بابا طاہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بابا طاہر ہمدانی
صوفی شاعر
پیدائش گیارہویں صدی
ہمدان، ایران
وفات گیارہویں صدی
ہمدان، ایران
محترم در اسلام
مزار ہمدان، ایران
مؤثر شخصیات فردوسی، سنائی غزنوی، خواجہ عبداللہ انصاری، حسین بن منصور حلاج، ابوسعید ابوالخیر، بایزید بسطامی
متاثر شخصیات مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی، حافظ شیرازی، شیخ احمد جام، عمر خیام بعد کے کئی صوفی شاعر
اصناف معرفت نظم

بابا طاہر ہمدانی المعروف بہ "عریاں " ایرانی شاعر، صوفی اور نامور عارف تھے ان کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوئیں حتیٰ کہ ان کی تاریخ وفات و پیدائش بھی معلوم نہیں مگر کہاجاتا ہے کہ وہ 1019ءمیں 75 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے سلجوقی دور حکومت کا زمانہ پایا۔ وہ اہل حق کے اسلامی گروہ سے تعلق رکھتے تھے حتیٰ ان کی ہمشیرہ بی بی فاطمہ بھی ایک نہائت اہم مرتبہ و مقام کی حامل تھیں۔ ان کا مشہور نام یا تخلص کا معنی بھی "عیاں " یا "عریاں "ہے۔ یعنی وہ معرفت کی اعلیٰ منزل کے راہی تھے۔ انہوں نے ایران کی مقامی زبانوں میں کافی اشعار، رباعیاں کہی ہیں ان کا کلام اعلیٰ معیار کا حامل اور اپنی جگہ نادر مثال ہے۔

مزاج[ترمیم]

پروفیسر براؤن ،،راحت الصدور،، کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ میں نے سناہے کہ جب سلطان ظفرل بیگ ہمدان آیا تو یہاں تین بزرگ صوفی بابا طاہر، بابا جعفراور شیخ ہمشہ اکھٹے رہتے تھے۔ یہ تینوں ہمدان کی پہاڑی خضر پر کھڑے تھے۔ سلطان کی نظر ان پر پڑی تو فوج کو ٹھرنے کا حکم دیا۔ تعظیما گھوڑے سے اترا، آگے بڑھ کر ان بزرگوں کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔ بابا طاہر نے کہا ،،اے ترک بادشاہ خدا کے بندوں کے ساتھ تم کیسا سلوک کروگے؟ سلطان نے جواب دیا ،، جو آپ مجھے حکم دیں گے ،، بابا طاہر نے کہا،،تمہیں وہ کرنا چاہیے جو خدا کا حکم ہو۔ بے شک خدا عدل و انصاف اور نیکو کاری کا حکم دیتا ہے۔ یہ سن کر ظفرل آبدیدہ ہو گیا اور کہنے لگا، میں اس کے حکم کی پیروی کروں گا۔ بابا طاہر کے ہاتھ میں مٹی کے لوٹے کا ٹوٹا ہوا دستہ تھا۔ ہاتھ اٹھا کر کہا کیا میری طرف سے یہ ﴿ہدیہ ﴾ قبول کروگے؟سلطان نے کہا ،،بسر و چشم،، بابا طاہر نے یہ دستہ سلطان ظفرل کی انگلی میں ڈال دیا اور اور کہا بس اسی طرح دنیا کی بادشاہت بھی تیرے ہاتھ آگئی۔ عدل وانصاف سے حکومت کرنا ،، کہا جاتا ہے کہ ظفرل اس دستے کو اپنے تعویزوں میں رکھا کرتا اور جب کسی مہم پر جاتا تو یہ دستہ انگلی میں ڈال لیتا ۔

طبیعت کی حساسیت[ترمیم]

