اے آر خاتون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
A R Khatoon
اے آر خاتون
اے آر خاتون.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1900  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 24 فروری 1965 (64–65 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
پاکستانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ناول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

اے آر خاتون یا امت الرحمن (پیدائش: 1900ء - وفات: 24 فروری، 1965ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو کی مشہور و معروف ناول نگار تھیں جنہوں نے تصویر اور افشاں جیسے لازوال ناول لکھے۔ ان کی تحریروں میں برصغیر کے مسلمان معاشرے کی تہذیبی اور اخلاقی اقدار کی بنتی بگڑتی تصویر نمایاں نظر آتی ہے اور یہی ان کی تخصیص بھی ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

اے آر خاتون 1920ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں [1][2][3]۔ ان کا اصل نا م امت الرحمٰن تھا۔ بچپن ہی سے انہیں لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا اور انہوں نے اپنے شوق اور جستجو سے گھر کے اندر رہتے ہوئے نہ صرف تعلیم مکمل کی بلکہ مضمون نگاری کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ ان کے مضامین وقتاً فوقتاً رسالہ عصمت میں شائع ہوتے رہے۔[4]

ناول نگاری[ترمیم]

1929ء میں انہوں نے اپنا پہلا ناول شمع تحریر کیا جو اپنے دلکش انداز تحریر کی وجہ سے بے حد پسند کیا گیا۔ اس ناول نے اردو میں ناول نگاری کی روایت کو آگے بڑھایا۔ شمع کے بعد ان کا دوسرا ناول تصویر تھا۔ یہ ناول بھی شمع کی طرح بے حد پسند کیا گیا۔ اس کے بعد تو اے آر خاتون کے ناولوں کی قطار لگ گئی۔ افشاں، فاکہہ، چشمہ، ہالا اور رُمانہ ان کے ایسے ہی چند ناول ہیں جنہوں نے شائع ہوتے ہی دھوم مچادی۔[2]

اسلوب و اختصاص[ترمیم]

اے آر خاتون کے ناولوں میں کہانی اور کردار میں یکسانی پائی جاتی ہے[1] تاہم ان ناولوں میں برصغیر کے مسلمان معاشرے کی تہذیبی اور اخلاقی اقدار کی بنتی بگڑتی صورت حال صاف دکھائی دیتی ہے اور یہی ان کے ناولوں کا اختصاص بھی ہے اور مقبولیت کا سبب بھی۔[2]

پاکستان آمد[ترمیم]

تقسیم ہند کے بعد اے آر خاتون پاکستان منتقل ہوگئیں۔[1]

ڈرامائی تشکیل[ترمیم]

اے آر خاتون کے کئی ناول پاکستان ٹیلی ویژن سے پیش کیے جاچکے ہیں جو بے حد مقبول ہوئے۔ جن میں افشاں، تصویر اور شمع خاص طور پر بہت مشہور ہوئے[2]۔ ان ناولوں کی ڈرامائی تشکیل فاطمہ ثریا بجیا نے دی۔

تصانیف[ترمیم]

  • افشاں
  • ہالہ
  • تصویر
  • شمع
  • چشمہ
  • رُمانہ[5]
  • فرحانہ
  • زیور
  • عصمہ

وفات[ترمیم]

اے آر خاتون 24 فروری، 1965ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئیں۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]