بابا شرف الدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بابا شرف الدین
معلومات شخصیت
پیدائش 19 ستمبر 1190  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 17 ستمبر 1288 (98 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق
ہندوستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
استاد ابوحفص شہاب الدین سہروردی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ طبیب نباتی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

بابا سید شرف الدین سہروردی ایک عراقی صوفی بزرگ تھے جو عراق عرب سے ہندوستان دکن تشریف لائے۔ وہ علی بن ابی طالب کی تیرہویں نسل اور سید محمود بن سید احمد کے فرزند تھے۔

زندگی اور تعلیم[ترمیم]

16 شعبان المعظم 586ھ کو عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ علی بن ابی طالب کی تیرہویں نسل سے تھے، ان کے والد کا نام سید محمود بن سید احمد تھا۔ بغداد میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں ان کے والد نے انہیں قرآن کی تعلیمات سکھائی تھیں۔ بغداد مولد تھا جہاں عمر کے 45 سال گزارے۔ علوم ظاہری و باطنی کی وہیں پر تحصیل و تکمیل کی۔

دستار فضیلت اور خرقہ خلافت عالم شہاب الدین سہروردی سے حاصل کیا اور ان کے ہمراہ ہندوستان تشریف لے آئے۔ ملک بھر میں 9 سال تک سفر کرنے کے بعد وہ آخر کار سنہ 1229ء میں دکن آ گئے۔ وہ پہلے دولت آباد گئے اور بالآخر حیدرآباد (اس وقت تک شہر کی بنا نہیں ہوئی تھی) کے نواح میں پہاڑی پہ فروکش ہو گئے۔ نو سال کے طویل عرصے تک انہوں نے پہاڑی کے غاروں میں عبادت تنہائی میں گزارا۔ بعد ازاں وہ باہر آگئے اور گاؤں والوں کے درمیان اپنا وقت گزارا انہیں حسن عمل اور ضابطۂ اخلاق کا درس دیا اور اسلام کی تعلیمات کی تبلیغ کی۔

مرتبہ[ترمیم]

بابا شرف الدین بڑی دانشور اور سادہ شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے سادہ زندگی بسر کی اور غریبوں کی بہت مدد کرتے تھے۔ وہ صبح کی عبادات اور دیر رات کی عبادت کے بعد بیماروں کے پاس جاتے اور ان کا جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے تھے۔ ہندو انہیں مہا دیو کا اوتار سمجھتے ہیں۔ جب بھی لوگ اپنے مسائل لے کر ان کے پاس آتے تو وہ انہیں اپنے خدا سے مدد مانگنے کی تلقین کرتے اور جب مسلمان ان کی برکات حاصل کرنا چاہتے بابا شرف الدین انہیں مسجد جانے کو کہتے تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمان دونوں کو بھائی چارے کا درس دیتے اور اپنے روحانی طاقتوں سے ان کے مسائل حل کرتے تھے۔

کرامات[ترمیم]

ان سے کئی کرامات منسوب ہیں۔ اس طرح کا ایک قصہ ایک دھوبی کے بارے میں ہے جس کا بیل گم ہو گیا۔ اپنے جانور کو دو ماہ تلاش کرنے کے بعد بالآخر وہ بابا کے پاس پہنچا۔ شرف الدین نے دیوتا کے بت کے سامنے پڑے ہوئے لفافے پر کچھ لائینیں کھینچیں اور اپنا جلال دکھایا۔ دھوبی مایوس ہو کر مندر سے باہر نکلنے لگا تو اس نے بت کے پیچھے اپنا بیل گھاس چرتے پایا۔ دھوبی یہ یہ قصہ باقی دیہاتیوں کو سنایا، جنہوں نے بھی بابا کی کرشماتی طاقتوں پر یقین کرنا شروع کر دیا۔

وفات[ترمیم]

19 شعبان المعظم 687ھ کو ایک سو ایک سال کی عمر میں وفات پا گئے اور پہاڑی پر ہی مدفون ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • "Sufi saint who solved common man's troubles"۔ تلنگانہ ٹوڈے۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • "حضرت بابا سید شرف الدین سہروردیؒ"۔ روزنامہ سیاست۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

کتابیات[ترمیم]

  • بستان الاولیاء
  • تذکرہ اولیائے حیدرآباد
  • تذکرہ اولیائے دکن
  • حدائق الاولیاء