بابا وانگا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بابا وانگا
بابا وانگا
بابا وانگا

معلومات شخصیت
پیدائش 31 جنوری 1911  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سترومیتسا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 اگست 1996 (85 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
صوفیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سرطان پستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن بلغاریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بلغاری[1][2][3]
طبی کیفیت اندھا پن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بیماری (P1050) ویکی ڈیٹا پر
شوہر ڈیمٹر گشٹی رو
شادی 10 مئی 1942ء

بابا وانگا ایک بلغارین نابینا خاتون تھیں۔ جنہوں نے دنیا کے حالات سے متعلق کئی پیش گوئیاں کی تھیں۔ جن میں سے بعض حقیقت کے قریب تر تھیں۔ ان کی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی پیش گوئی بہت مقبول بھی ہوئی اور اس کے علاوہ کئی دیگر باتیں بھی اب تک کافی درست ثابت ہوچکی ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

بابا وانگا نامی خاتون31 جنوری 1911ء کو بلغاریہ کے شہر وینجیلا میں پیدا ہوئی۔ ان کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی۔ اس علاقے کی روایت تھی کہ بچے کا نام کسی اجنبی سے رکھوایا جاتا تھا۔ اس بچی کی پیدائش پر کسی کو اس کے بچنے کی امید نظر نہ آتی تھی مگر جب بچی کی حالت بہتر ہوئی تو اس کی دائی نے باہر گلی میں جا کر کسی اجنبی راہ گیر سے نام رکھنے کو کہا جس کے بعد باالآخر وینجیلا نام رکھا گیا۔[5]

اس کے والد پہلی جنگ عظیم کے دوران ایک سپاہی تھے۔ بعد میں انھوں نے دوسری شادی کر لی۔

وانگا بچپن سے نیلی آنکھوں اور سنہری بالوں کی وجہ سے خوبصورت تو تھی ہی ساتھ میں ذہین بھی تھی اور اسے روحانی علاج سے بھی دلچسپی تھی۔

وانگا کی زندگی میں وہ حادثہ ہوا جس نے اسے نابینا کر دیا۔ بہ قول اس کے کسی ہوائی بھنور/ طوفان نے اسے اٹھا کر اتنی دور پھینک دیا کہ وہ زخمی حالت میں ملی۔ اس کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں۔ اور تکلیف کے مارے اس سے آنکھیں نہیں کھولی جا رہی تھیں۔ اس کی بینائی ہر طرح کے علاج اور کوشش کے باوجود ختم ہو گئی۔[6]

1925ء میں اس نے نابیناؤں کے اسکول جانا شروع کیا۔ اور تین سال تک وہاں تعلیم حاصل کی۔ جہاں اس نے بریل رسم الخط کی لکھائی سیکھی، پیانو بجانا سیکھا اور سلائی کڑھائی اور پکانا سیکھا۔ سوتیلی ماں کی وفات کے بعد وہ اپنے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنے گھر آ گئی۔ اس کا گھرانہ کافی غریب تھا۔ تمام لوگ محنت مزدوری کرتے تھے۔ 1939ء میں اسے پھیپھڑوں کی ایک بیماری Pleurisy ہوگئي جس کے بعد ڈاکٹروں نے اسے جواب دے دیا تھا کہ وہ عنقریب مر جائے گی۔ مگر خلاف توقع وہ صحت یاب ہو گئی۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں اس کی روحانی قوتوں کی شہرت ہونے لگی۔ 1942ء میں اس کی شادی ہوئی- 11 اگست 1996ء کو اپنے آبائی شہر میں فوت ہوئی۔

وجہ شہرت[ترمیم]

وانگا خود واجبی سی تعلیم یافتہ تھی۔ اس نے خود کوئی کتاب نہیں لکھی تھی۔ بلکہ اس کی ساری باتیں اس کے پرستاروں / ملازموں نے تحریر کی تھیں۔ وانگا دعوی کرتی تھی کہ اس کو کسی ناقابل فہم ذریعے سے لوگوں کی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔ وانگا نے سوویت یونین ٹوٹنے، چرنوبل کے حادثے، اسٹالن کی تاریخ وفات، روسی آبدوز کرسک کی تباہی اور سانحہ گیارہ ستمبر کی پیش گوئیاں بھی کیں۔ .[7] کئی لوگوں کو خیال ہے کہ اس خاتون کے پاس مافوق الفطرت طاقتیں تھیں جس کی وجہ سے یہ مستقبل کی باتیں بتایا کرتی تھی۔

پیش گوئیاں[ترمیم]

  • 1989ء

میں اس خاتون بابا وانگا نے کہا تھا کہ امریکی لوگ انتہائی خوف میں مبتلا ہوں گے جب ان پر دو آہنی پرندے حملہ کریں گے اور ہر طرف دہشت کا راج ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پیشگوئی 9/11 کے بارے میں کی گئی تھی۔

