اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز
| Logo of the Khan Research Laboratories.gif
| |
| قیام | 31 جولائی 1976ء[1] |
|---|---|
| میدان تحقیق | قومی سلامتی Fundamental science |
| مقام | کہوٹہ in راولپنڈی, Punjab, پاکستان |
| الحاقات | *گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور |
| Operating agency | مختاریہ قومی کمان (پاکستان) |
| موقع حبالہ | krl.com.pk |
ڈاکٹر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں انھوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی ـ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاءالحق نے تبدیل کرکے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہےـ
مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کے لیے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائیل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ادارے نے پچیس کلومیٹر تک مارکرنے والے ملٹی بیرل راکٹ لانچرز، لیزر رینج فائنڈر، لیزر تھریٹ سینسر، ڈیجیٹل گونیومیٹر، ریموٹ کنٹرول مائن ایکسپلوڈر، ٹینک شکن گن سمیت پاک فوج کے لیے جدید دفاعی آلات کے علاوہ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کے لیے متعدد آلات بھی بنائےـ
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Shaikh Aziz (26 جولائی 2015)۔ "{{subst:PAGENAME}} leaf from history: Defending Kahuta"۔ DAWN.COM
- پاکستان میں نویاتی طرزیات
- برنامج نویاتی اسلحہ پاکستان
- پاکستان کی عسکری تحقیق سہولیات
- پاکستان کے تحقیقی ادارے
- پاکستان میں تاریخ علوم اور طرزیات
- پاکستان میں تجربہ گاہیں
- پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی
- پاکستان میں سائنس پارک
- پاکستان میں نیوکلیائی توانائی
- پاکستان میں 1976ء کی تاسیسات
- پنجاب، پاکستان
- جامعہ کراچی
- حکومت ذوالفقار علی بھٹو
- گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
- منصوبہ-706