باب:کرکٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کرکٹ باب

کرکٹ کیا ہے؟

A bowler delivers the ball to a batsman during a game of cricket
A bowler delivers ball to a batsman
during a game of cricket۔

کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیموں کے درمیان میں کھیلا جاتا ہے۔ یہ کھیل گیند اور بلے کے ذریعے کھیلا جاتا ہے جس کا میدان بیضوی شکل کا ہوتا ہے۔ میدان کے درمیان میں 20٫12 میٹر (22 گز) کا مستقر بنا ہوتا ہے جسے پچ کہا جاتا ہے۔ پچ کے دونوں جانب تین، تین لکڑیاں نصب کی جاتی ہیں جنہیں وکٹ کہا جاتا ہے۔ میدان میں موجود ٹیم کا ایک رکن (گیند باز) چمڑے سے بنی ایک گیند کو پچ کی ایک جانب سے ہاتھ گھما کر دوسری ٹیم کے بلے باز رکن کو پھینکتا ہے۔ عام طور پر گیند بلے باز تک پہنچنے سے قبل ایک مرتبہ اچھلتی ہے جو اپنی وکٹوں کا دفاع کرتا ہے۔ دوسرا بلے باز جو نان اسٹرائیکر کہلاتا ہے گیند باز کے گیند کرانے والی جگہ کھڑا ہوتا ہے۔

عام طور پر بلے باز اپنے بلے کے ذریعے گیند کو مارنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کوشش کے دوران میں اپنے دوسرے ساتھی بلے باز کی جانب دوڑتا ہے اس طرح دونوں کو پچ پر ایک دوسرے کی جگہ پہنچنے پر ایک دوڑ ملتی ہے۔ وہ گیند بلے پر نہ لگنے کی صورت میں بھی دوڑ بناسکتا ہے۔ اگر گیند اتنی قوت سے وکٹوں کو ٹکرائے کہ اس پر رکھی گئی گلیاں زمین پر گرجائیں تو بلے باز میدان بدر کردیا جائے گا اس عمل کو آؤٹ ہونا کہتے ہیں۔ آؤٹ ہونے کی دیگر کئی اقسام بھی ہیں جن میں بلے باز کے بلے سے گیند لگ کر زمین پر گرنے سے قبل مخالف ٹیم کے رکن کا اسے پکڑلینا (کیچ)، بلے باز کی ٹانگ پر گیند کا اس وقت لگنا جب وہ وکٹوں کی سیدھ میں ہو (ایل بی ڈبلیو)، دوڑ مکمل کرنے سے قبل حریف ٹیم کا گیند وکٹوں پر ماردینا (رن آؤٹ) و دیگر شامل ہیں۔ کرکٹ بلے اور گیند سے کھیلا جانے والا کھیل ہے جس میں دونوں ٹیموں کا ہدف حریف ٹیم سے زیادہ دوڑیں بنانا ہے۔ ہر میچ کو دو باریوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں ایک ٹیم بلا اور دوسری گیند سنبھالتی ہے۔

ایک ٹیم کی باری اس وقت ختم ہوتی ہے جب اس کے تمام کھلاڑی آؤٹ ہوجائیں، مقررہ گیندیں ختم ہوجائیں یا اس کا قائد باری ختم کرنے کا اعلان کردے۔ باریوں اور گیندوں کی تعداد کھیل کی قسم پر منحصر ہے۔ کرکٹ میں دو اقسام کے کھیل کھیلے جاتے ہیں ایک "ٹیسٹ" دوسرا "ایک روزہ"۔ ٹیسٹ میچ 5 روزہ ہوتا ہے جس میں دونوں ٹیموں نے دو، دو باریاں کھیلنا ہوتی ہیں جبکہ ایک روزہ میں دونوں ٹیموں کو 300 گیندوں کی ایک باری ملتی ہے۔ فتح کے لئے بعد میں کھیلنے والی ٹیم کو حریف ٹیم سے زیادہ دوڑیں بنانا ہوتی ہیں لیکن اگر اس سے پہلے اس کے تمام 10 کھلاڑی میدان بدر ہوگئے تو حریف ٹیم میچ جیت جائے گی۔

 مزید دیکھیے کرکٹاور یہ قوانین، تاریخ، شماریات اور international structure۔
نیچے نئے منتخب مضامین دیکھیں (تازہ کریں)

منتخب مضمون

محمد یوسف۔

محمد یوسف (سابقہ نام یوسف یوحنا؛ پیدائش: 27 اگست 1974ء) سابق پاکستانی کرکٹر ہیں۔ 2005ء میں قبول اسلام سے قبل، یوسف کا شمار پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلنے والے چند مسیحی کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔

2009ء-2010ء میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے محمد یوسف کی قیادت میں آسٹریلیا کا دورہ کیا جہاں اسے شکست ہوئی۔ نتیجتاً پاکستان کرکٹ بورڈ نے تحقیقات کے بعد، 10 مارچ 2010ء کو محمد یوسف پر پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی۔ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انھیں آئندہ ٹیم کے لیے منتخب نہیں کیا جائے گا کیونکہ انھوں نے ٹیم میں انضباطی مسائل اور اندرونی رسہ کشی کو جنم دیا ہے۔

اس پابندی کے رد عمل میں، محمد یوسف نے 29 مارچ 2010ء کو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔

