی رسومات اور مورتی پوجا کی کسی حد تک گنجائش موجود ہے۔

نیکا سنگھٹی

[ترمیم]

اس سنگھٹی کا آغاز بدلا پدما آتا، متھرا داس اور کیشوا آتا نے کیا۔ ان کا بنیادی فلسفہ "ست سنگ" (صالحین کی صحبت) پر مبنی ہے۔ اسے "نیکا" (پاک و صاف) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے مذہبی معاملات اور عام طرزِ زندگی میں طہارت اور صفائی کے وہ سخت اصول وضع کیے جو مادھو دیو نے طے کیے تھے۔ یہاں بت پرستی کی سختی سے ممانعت ہے اور مادھو دیو کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔

کال سنگھٹی

[ترمیم]

گوپال آتا (بھوانی پور کے گوپال دیو) کی قائم کردہ اس سنگھٹی کا نام ان کے مرکز "کلجر" کے نام پر رکھا گیا، جس کا محور "گرو" کی ذات ہے۔ اس فرقے میں "سترادھیکار" کو "دیو" (خدا) کا مجسم روپ تصور کیا جاتا ہے اور عقیدت مندوں کو ان کے سوا کسی اور کے سامنے سرِ نیاز خم کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ فرقہ قبائلی اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات کو "مہا پُرُشیا" حلقے میں شامل کرنے میں بہت کامیاب رہا، جس کی وجہ سے اس کے پیروکاروں کی تعداد تمام سنگھٹیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں کا "دیہنگ ستر" شاہی سرپرستی میں رہا، جب کہ سب سے بڑے "موامریا ستر" نے ایک آزاد راستہ اختیار کیا اور اسی مسلک کے پیروکار شاہانِ اہوم کے خلاف موامریا بغاوت کی روح رواں تھے۔[34]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. سارما (Sarma 1966, p. 41)، کینٹلی (Cantlie 1984, p. 258) اور برمن (Barman 1999, p. 64) اسے ”ایک شرن“ کہتے ہیں اور دوسرے محققین ”ایک شرن ہری نام دھرم“ کہتے ہیں، جو لفظ ”دھرم“ کی مزید وضاحت کرتا ہے۔
  2. اگرچہ ویشنو مت کے کئی مکاتبِ فکر (رامانج، مادھو، نمبارک، ولبھ آچاریہ) کے اپنے مستقل فلسفیانہ رسائل موجود تھے، لیکن شنکردیو اور چیتنیہ کے ہاں ایسا کوئی رجحان نہیں ملتا۔ اگرچہ جیو گوسوامی نے چیتنیہ کے علمی کاموں کو مرتب کیا، لیکن شنکردیو کے پیروکاروں کی جانب سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ (Neog 1980, pp. 222–223)
  3. "شنکردیو اس قابل تھے کہ وہ نئے عقیدے کی تبلیغ کر سکیں جسے انھوں نے اپنے اور اپنے صوبے کے مخلص سالکوں کے لیے منضبط کیا تھا اور جس کی بنیاد انھوں نے گیتا اور بھاگوت پران کے فلسفیانہ اصولوں پر رکھی تھی۔" Suniti Kumar Chatterji۔ "The Eka-sarana Dharma of Sankaradeva: The Greatest Expression of Assamese Spiritual Outlook" (PDF)۔ 2012-11-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-29
  4. "آسامی ویشنو مت کی الہیاتی اساس کی تشکیل میں بھاگوت پران کا اثر نہایت واضح ہے اور شری دھر سوامی کی وحدت الوجودی تفسیر ویشنوؤں کے تمام طبقوں میں بے حد مقبول ہے۔" (Sarma 1966, p. 26)
  5. "اگر ارتقا یا فکری وابستگی کا کوئی سوال ہو سکتا ہے تو وہ براہِ راست گیتا اور بھاگوت سے ہوگا جسے شنکردیو نے پڑھا اور اپنے مخصوص انداز میں اس کی تشریح کی جو اچھوتی بھی تھی اور جدید بھی۔" (Neog 1963, p. 4)۔ ہلادھر بھویان، جو عصرِ حاضر کے ایک شرن فرقے 'شنکر سنگھ' کے بانی ہیں، اس سے اتفاق کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: "شری نیوگ اب حتمی طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ شنکردیو کا فلسفہ ان کا اپنا ہے اور ان کا مذہب اتنا ہی طبع زاد ہے جتنا دنیا کے کسی بھی عظیم مبلغ کا مذہب۔" (Neog 1963, p. vii)
