اے غزال شب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ئ

اے غزال شب
اے غزال شب.jpg
مصنف مستنصر حسین تارڑ
ملک Flag of پاکستانپاکستان
زبان اردو
صنف ناول
ناشر سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
تاریخ اشاعت
2010ء
ذرائع ابلاغ مطبوعہ (مجلد)
صفحات 296
آئی ایس بی این 978-969-35-2595-3

اے غزال شب پاکستان سے 2010ء میں شائع ہونے والا اردو زبان کا ناول ہے جسے پاکستان کے معروف مصنف مستنصر حسین تارڑ نے تخلیق کیا ہے۔ اس ناول کا عنوان ن م راشد کے شعری مجموعہ لا = انسان کی ایک نظم سے لیا گیاہے۔ جو قاری تارڑ کے اسلوب سے آشنا ہیں انہیں اس ناول میں تارڑ کا فن اپنے عروج پر ملتاہے ۔

مواد[ترمیم]

مستنصر حسین تارڑ نے ماسکو میں اپنے قیام کے دوران جن حالات و واقعات کا مشاہدہ کیا اور ماسکو کی سفید راتیں میں تحریر کیا اس کا عکس اگر چہ جا بجا نظر آتا ہے لیکن اس ناول میں انداز بیاں، گہرائی و گیرائی کا جواب نہیں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب آکے تارڑ کا فن اپنے کمال کو پہنچا ہے ۔۔[1] "اے غزال شب" سوویت یونین کے زوال کے بعد، پھیکے پڑچکے سرخ رنگ کی کہانی ہے جس میں لینن کے مجسمے پگھلا کر صلیبیں بنائی جا رہی ہیں اور کرداروں میں اُکتاہٹ بڑھ رہی ہے۔ اکتاہٹ، جو ان میں واپس اپنے وطن آنے کی خواہش جگاتی ہے، وہاں قیام کرنے کی غرض سے نہیں کہ اب وہاں اُن کا اپنا کوئی نہیں، فقط نامعلوم میں جھانکنے کے لیے۔ اور جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں، تو شوکی جھوٹا سامنے آتا ہے۔ ایک عجیب و غریب کردار جس کا تخیل گم شدہ چیزوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور قارئیں ناول کے چار کرداروں ہی کے زمرے میں آتے ہیں، اُس کی زبان سے سنتے ہیں [2]

"اے غزال شب" خوابوں کی شکست و ریخت کا ایک مربوط اور گُتھا ہوا قصّہ ہے۔ اُن پاکستانیوں کا حزنیہ، جنھوں نے مساوات پر مبنی اُجلے معاشرے کا سپنا دیکھا۔ سوویت یونین قبلہ ٹھہرا۔ نظریات اپنے وطن سے میلوں دور لے گئے۔ کوئی ماسکو میں جا بسا، کسی نے برلن کو ٹھکانہ بنایا، کسی نے بوداپیسٹ میں خود کو دریافت کیا۔ اپنا وطن چھوڑ کر نئی زمینوں پر ذات کا بیج بویا۔ مزدوروں کے راج میں وہ خوش تھے کہ اچانک سب ڈھے گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام نے کاری وار کیا۔ سوویت یونین منہدم ہوا۔ اپنی جڑوں سے کٹ چکے ان انسانوں کی زندگیاں یک دم بدل گئیں۔ اِس بدلاؤ نے اُن کی سماجی اور نفسیاتی زندگیوں کو اتھل پتھل کر دیا۔ ’’اے غزال شب‘‘ اُس اتھل پتھل کی بپتا ہے۔ ایسی بپتا، جس کے کچھ حصوں سے آپ اختلاف تو کر سکتے ہیں، مگر اُسے خود میں گہرا اترنے سے روک نہیں پائیں گے۔ اِس ناول میں تارڑ کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ آوارہ گردی کا وسیع تجرباتی رنگ دیکھتا ہے۔ تخیلاتی جست نئے امکانات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ ہے تو بیانیہ تکنیک میں، مگر نیاپن بیانیے کے ساتھ چلتا ہے۔ ایک مقام پر خود ناول نگار قاری سے مخاطب ہو کر چونکا دیتا ہے۔ اور اختتامیہ میں ایک نیا کرشن نمودار ہوتا ہے۔[3]

تبصرے و آراء[ترمیم]

معروف ناول نگار عبداللہ حسین کتاب کے بارے میں کہتے ہیں،

اے غزال شب میرا پسندیدہ ناول ہے۔

اقبال خورشید کتاب اور مصنف کے بارے میں کہتے ہیں [2]،

"اے غزال شب" کے مصنف کا کمال یہ ہے کے ہم اُس کے وسیلے زمان و مکان کے کسی اور ٹکڑے میں سانس لیتی زندگیوں سے جڑ جاتے ہیں۔ وہ ایک بڑے ناول نگار کی طرح، جو کہ وہ ہے، فقط حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ ان عناصرِ زندگی کو بھی گرفت میں لاتا ہے جس حقیقت تخلیق ہوتی ہے۔ فقط جزئیات نگاری پر کمر بستہ نہیں، بلکہ ہمیں جزئیات میں موجود ایک مشترکہ احساس تک رسائی فراہم کرتا ہے، جو شاید رائگانی کا ملال ہے۔ شاید اسی نوع کی قابلیت اور مہارت کی بنا پر ڈی ایچ لارنس نے ناول نگار کو سائنس دان، فلسفی اور شاعر سے برتر ٹھرایا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ اپنے ناول کے بارے میں کہتے ہیں،[4]

ان کا یہ ناول ایک المیے کے بارے میں ہے جو سوویت یونین کے ختم ہونے سے پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین اپنے خاتمے سے پہلے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تعلیمی وظیفے دیا کرتا تھا جن کے تحت وہ وہاں پڑھنے جایا کرتے تھے۔ وہ اس کے روسی زبان سیکھتے تھے اور پھر وہاں جا کر روسی میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ لیکن جب وہ تعلیم مکمل کر لیتے تو ان کی یہ تعلیم پاکستان میں کسی کام کی نہیں ہوتی تھی کیونکہ ایک تو یہاں وہاں کی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا پھر وہ ایک ایسی زبان میں تعلیم حاصل کر کے آتے تھے جو یہاں بولی نہیں جاتی تھی۔ اس لیے یہ بھی ہوتا کہ تعلیم کے لیے جانے والے نوجوان وہاں ملازمت کی کوشش کرتے ان میں سے اکثر وہاں شادیاں بھی کر لیتے۔ یوں بھی کہا جاتا تھا کہ روسی عورتیں مردوں کی شکاری ہوتی ہیں۔ ان معنوں میں کہ یہ نوجوان جاتے تھے تو وہاں بھی نوجوان لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے اگر انہیں نوجوان معقول لگتے ہوں گے تو وہ کیوں شادیاں نہیں کرتی ہوں گی۔ اس صورت میں یہ نوجوان وہاں بس جاتے یا لڑکیوں کو لے کر آ جاتے اور ایسا کم ہی ہوتا۔ لیکن جب سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا تو وہاں بس جانےوالے لوگوں کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوئے۔ ایک تو وہاں کے لوگوں میں ردِ عمل پیدا ہوا اور انھوں نے کہا کہ یہ لوگ یہاں سے جاتے کیوں نہیں۔ دوسری طرف ان لوگوں کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اب کہاں جائیں۔ یہ کہانی ان لوگوں کا المیوں پر مشتمل ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]