بائبل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کتاب مقدس

کتاب مقدس یا بائبل (یونانی τὰ βιβλία) (انگریزی: Bible) یونانی لفظ۔ بمعنی کتب)[1] یہودیوں اور مسیحیوں کا ایک مذہبی کتب کا مقدس مجموعہ ہے۔ یہ مجموعۂ صحائف مختلف مقامات پر مختلف اوقات میں مختلف مصنفین نے تحریر کیے۔ یہود اور مسیحی بائبل کی کتابوں کو خدائی الہام یا خدا اور انسان کے درمیان رشتے کا ایک مستند ریکارڈ سمجھتے ہیں۔

یہودی بائبل[ترمیم]

یہود کے مذہبی ذخیرہ کتب کی بنیاد کتابِ بائبل کا پہلا حصہ ہے۔ جسے پرانا عہد نامہ یا عہدِ عتیق کہا جاتا ہے۔ بائبل کا دوسرا حصہ یعنی نیا عہد نامہ یہودی کتب پر نہیں مسیحی اناجیل اور دیگر مذہبی صحائف پر مشتمل ہے۔ بائبل کا لفظی معنی کتاب مقدس کیا گیا ہے۔ اس کے تراجم دنیا کی بیشتر زبانوں میں ملتے ہیں۔ پرانے عہد نامے کی کتابوں کی ترتیب یہ ہے:
1. تورات جس کا لفظی معنٰی قانون ہے۔ اس میں پانچ کتابیں شامل ہیں:[2] پیدائش، خروج، احبار، گنتی، استثناء۔ ناقدین کے خیال میں یہ تورات اصل تورات نہیں جو کم و بیش چار پانچ بار دنیا سے جل کر اور تباہ و برباد ہو کر ناپید ہو چکی ہے اور یہ بعد کی پیداوار ہے۔ ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ عزرا کاہن نے اسے اسیری بابل سے رہائی کے بعد موسٰی سے کافی عرصہ بعد اپنی زبانی یاداشت سے لکھا۔
2. نبییم جس میں بائیس کتابیں شامل ہیں۔ بعض خالص تاریخی اور بعض انبیا کی طرف منسوب ہیں۔ مثلاً یشوع، قضاۃ، سموئیل اول و دوم، سلاطین اول و دوم، تواریخ اول و دوم، یسعیاہ وغیرہ۔
3. کتبیم جس میں بارہ کتابیں شامل ہیں۔ زبور، امثال، ایوب، یرمیاہ، نحمیاہ، دانی ایل، حزقی ایل، نوحہ وغیرہ۔
ان کے علاوہ یہود کی مذہبی کتابوں میں تلمود کا ذکر بار بار آتا ہے۔ یہ روایات، قصص و حکایات، مذہبی احکام، اجتہادات وغیرہ کے مجموعے کا نام ہے۔ جو یہودیوں میں سینہ بسینہ چلا آیا اور دوسری صدی عیسوی میں ایک یہودی عالم یہوداہ ھا ناسی المعروف ربی نے اسے جمع کر ڈالا۔ مشناہ تھا۔ بالفاظ دیگر اسے تورات کی تفسیر کہہ سکتے ہیں۔ اس مجموعے کی مزید تشریح ہوتی رہی اور اُسے جمع کیا گیا تو اس کا نام گمارا رکھا گیا۔ ان دونوں مجموعوں کو تلمود کہا جاتا ہے۔ تلمود کی دو اقسام ہیں ایک شامی جو فلسطین میں تیار ہوا دوسرا بابلی جس کا مواد بزمانہ اسیریِ بابل اکٹھا ہوا۔ یہودیوں میں دونوں معتبر اور مستعمل ہیں۔ مگر اختلاف کے وقت ترجیح شامی کو دیتے ہیں۔

