ایک کبڑی عورت کو شفا بخشنا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسیـح بیـمار عـورت کـو شـفا دیـتے ہوئـے از مـصور James Tissot، ۔1886ء-1896ء کـی تـصویر

ایک کبڑی عورت کو شفا بخشنا یا بیمار عورت کا یسوع سے شفا پانا انجیـل لوقا میں مذکور ایک معجزۂ مسیـح ہے۔ سبت کے دن یسوع ایک عبادت گاہ میں درس فرما رہے تھے کہ معاً آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جس کی کمر جھکی اور سیدھی نہیں ہوتی تھی۔ وہ اٹھارہ برس سے اسی قابلِ رحم حالت میں تھی۔ یسوع نے اسے قریب بلا کر فرمایا:
"بی‌بی، آپ کو اِس بیماری سے چھٹکارا مل گیا"۔ اور اس نے اس پر ہاتھ رکھے۔ اسی دم وہ سیدھی ہو گئی اور خدا کی تمجید کرنے لگی۔ عبادت گاہ کا پیشوا اس لیے کہ یسوع نے سبت کے دن شفا بخشی، خفا ہوکر لوگوں سے کہنے لگا "ہفتے میں چھ دن ہیں جن پر کام کرنا جائز ہے۔ اُن پر آ کر شفا کیوں نہیں پاتے؟ سبت کے دن کیوں آتے ہو؟" یسوع نے یہ سن کر فرمایا:
"اے ریاکارو! کیا ہر ایک تم میں سے سبت کے دن اپنے بیل یا گدھے کو تھان سے کھول کر پانی پلانے نہیں لے جاتا؟ پس کیا واجب نہ تھا کہ جو ابرہام کی بیٹی (مطلب آل ابراہیم میں سے) ہے اور جسے شیطان نے 18 سال سے باندھ کر رکھا تھا، سبت کے دن اِس بندھن سے چھٹکارا نہیں ملنا چاہیے؟"
آپ کی اس حقیقت افشانی سے یسوع کے سب مخالف شرمندہ ہوئے لیکن عوام ان کا رہائے عالیشان کے باعث خوش ہوئے۔[1]

تفسیر[ترمیم]

عبادت گاہ کے پیشوا کی اس نکتہ چینی پر کہ یسوع نے سبت کے دن کیوں اس عورت کو شفا بخشی آپ نے شریعت پرستوں کے دو رخے اور سخت و نامناسب معیار کی مذمت فرمائی۔ وہ اپنی سہولت کی رعایت کرتے ہوئے تو سبت کے دن کئی کاموں کو روا سمجھتے تھے مگر انہوں نے اس غریب عورت کے شفاپانے کو عدولی شریعت قرار دیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انجیل شریف بہ مطابق لوقا باب 13 آیت 12 تا 17
  2. سیرت المسیح ابن مریم، مصنف ایک شاگرد، مترجم وکلف اے۔ سنگھ