  • 2010ء

نومبر میں تیسری عالمی جنگ شروع ہوگی جو اکتوبر 2014ء تک چلے گی،اس جنگ میں ایٹم بم اور کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔ یہ پیش گوئی اب تک غلط ثابت ہوئی ہے۔

  • 2014-2016

ان سالوں میں لوگ جلد کی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوں گے جبکہ جلد کا سرطان تیزی سے بڑھے گا۔ یہ کیمیائی ہتھیاروں کا رد عمل ہو سکتا ہے۔

  • 2018-2023

اس وقت کے دوران چین دنیا کی سپر پاور بن جائے گا۔ دنیا کے مدار میں ہلکی سی تبدیلی بھی ہوگی۔

  • 2025 - 2028

دنیا میں بھوک پر کچھ حد تک قابو پا لیا جائے گا جبکہ یورپ کے پاس توانائی کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔

  • 2033 - 2045

ان سالوں تک یورپ میں مسلمانوں کی حکومت آجائے گی۔ قطبین پر برف پگھلنے کی وجہ سے سمندروں کا لیول بلند ہو جائے گا۔

  • 2046 - 2070

انسانی اعضاء بنائے جا سکیں گے جس کی وجہ سے ان کی تبدیلی عام ہو جائے گی۔ امریکا مسلمانوں کے شہر پر حملہ کرے گا اور ایک نیا طرح کا ہتھیار استعمال کرے گا جس میں درجہ حرارت تیزی سے گر سکتا ہے۔

  • 2088 - 2167

ایک مصنوعی سورج کی وجہ سے رات کو ختم کیا جا سکے گا۔ انسان روبوٹ کی طرح ہوجائیں گے جبکہ چھوٹی قومیں جنگ کریں گی اور بڑی قومیں دور رہیں گی۔ جانور آدھے انسان بن جائیں گے اور ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی جائے گی۔

  • 2170 - 2256

مریخ پر موجود آبادی نیوکلیائی طاقت بن جائے گی اور دنیا سے آزادی کا مطالبہ کر دے گی۔

  • 2262 - 2304

سورج ٹھنڈا پڑ جائے گا اور اسے مصنوعی طور پر جلانے کی کوشش کی جائے گی لیکن یہ کوشش زیادہ کامیاب نہیں ہو گی۔

  • 2341 - 3805

کوئی خوفناک چیز خلاء سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہوگی اور ڈر ہوگا کہ یہ زمین سے ٹکرا جائے گی لیکن یہ خطرہ عین وقت پر ٹل جائے گا۔

  • 3815 - 3878

لوگ سائنس بھول جائیں گے اور جانوروں کی طرح رہنے لگ جائیں گے۔ پھر ایک شخص انہیں اچھی تعلیمات دے کر انسانیت کی طرف لائے گا۔

  • 4302 - 4674

آہستہ آہستہ دنیا میں انسانیت واپس آئے گی اور نئے شہروں کی بنیاد پڑے گی۔ شیطانیت دنیا سے ختم ہو جائے گی اور لوگ خدا کی طرف راغب ہو جائیں گے۔

  • 5079

اس سال دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Christianity and Modernity in Eastern Europe, Bruce R. Berglund, Brian A. Porter, Central European University Press, 2010, ISBN 963-9776-65-3, pp. 252-253; 265.
  2. Gender and Nation in South Eastern Europe, Anthropological yearbook of European cultures, Karl Kaser, Elisabeth Katschnig-Fasch, LIT Verlag Münster, 2005, ISBN 3-8258-8802-9, p. 90.
  3. Historical Dictionary of Bulgaria, Нistorical Dictionaries of Europe, Raymond Detrez, Rowman & Littlefield, 2014, ISBN 1-4422-4180-2, p. 57.
  4. NOTES FROM HISTORY: Baba Vanga
  5. According to Encyclopædia Britannica Eleventh Edition, at the beginning of the 20th century the Bulgarians constituted the majority of the population in the whole region of Macedonia. They are described in the encyclopaedia as "Slavs, the bulk of which is regarded by almost all independent sources as Bulgarians": 1,150,000, whereof, 1,000,000 Orthodox and 150,000 Muslims (the so-called Pomaks); Turks: ca. 500,000 (Muslims); Greeks: ca. 250,000, whereof ca. 240,000 Orthodox and 14,000 Muslims; Albanians: ca. 120,000, whereof 10,000 Orthodox and 110,000 Muslims; Vlachs: ca. 90,000 Orthodox and 3,000 Muslims; Jews: ca. 75,000; Roma: ca. 50,000, whereof 35,000 Orthodox and 15,000 Muslims; In total 1,300,000 Christians (almost exclusively Orthodox), 800,000 Muslims, 75,000 Jews, a total population of ca. 2,200,000 for the whole of Macedonia.
  6. The truth about Vanga, p. 42
  7. Press Review, Notes from History: Baba Vanga, by Lucy Cooper Mon 19 Dec 2005 [1]

Page text.[1]

  1. مستقبل دیکھنے والی نابینا خاتون کی پر اسرار زندگی کی انوکھی کہانی, ڈیلی پاکستان۔