یہ بھی معلوم رہنا لازم ہے کہ پرانے عہد نامے کے دو نسخے ہیں: ایک عبرانی نسخہ جو یہودیوں میں مستعمل اور لائق استناد ہے۔ دوسرا نسخہ یونانی ہے جسے سپتواجنتا کہا جاتا ہے اور مسیحیوں میں معتبر و مستند ہے۔ مسیحیوں کے معتبر نسخے میں بھی پھر ان کے دو بڑے فرقے پروٹسٹنٹ اور کاتھولک کے نزدیک 19 کتب متنازع فیہ ہیں۔ کاتھولک انہیں صحیح مانتے ہیں اور پروٹسٹنٹ جعلی قرار دیتے ہیں۔ جو کتب صرف یونانی نسخے میں زائد ہیں انہیں اپاکرفا کہا جاتا ہے۔ موجودہ بائبل کی کتابوں میں بعض ان کتبِ یہود کا ذکر یا حوالہ موجود ہے جو شامل مجموعہ نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کتابیں گم ہو چکی ہیں۔ ان کی تعداد ڈیڑھ درجن تک جا پہنچتی ہے۔ غرض بائبل کی کتب موجودہ و غیر موجودہ کا معاملہ بہت مشکوک ہے۔ رحمت اللہ کیرانوی نے اپنی کتاب ”اظہار الحق“ میں دعویٰ کیا ہے کہ بائبل کی شروع کی پانچ کتب یعنی توارت تحریف اور ترمیم و اضافہ کا شکار ہوئی ہیں اس میں کئی تضاد ہیں۔ رحمت اللہ کیرانوی اظہار الحق میں لکھتے ہیں کہ یہود و مسیحیوں کا ایمان ہے کہ تورات خود موسٰی نے لکھی تو اس میں خود موسٰی کی وفات کا ذکر کیسے ہے اور لکھا ہے کہ آج کے دن تک کوئی ان کی قبر کو نہیں جانتا۔ مصنف کے بقول اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتاب موسٰی کی وفات کے کافی عرصے بعد مدون ہوئی تھی اور اس کتاب میں بعض ایسے واقعات موجود ہیں جو بعد میں پیش آئے۔

مسیحی بائبل[ترمیم]


مسیحیوں کی مقدس کتاب، جس میں عہد نامہ قدیم (عتیق) کی 39 کتب، عہد نامہ جدید کی 27 کتب اور کیتھولک مجموعہ میں ایپوکریفا کی کتب بھی شامل ہیں۔

بائبل عبرانی زبان میں تھی۔ بعد ازاں یونانی، قطبی اور شامی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ انگریزی ترجمہ 1610ء میں بہ عہد جیمز اول شائع ہوا۔ اسے 47 مسیحی علما نے چھ سال کے عرصے میں مکمل کیا تھا۔ جرمن ترجمہ مشہور جرمن مذہبی رہنما اور پروٹسٹنٹ مسیحی مارٹن لوتھر نے کیا۔ بائبل کا اب تک ایک ہزار زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔

مسیحیوں کے نزدیک بائبل 2 حصوں پر مشتمل جو عہدنامہ جدید اور عہدنامہ قدیم کہلاتی ہیں۔

  • عہد نامہ قدیم (یا عہدِ عتیق) : یہ حصہ کائنات کی تخلیق سے یسوع مسیح سے 400 سال پہلے تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس میں یسوع مسیح سے پہلے کے پیغمبروں کے تحریر کردہ صحائف شامل ہیں۔
  • عہد نامہ جدید (یا عہدِ جدید): اس حصہ میں یسوع مسیح کے رسل کی طرف سے لکھے گئے خطوط اور ان رسل کے واقعات شامل ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Miller & Huber، Stephen & Robert (2003)۔ The Bible: the making and impact on the Bible a history.۔ England: Lion Hudson۔ صفحہ 21۔ آئی ایس بی این 0-7459-5176-7۔ 
  2. [1] The Restored New Testament: A New Translation with Commentary, Including the Gnostic Gospels Thomas, Mary, and Judas by Willis Barnstone – W. W. Norton & Company. p. 647