بابا فخرالدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید بابا فخر الدین سہروردی پنگنڈہ ، آندھرا کے مشہور بزرگ ہیں یہ معروف ہیں میٹھے شاہ ولی سہروردی کے نام سے۔

ولادت[ترمیم]

سید فخر الدین جو 564ھ میں پیدا ہو ئے ان کے والد سید حسین ابن سید ابو القاسم ایران کے وسط میں ’’ سیستان‘‘کی ایک ریاست تھی جس کے عادل بادشاہ تھے

تعلیم و تربیت[ترمیم]

چھ مہینہ کی ہی مدت میں آپ نے قرآن شریف حفظ کر لیا اور بہت جلد علوم مروجہ میں کافی دسترس حاصل کی ۔

بادشاہت[ترمیم]

آپ کے والد بزرگ گوار نے آپ کی ذکاوت اور ذہانت دیکھ کر آپ کو اپنا جا نشین بنا لیا اور آپ کو اپنی ہی زندگی میں کار وبار سلطنت میں حصہ لینے کا موقع دیا۔تقریباً اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی والد بزرگوار کی وفات کے بعد بلا شرکت غیر پچیس سال کی سن میں آپ کو بادشاہ سیستان بنا دیا گیا۔

بادشاہت سے کنارہ کشی[ترمیم]

سید بابا فخر الدین کا ارادہ پہلے سے بادشاہ بننے کا ہی نہ تھا وہ چاہتے تھے کہ کہ اپنے چچا زاد بھائی سید علی کو بادشاہ بنا دیں لیکن امرا و وزرا اور تمام رعایا کے تقاضے سے آپ نے بادشاہی اختیار کی ۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ سید بابا فخر الدینؒ دربار میں عدل وانصاف فرما رہے تھے اس وقت ایک تاجر چند عمدہ گھو ڑے لا یا جن میں ایک گھوڑا بہت عمدہ اور تیز رفتار تھا اس گھو ڑے کو دیکھ کر آپ نے ادھر توجہ کی اور عدل وانصاف کے کام سے ذرا سی دیر کے لیے رک رہے تھوڑی دیر کے بعد عدل وانصاف کی طرف متوجہ ہوئے آپ کو اپنا تھوڑی دیر کے لیے عدل وانصاف کو چھوڑ کر گھوڑے کی طرف مائل ہو نا بہت ہی برا معلوم ہوا علما کو بلا کر فتویٰ طلب کیا ایک جید عالم نے اس کا کفارہ ترک بادشاہی بتلایا اوریہ حدیث پڑھی ۔ الدنیا جیفۃ وطالبھا کلاب (یعنی دنیا مردار ہے اور اس کا طلبگا ر کتا ہے)اس حدیث نے آپ کے دل پر بہت اثر کیا اس راست باز عالم سے خوش ہو کر اسے انعام واکرام دیا اور فوراً تخت شاہی سے اتر کر تاج کو سر سے اور مہر کو انگشتری سے نکال ڈالا۔ آپ نے فوراً منا دی کرادی چھوٹے بڑے سب حاضر در بار ہوں بڑے بڑے امرا وزرا تجار رعایا حاضر دربار ہوئے آپ نے ان کے روبرو ایک تقریر کی اور سب کو راضی کر لیا کہ آپ کے بھائی سید مرتضیٰ کو آپ بادشاہی دیویں گے اور اس دربار میں بھائی سے عدل وانصاف کا اقرار لے کر انہیں مالک تخت وتاج کر دیا اور جا بجا بجلی کی طرح یہ خبر پھیل گئی ۔

ورود کشمیر[ترمیم]

سید بابا فخر الدین نے سیستان کی بادشاہی اپنے بھائی سید مرتضیٰ کو اور ترکستان کی بادشاہی سید علی کو دیدی آپ سیستان سے چند وفا داروں کے ساتھ کشمیر تشریف لائے جب سرینگر پہو نچے تو وہاں کے راجا کے گھر میں ایک لڑکے کی پیدائش ہو ئی تھی نجومیوں نے اس لڑکے کی ولادت سے راجا کے راج کو زوال کا سبب بتایا تھا راجا نے اس بچے کو جنگل میں پھینک دیا جب کا گزر تین بعد وہاں سے ہوا تو اس روتے بچے کی آواز سن کر اپنے ساتھی عبد العزیز کو اس بچے کو اٹھا کر پالنے کی اجازت دیدی بچہ بھوک سے تڑپتا تھا آپ نے اس کے منہ میں انگشت شہا دت دیا تو اس سے دودھ نکلنے لگا اور اسی طرح وہ بچہ سیراب ہو تا رہا۔ سید علی ترکستان کی سلطنت چھوڑ کر حضرت کی تلاش میں آ گئے اور یہ دونوں حضرات ملکر ہمیشہ چلہ کشی اور روزہ دار رہا کرتے تھے۔ جمنا کے جنگل میںمختلف ریاضتیں کیں آپ حج سے فارغ ہو کر ہندوستان میں ترچنا پلی میں کھمم مٹھ میں ٹہرے آپ کو ایک شیخ کی تلاش ہوئی۔ آپ کو خواب میں مظہر ولی نے فرمایا کہ آپ میرے پاس چلے آئیے انشاء اللہ آپ کا مقصد بر آئے گا آپ نے خواب سے بیدار ہو کر اپنے بھائی کو سنایا یہ سن کر سب یار واحباب خوش ہو گئے۔ ادھر حضرت مظہر ولی نے اپنی لے پالک دختر ماما جگنی کوسید بابافخر الدین ؒ کے پاس بھیجا کہ انھیں بلا لائے حضرت کے حکم سے ماماں جگنی اپنے چند خادموں کو لیکر بابا فخر الدینؒ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے والد کا فرمان سنایا سب کھمم مٹھ سے چل کر ترچنا پلی آئے۔ مظہر ولی ؒ سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے قدم بوسی کی اور مظہر ولی نے گرم جوشی سے آپ کو گلے لگا لیا نے آپ کو آزمانے کے لیے بہت سی مشقتیں کرائیں آپ نے ہر کام کو سر انجام دہی میں بڑی جانفشانی سے کام لیا اس وقت بابا فخر الدینؒ کو قابل جو ہر جان کر آپ کو اپنا مرید بنایا اور اپنی خلافت دی ،خرقہ پہنایا اور ولایت کا ’’ پیالہ‘‘ پلایا اور سید علی مظہر ولی ؒ کے خادموں میں داخل ہو کر شرف حاصل کیا۔ یہاں اپنی طاقت آزمانے کے لیے سید بابافخر الدینؒ ایک سنگ خارا پر کھڑے ہو کر اپنے پاؤں دھنسائے دونوں پاؤں اس سنگ خارگا میں اتر پڑے آج تک یہ یاد گار نشان ترچنا پلی میں موجود ہے۔

وفات[ترمیم]

سید بابا فخر الدین کی وفات بروزجمعرات بارھویں تاریخ ماہ جمادی الثانی 694ھ میں ہوئی۔(سن وصال آج سے تقریباً 746 سال پہلے ہے [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قلندر برحق مولف: مولانا شاہ ابو الحسن ادیب