باب:فقہ اسلامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
باب:اسلام
باب:قرآن
باب:جغرافیہ
باب:تاریخ
باب:ریاضیات
باب:سائنس
باب:معاشرہ
باب:طرزیات
باب:فلسفہ
باب:مذہب
باب:فہرست ابواب
اسلام قرآن جغرافیہ تاریخ ریاضیات سائنس معاشرہ طرزیات فلسفہ مذہب فہرست ابواب

باب فقہ اسلامی

Allah-green.svg

فقہ شریعت اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے، فقہ کا لغوی معنی ہے : ’’کسی شے کا جاننا اور اُس کی معرفت و فہم حاصل کرنا۔‘‘قرآن حکیم میں درج ذیل مواقع پر یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے :

1. قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ کَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ. (هود، 11 : 91)

ترجمہ: وہ بولے، اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔


2. قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللّهِ فَمَا لِهَـؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًاo (النساء، 4 : 78)

’’آپ فرما دیں (حقیقۃً) سب کچھ اللہ کی طرف سے (ہوتا) ہے۔ پس اس قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتےo‘‘


3. فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَo (المنافقون، 63 : 3)

ترجمہ: تو اُن کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی سو وہ (کچھ) نہیں سمجھتے۔

حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی فقہ کا لفظ سمجھ بوجھ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ يُرِدِ اﷲُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ. (بخاری، الصحيح، کتاب العلم، باب من يرد اﷲ به خيرا يفقهه فی الدين، 1 : 39، رقم : 71)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔

اسی لئے شرعی اصطلاح میں فقہ کا لفظ علمِ دین کا فہم حاصل کرنے کے لئے مخصوص ہے۔ (ابن منظور، لسان العرب، 13 : 522)

امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فقہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

الفقه : معرفة النفس، مَالَهَا وما عليها. (الزرکشی، المنثور، 1 : 68)

ترجمہ: فقہ نفس کے حقوق اور فرائض و واجبات جاننے کا نام ہے۔


بالعموم فقہاء کرام فقہ کی اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

العلم بالأحکام الشرعية العملية من أدلتها التفضيلية. (فواتح الرحموت بشرح مسلم الثبوت:۱/۱۳)

ترجمہ: تفصیلی دلائل سے شرعی احکام کو جاننے کا نام فقہ ہے۔

"شرعی احکام" سے مکلف کے افعال پر شریعت کی جانب سے جو حکم اور صفت مرتب ہوتی ہے وہ مراد ہے، جیسے کسی عمل کا فرض، واجب، مستحب یامباح یا اسی طرح حرام ومکروہ ہونا اور تفصیلی دلائل کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ کس دلیل شرعی پر مبنی ہے، کتاب اللہ پر، سنت رسول پر، اجماع پر، یا قیاس وغیرہ پر؛ اسی طرح حکم اور دلیل کے درمیان ارتباط کو جاننا بھی فقہ میں شامل ہے۔

مندرجہ بالا تعریفات واضح کرتی ہیں کہ فقۂ اسلامی سے مراد ایسا علم و فہم ہے، جس کے ذریعے قرآن و حدیث کے معانی و اشارات کا علم ہو جائے اور احکامات کی مخصوص دلائل کے ذریعے معرفت حاصل ہو، جیسے نماز کی فرضیت کا علم اَقِيْمُو الصَّلٰوۃ کے ذریعے حاصل ہوا، زکوٰۃ کی فرضیت کا علم اٰتُوا الزَّکٰوۃَ کے ذریعے حاصل ہوا۔

منتخب مقالہ

فقیہ فقہ (سمجھ) رکھنے والے کو کہتے ہیں. اس کی جمع فقہاء ہے۔ فقیہ وہ نہیں جسے فقہ کی جزیات یاد ہوں، بلکہ فقیہ سے مراد وہ شخص ہے جو مبادی (اصول) فقہ کا ماہر ہو، جسے حکم کے استخراج (استنباط) کرنے کا ملکہ (اہلیت) حاصل ہو. [مسلم الثبوت : 2/362] فقیہ وہ ہوتا ہے ، جو اللہ کے احکام اور دین کے مسائل کو قرآن کی آیتوں اور روایات سے سمجھتے ہوئے ان سے استدلال کرے یعنی دلیل لائے اور جو بھی مسئلہ پیش آئے اس میں دین اور مذہب کے نظریہ کو پہچان سکے اور اسے بیان کر سکے ۔ دین شناسی کے اس مقام تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک شخص ایک طولانی مدت تک حوزہ علمیہ میں ان علوم کو حاصل کرے جو دین کے مسائل میں ماہر ہونے کے لئے اسکی مدد کر سکیں ۔ جو اس درجہ اور مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اسلامی مسائل کو عقلی و نقلی استدلال کے ذریعہ سمجھ جائے ، اسے مجتہد اور ” فقیہ “ کہتے ہیں اور علم اور فقہ کے اس درجہ اور مرتبہ کو اجتہاد کہتے ہیں ۔عموماً ہر شخص کسی بھی مسئلہ میں اس مسئلہ کا علم رکھنے والے اور ماہر شخص کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ مثلاً بیماری میں ڈاکٹر ، مکان کی تعمیر میں انجینیر اور مستری اور مشینوں کے خراب ہوجانے کی صورت میں ، اس کا علم اور مہارت رکھنے والے شخص کی طرف رجوع کیا جاتا ہے ۔ سامنے کی بات ہے کہ اگر انسان خود دین میں ماہر نہ ہو اور اس کا علم نہ رکھتا ہو ، تو اپنا دینی وظیفہ جاننے اوراس پر عمل کرنے کے لئے فقہاء کی طرف رجوع کرے اور ان سے سوال کرے ۔ شریعت کے مسائل میں شرعی دلیلوں کی بنیاد پر مجتہد کی نظر کو فتویٰ کہتے ہیں اور لوگوں کے فقہاء کی طرف رجوع کرنے اور انکے فتوے پر عمل کرنے کو ” تقلید “ کہتے ہیں ۔