  6. مثال کے طور پر "بھاگوت پران کے وہ ابواب جہاں پنچ راتر الہیات زیرِ بحث آئی ہے، آسامی مترجمین نے انھیں یکسر نظر انداز کر دیا ہے کیونکہ 'ویوہا' (Vyuha) کا نظریہ آسامی ویشنو مت کی الہیات میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔" (Sarma 1966, p. 27)؛ "بھاگوت پران کی پہلی کتاب کی وہ نہایت عمیق فلسفیانہ دعائیہ آیت (منگلا چرن) جس کی شری دھر نے وحدت الوجودی نقطہ نظر سے سیر حاصل شرح لکھی ہے، شنکردیو نے اسے اپنے ترجمے سے مکمل طور پر خارج کر دیا ہے۔" جب کہ اصل متن میں "سانکھیہ کے بانی کپل خدا کے اوتار ہیں" اور یہاں "سانکھیہ" اور "یوگا" کو "بھکتی" کے تابع کر دیا گیا۔ (Neog 1980, p. 235)۔ مزید برآں "جہاں شری دھر کی تفسیر ان کے ایک شرن دھرم سے براہِ راست ٹکراؤ کی صورت پیدا کرتی ہے، وہاں انھوں نے شری دھر کی آرا سے انحراف کرنے میں ذرہ برابر تامل نہیں کیا۔" (Sarma 1966, p. 48)
  7. "آسامی ویشنو صحیفے خدا کے 'نرگن' یعنی غیر متعین پہلو کا انکار کیے بغیر اس کے 'سگن' پہلو پر زیادہ زور دیتے ہیں۔" (Sarma 1966, p. 27)
  8. "کیرتن کی پہلی دو سطروں میں یہی نغمہ چھیڑا گیا ہے: 'آغاز ہی میں مَیں اس ابدی برہم کی بارگاہ میں سرِ نیاز خم کرتا ہوں جو نارائن کی صورت میں تمام اوتاروں کی اصل ہے'۔" (Sarma 1966, p. 27)
  9. نمی نوا سدھ سمباد، آیات 187–188 (Sarma 1966, p. 27)
  10. ایکیرسی تینی نام لکھشن بھیداتا، نمی نوا سدھ سمباد آیات 178–181 (شنکردیو) (Sarma 1966, p. 30)
  11. نمی نوا سدھ سمواد، آیت 178 (شنکردیو)؛ انادی پاتن آیات 163–167 (شنکردیو) (Sarma 1966, p. 31)
  12. Sonaram Chutiya۔ "Srimad-Bhāgavata : The Image of God" (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-29
  13. Lakshminath Bezbaroa (2004ء)۔ A Creative Vision: – Essays on Sankaradeva and Neo-Vaishnava Movement in Assam (PDF)۔ Srimanta Sankar Kristi Bikash Samiti۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-11-03۔ کرشن ان کے نزدیک سب سے برتر معبود تھے
  14. "Fundamental Aspects of Sankaradeva's Religion – Monotheism"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-27
  15. Sonaram Chutiya۔ "The Real Philosophy of Mahāpurusism" (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-29
  16. "Fundamental Aspects of Sankaradeva's Religion – Monotheism"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-27
  17. کیرتن VIII (Sarma 1966, p. 29)
  18. "بھکتی رتناکر"، آیت 111 (Sarma 1966, p. 29)
  19. Bina Gupta۔ "Lord Krishna's Teachings and Sankaradeva"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-11-02
  20. مثال کے طور پر لفظ 'نراکار' نارائن کے لیے ان معنوں میں مستعمل ہے کہ ان کی کوئی عام یا مادی صورت نہیں ہے ("پراکرت آکار ورجت") (Sarma 1966, p. 28)
  21. "اگرچہ میں جسم سے وابستہ ہوں مگر میں اس سے ہم آہنگ نہیں ہوں: میں درحقیقت پرماتما ہوں۔ میں برہم ہوں اور برہم مجھ میں ہے"، شنکردیو، "بھاگوت" کتاب XII آیات 18512-18518 (Sarma 1966, p. 33)
  22. شنکردیو، "بھکتی رتناکر"، آیت 773 (Sarma 1966, p. 35)
  23. شنکردیو، "بھاگوت" (Sarma 1966, p. 34)
  24. (Sarma 1966, p. 41)
  25. (1) سالوکیہ (خدا کے ہم نشین ہونا)؛ (2) سامیپیہ (خدا کے قرب میں ہونا)؛ (3) ساروپیہ (خدا کی صورت پانا)؛ (4) سارشٹی (خدا جیسی عظمت پانا) اور (5) سا یوجیہ (خدا کی ہستی میں ضم ہونا)
  26. (Sarma 1966, pp. 41–42)
  27. بھاگوت پران 1/3/28 پر مبنی (Sarma 1966, p. 32)
  28. (Murthy 1973, p. 233)
  29. (Sarma 1966, p. 32)
  30. (Neog 1980, p. 348)
  31. (Neog 1980, pp. 347–348)
  32. "خورون لوا" (بیعت) کے وقت شنکردیو اور مادھو دیو، دونوں کا تذکرہ سلسلے کے اصل گرو کے طور پر کیا جاتا ہے، اگرچہ اکثر تنہا شنکردیو ہی کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔ (Neog 1980, pp. 349–350)
  33. (Neog 1980, p. 346)
  34. (Neog 1980, p. 155)

مزید پڑھیے

[ترمیم]