تمام منتخب مضامینمنتخب مضمون کے لیے رائے دیں۔.۔

منتخب فہرست

شاہد آفریدی نے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے خلاف 1998–99 میں 52 دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔، شاہد آفریدی پاکستان دورہ نیوزی لینڈ دسمبر 2010

کرکٹ کی اصطلاح میں (انگریزی: five-wicket haul، five-for یا fifer) سے مراد کسی بھی گیند باز کے لیے اولین میچ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹ لینا ہے۔ یہ کارکردگی بہت اعلی مانی جاتی ہے۔ جنوری 2015ء تک 144 کرکٹ کھلاڑی اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔ جن میں سے دس کھلاڑی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان کے کھلاڑی سات مختلف ممالک ، تین بار نیوزی لینڈ، دو بار آسٹریلیا اور ایک ایک بار بنگلہ دیش، بھارت، انگلستان، زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے خلاف اولین میچ میں پانچ وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔ ان دس مواقع پر پاکستان نے چار مرتبہ میچ جیتا جبکہ چھے مرتبہ میچ "بے نتیجہ" رہا۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے آٹھ مختلف مقامات پر اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا جن میں پانچ بیرون ملک مقامات اور تین بار نیشنل اسٹیڈیم، کراچی میں یہ اعزاز حاصل کیا۔

عارف بٹ پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے جنہوں نے اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے65-1964ء میں آسٹریلیا کے خلاف 89 سکور دے کر 6 وکٹ حاصل کیں۔(مکمل فہرست۔۔۔)

تمام منتخب فہرستیںمنتخب فہرست کے لیے رائے دیں۔.۔


منتخب تصویر

Cricket fielding positions2.svg

کرکٹ میں فیلڈنگ کے مقامات کے مقامات کرکٹ میں۔
Image credit: Miljoshi

تمام منتخب تصویریںمنتخب تصویر کے لیے رائے دیں۔.۔

خبروں میں

کرکٹ کی خبروں کے لیے، دیکھیں 2016ء میں بین الاقوامی کرکٹ اور 2014ء–15 میں بین الاقوامی کرکٹ
اس سال
جاری کرکٹ مقابلے

آج کے دن...

کرکٹ میں آج کا دن باب:کرکٹ/آج کا دن/اکتوبر/اکتوبر 12

کیا آپ جانتے ہیں...

سڈنی برنس

آئی سی سی درجہ بندی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم ہے۔ and produces team rankings for the various forms of cricket played internationally.

ٹیسٹ کرکٹ is the longest form of cricket, played up to a maximum of five days with two innings per side.

ایک روزہ بین الاقوامی cricket is played over 50 overs, with one innings per side.

Twenty20 International cricket is played over 20 overs, with one innings per side.

آئی سی سی ٹیسٹ چمپئین شپ
درجہ ٹیم میچ پوائنٹ ریٹنگ
1  بھارت 32 3925 123
2  جنوبی افریقا 26 3050 117
3  آسٹریلیا 31 3087 100
4  انگلستان 34 3362 99
5  نیوزی لینڈ 32 3114 97
6  پاکستان 31 2868 93
7  سری لنکا 31 2836 91
8  ویسٹ انڈیز 26 1940 75
9  بنگلہ دیش 17 1171 69
10  زمبابوے 9 0 0
ماخذ: آئی سی سی درجہ بندی، 18 مئی 2017
آئی سی سی ایک روزہ بین الاقوامی چیمپئین شپ
درجہ ٹیم میچ پوائنٹ ریٹنگ
1  جنوبی افریقا 50 5957 119
2  آسٹریلیا 47 5505 117
3  بھارت 36 4170 116
4  انگلستان 50 5645 113
5  نیوزی لینڈ 46 5123 111
6  پاکستان 41 3885 95
7  بنگلہ دیش 31 2905 94
8  سری لنکا 49 4553 93
9  ویسٹ انڈیز 32 2462 77
10  افغانستان 30 1618 54
11  زمبابوے 36 1640 46
12  آئرلینڈ 25 1028 41
ماخذ: ICC Rankings، 18جون 2017
آئی سی سی عالمی ٹوئنٹی/20 درجہ بندی
درجہ کرکٹ ٹیم میچ پوائنٹس ریٹنگ
1  نیوزی لینڈ 13 1625 125
2  انگلستان 13 1579 121
3  پاکستان 20 2417 121
4  بھارت 18 2119 118
5  ویسٹ انڈیز 18 2054 114
6  جنوبی افریقا 15 1668 111
7  آسٹریلیا 13 1431 110
8  سری لنکا 20 1896 95
9  افغانستان 25 2157 86
10  بنگلہ دیش 15 1168 78
11  سکاٹ لینڈ 11 737 67
12  زمبابوے 13 842 65
13  متحدہ عرب امارات 16 827 52
14  نیدرلینڈز 9 441 49
15  ہانگ کانگ 13 599 46
16  پاپوا نیو گنی 6 235 39
17  سلطنت عمان 9 235 39
18  آئرلینڈ 15 534 36
ماخذ: آئی سی سی درجہ بندی، 5 جون 2017ء

زمرہ جات

منتخب مواد

ویکیپیڈیا:ویکی منصوبہ کرکٹ/منتخب مواد

ابواب کیا ہیں؟ | فہرست ابواب | منتخب ابواب