منتخب تصویر

Muhammad saw copy.jpg

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (570ء یا 571ء تا 632ء) دنیاوی تاریخ میں اہم ترین شخصیت کے طور پرنمودار ہوئے اور انکی یہ خصوصیت عالمی طور (مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں جانب) مصدقہ طور پر تسلیم شدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیاءاکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جنکو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کیلیۓ دنیا میں بھیجا۔ انسائکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمرمیں نازل ہوئی۔ انکا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبدمناف کے والد کا انتقال انکی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب انکی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہرضی اللہ عنہا بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جسکا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمت اللعالمین اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ نبوت کے اظہار سے قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی ، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرب قبائل میں صادق اور امین کے القابات سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا کثیر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز حضرت جبرائیل علیہ السلام (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل علیہ سلام نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام انسان کو پہنچایا وہ یہ ہے

منتخب شخصیت

780ء کو پیدا ہوئے اور 855ء کو وفات پائی۔ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے (مسند) کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ امام شافعی کی طرح امام احمد بن حنبل کی مالی حالت بھی کمزور تھی۔ لوگ انہیں بے شمار تحائف اور ہدیہ پیش کرتے لیکن آپ اپنے اوپر اس میں سے کچھ بھی نہ صرف کرتے سب کچھ بانٹ دیتے ۔

خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور نماز جنازہ پڑھی۔ عباسی خلافت کے آخری دور میں فقہ حنبلی کا بڑا زور تھا۔ پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی بھی حنبلی تھے۔ آج کل ان کے پیروکاروں کی تعداد گھٹ کر عرب کے علاقے نجد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ حنبلی علماء میں ابن تیمیہ کا شمار صف اول کے لوگوں میں کیا جاتا ہے۔

آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔

کیا آپ کو معلوم ہے۔۔۔

  • فقیہہ (انگریزی: Jurist) اس پیشہ ور کو کہتے ہیں جو قانون کا مطالعہ کرتا ہے یا دوسری صورت میں قانون سے متعلق کوئی رائے تیار کرتا ہے، جو بعد میں صلح و مشورہ کے کام دیتی ہے یا نیا قانون نافذ کرنے میں کام آتی ہے-
  • قرآن وحدیث کے کسی لفظ میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال، جیسے قرآن نے تین "قرؤ" کوعدت قرار دیا ہے "قرأ" کے معنی حیض کے بھی ہیں اور طہر کے بھی؛ چنانچہ حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم نے اس سے حیض کا معنی مراد لیا اور حضرت عائشہ، حضرت زید بن ثابتؓ نے طہر کا۔
  • بعض احادیث ایک صحابی تک پہنچی اور دوسرے تک نہیں پہنچی، جیسے جدہ کی میراث کے سلسلہ میں حضرت ابوبکرؓ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ آپﷺ نے اسے چھٹا حصہ دیا ہے، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلم نے شہادت دی کہ حضورﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ دیا ہے؛ چنانچہ اسی پر فیصلہ ہوا۔
  • بعض دفعہ حضورﷺ کے کسی عمل کا مقصد و منشاء متعین کرنے میں اختلافِ رائے ہوتا تھا، جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ طواف میں رمل کا عمل آپ نے مشرکین کی تردید کے لیے فرمایا، جو کہتے تھے کہ مدینہ کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور کرکے رکھ دیا ہے، یہ آپ کی مستقل سنت نہیں، دوسرے صحابہ اس کو مستقل قرار دیتے تھے، یا حج میں منی سے مکہ لوٹتے ہوئے وادی ابطح میں توقف، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عائشہؓ اسے سنت نہیں سمجھتے تھے اور اس کو حضور کا ایک طبعی فعل قرار دیتے تھے کہ اس کا مقصد آرام کرنا تھا؛ لیکن دوسرے صحابہؓ اسے سنت قرار دیتے تھے۔


ذیلی ابواب فقہ اسلامی


زمرہ جات

آپ سب کچھ کر سکتے ہیں

Appunti architetto franc 01.svg
  • فقہ اسلامی سے متعلق موضوعات پر اردو میں آپ مضامین لکھ سکتے ہیں۔
  • بالخصوص فقہ اسلامی کے بارے میں مضامین تحریر کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
  • فقہ اسلامی سے متعلق کتابوں کی تصاویر آپ کے پاس ہوں تو انہیں آپ یہاں رکھ سکتے ہیں۔


متعلقہ ویکیمیڈیا

فقہ اسلامی فقہ اسلامی فقہ اسلامی فقہ اسلامی فقہ اسلامی فقہ اسلامی فقہ اسلامی
ویکی اخبار
آزاد متن خبریں
ویکی اقتباسات
مجموعہ اقتباسات متنوع
ویکی کتب
آزاد نصابی ودستی کتب
ویکی منبع
آزاد دارالکتب
وکشنری
لغت ومخزن
ویکیورسٹی
آزاد تعلیمی مواد ومصروفیات
العام
انبار مشترکہ ذرائع
Wikinews-logo.svg
Wikiquote-logo.svg
Wikibooks-logo.svg
Wikisource-logo.svg
Wiktionary-logo-en.svg
Wikiversity-logo.svg
Commons-logo.svg