بابا طاہر حساس اور درد مند دل رکھتے تھے، ان کی یاد گار چند قطعات ہیں جو رباعیات کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ قطعات بابا طاہر کے قلبی سوزوگداز کا پتہ دیتے ہیں اور بہت شیرین اور موثر انداز میں لکھے گئے ہیں۔ مسٹر ہیرن ایلن کی نظر میں بابا طاہر کا مقام۔ خفان بابا طاہر ،،کے نام سے انگریزی نثر میں ان کا ترجمعہ کیا ہے جس کے ساتھ مسز الزبتھ کرٹس برین ٹن کا منظوم ترجمعہ بھی شامل ہیں۔ بابا طاہر کے یہ قطعات مقامی بولی لُری میں لکھے گئے ہیں جو پہلوی زبان سے قریب تر ہے ۔

انداز بیان[ترمیم]

بابا طاہر کا انداز بیان سادہ ہے، خیالات بھی سادہ ہیں، ان میں فلسفہ یا گہرائی بھی نہیں ہے۔ آپ کے کلام میں بالعموم ان ہی واردات اور کیفیات کا ذکر ہے جن سے ہر صاحب دل کو واسطہ پڑھتا ہے۔ جو شخص ان کے کلام کو پڑھتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ انہوں نے ان کے دل کی ترجمانی کی ہے۔ آپ کے قطعات میں اخلاق و عرفان، ہجرو فراق، درد و غم میں دینی حالت و کیفیت کا اظہار بہت دلکش انداز میں کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے فقیرانہ اور دلیرانہ زندگی اختیا ر کر رکھی تھی جس کا نقشہ وہ اپنے اشعار میں بیان کر تا ہے۔ راہ سلوک پر چلنے اور محبوب حقیقی تک جا ملنے کے لیے جو تکالیف اور اذیتیں اٹھانی پڑھتی ہیں، بابا طاہر ان کا نمونہ اپنے اشعار میں یوں بیان کرتا ہے۔ مو آن رندم کہ نا مم بی قلندر نہ خان دیرم نہ مان دیرم نہ لنگر چو روج آیہ بگر دم گرد کو یت چو شو آیہ بہ خشتی و انہم عسس

یہ تو تھی بابا طاہر کی بیرونی کیفیت، اس کی اندرونی کیفیت یہ تھی کہ وہ آتش عشق میں جل رہے تھے اور دل فراق یا ر میں جھلس رہا تھا۔ ملا حظہ فرمائیں ؛

دلم از دست عشقت کثیرہ ویژہ مژہ برہم زنم سیلابہ خیژہ دل عاشق دربان چوب تربی سری شورہ سری خو نا بہ ریژہ رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں

مقبرہ[ترمیم]

باباطاہرہمدانی المعروف عریاں کا ہمدان میں مزار/مقبرہ
باباطاہر کے پرانے مقبرے کی تصویر


بابا طاہر ہمدانی عرف بابا طاہر عریاں کا مقبرہ ہمدان شہر کے شمالی داخلی راستے پر موجود ہے ان کے مزار کے گردا گرد پھول اور ہوادار روزن ہیں اس مقبرے کو 1970ء میں از سر نو تعمیر کیاگیاتھا بعد ازاں 1997ء میں ان عمارت کو ایران کے قومی تاریخی ورثے میں شامل کیا گیا۔ ایرانی قوم کی قدر دانی کا ایک نمونہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے باباطاہر ہمدانی کے کلام کو خوبصورت پتھروں کی سلوں پر تحریرکرواکے ان سلوں کو مقبرے کے گرد آویزاں کیا ہے۔

فارسی کلام کے نمونے[ترمیم]

مگر شیر و پلنگی ای دل ای دل

به مو دایم بجنگی ای دل ای دل

اگر دستم فتی خونت وریژم

بوینم تا چه رنگی ای دل ای دل

خداوندا کہ بوشم با کہ بوشم

مژه پر اشک خونین تا کہ بوشم

همم کز در برانن سو ته آیم

تو کم از در برانی واکه بوشم
مو آن بحرم کہ در ظرف آمدستم

مو آن نقطه کہ در حرف آمدستم

بهر الفی الف قدی بر آیه

الف قدم کہ در الف آمدستم

نگارینا دل و جونم ته دیری

همه پیدا و پنهونم ته دیری

ندونم مو کہ این درد از کہ دیرم

همی ذونم کہ در مونم ته دیری[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]