بئر معونہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بئر معونہ۔ یہ ایک کنواں ہے۔ جو بنی سلیم کی ملکیت تھا یہ علاقہ بنو عامر اور حرہ بنو سلیم کے درمیان واقع ہے

  • صفر4 ہجری میں واقعہ بئر معونہ پیش آیا سریہ رجیع اور بئر معونہ ایک ہی واقعہ کا نام ہے یہ بنو عامر بن صعصہ کا کنواں تھامکہ اور مدینہ کے درمیان ابلی پہاڑ کے قریب واقع ہے
  • انس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی لشکر کے لیے اتنا پریشان ہوتا نہیں دیکھا جتنا کہ ان ستر صحابہ کی وجہ سے پریشان ہوئے کہ جنہیں بئر معونہ میں شہید کر دیا گیا جن کو قراء کے نام سے پکارا جاتا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہینہ ان شہداء کے قاتلوں کے خلاف بد دعا فرماتے رہے۔[1][2]

مدینہ منوّرہ کا ایک کنواں جو بنو سلیم کی ملکیت تھا۔ یہ علاقہ بنو عامر اور حرہ بنوسلیم کے درمیان واقع ہے۔ اس کے آس پاس کا علاقہ بھی اسی نام سے موسوم ہے۔ تاریخ اسلام میں بئر معونہ کی اہمیت وہ واقعہ ہے جس میں کفار نے سازش کے ذریعےاسی مقام پر بہت سے بلند مرتبہ صحابہ کرام کو شہید کر دیا۔صفر 4 ھ کو بنو عامر کا ایک سردار ابوبراء عامر بن مالک الکلابی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی لیکن وہ اسلام نہ لایا نہ اس نے انکار کیا بلکہ اس نے عرض کی کہ اگر سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کچھ صحابہ کو اہل نجد کی طرف روانہ کر دیں جو نجدیوں کو دعوت اسلام دیں تو مجھے امید ہے کہ وہ اسلام لے آئیں گے اس پر رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ مجھے اہل نجد کی طرف سے ان لوگوں کے بارے میں خدشہ ہے۔ ابوبراء نے کہا کہ میں ان کی ضمانت دیتا ہوں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ستر صحابہ کرام جن میں حفاظ اور قّراء بھی شامل تھے کا وفد اس کے ساتھ روانہ کیا۔ جب یہ وفد بئر معونہ کے علاقے میں ٹھہرا تو حضرت حرام بن ملجان نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا نامہ مبارک لیکر بنو عامر کے سردار کے پاس گئے عامر نے خط پڑھے بغیر قاصد کا سرقلم کروادیا اور اپنے قبیلے کو وفد پر حملہ کرنے کو کہا لیکن قبیلے والوں نے انکار کر دیا کیونکہ ابوبراء نے وفد کو اپنی حمایت و حفاظت میں لے رکھا تھا جس پر اس نے بنو سلیم کو حملہ کرنے بھیجا۔تمام مسلمان لڑتے ہوئے شہید ہو گئے صرف حضرت کعب بن زید زخمی حالت میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکے۔ رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام کو شہداء بئرمعونہ کا شدید دکھ ہوا۔ ایک روایت کے مطابق تقریبا ایک ماہ تک آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہر نماز کے بعدشہداء بئر معونہ کے قاتلوں کے لیے بددعا فرماتے رہے۔یہ سانحہ 10 صفر 4 ہجری بمطابق یکم اگست 625 ء کو پیش آیا۔( شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1544
  2. انسائیکلوپڈیا سیرت النبی،سید عرفان احمد صفحہ50 زمزم پبلشر اردوبازار کراچی