باجوہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

[ترمیم]

سیالکوٹ - امرتسر اور ملتان میں ایک زراعت پیشه جٹ قبیله ـ اور ساهیوال میں ایک ہندو جٹ قبیله باجوه جٹ باجُو راجپوتوں سے نسلی قرابت رکهتے هیں

باجوه اور باجُو راجپتوتوں کا جد امجد بابا مانگا ہے اور شادیوں کے موقع پر باجُو راجپوت اس کی تعظیم کے لیے جنڈیاں اور چھتر جیسی رسوم پر عمل کرتے ہیں۔

ضلع سیالکوٹ میں جموں پہاڑوں کے دامن ميں واقع علاقے بجوات کا نام باجوه جٹوں اور بجُو راجپوتوں کے حوالے سے ہی ہے ـ

ظفروال میں باجوہ برادری بجوات سے آئی۔ جبکہ بجوات والوں کے اجداد پسرور سے تھے۔

ان کا کہنا ہے که وه سورج بنسی راجپوت هیں ـ اور ان کے جدامجد راجا شلیپ کو سکندر لودهی کے عہد میں ملتان سے بے دخل کیا گیا تها ـ اس کے دو بیٹے کلس اور لیس عقاب پالنے والوں کے بهیس میں فرار ہوئے ـ لیس جموں کی طرف گیا اور وہاں ایک کاٹل راجپوت عورت سے شادی کی جبکه کلس نے پسرور میں ایک جٹ لڑکی سے شادی کی۔ اور پسرور کے بعد ایک حویلی پسرور سے کچھ فاصلے پر جنوب کی سمت بسائی انہی کے نام کی مناسبت سے اس کا نام کلاسوالا پڑا۔

نادر سکھ باجوہ کا نام ان کے بعد زیادہ مقبول ہوا۔ ان کے نام پر نارووال شہر کی بنیاد ڈالنا اور کچھ رِوایات کی داغ بیل ڈالنا ہے۔ انہی روایات پہ آگے چل کر ان کے دو بیٹوں نے الگ الگ قصبوں کی بنیاد رکھی۔ ایک کا نام سوبھا تھا دوسرے کا نام صُوبا تھا دونوں کے قصبوں کا نام بالترتیب قلعہ سوبھا سنگھ اور قلعہ صُوبا سنگھ ہیں۔

کلاسوالا سے پھُوٹنے والی ایک اور بڑی شاخ چونڈہ میں بسی۔ سکندر پور باجوہ، قاضی پہاڑنگ اور اونچہ پہاڑنگ والے بھی جب اپنی جڑ ڈھونڈیں تو وہ کلاسوالا ہی ہے۔

جموں کے دامن میں پھُوکلیان سے لے کر نارنگ منڈی کے دامن اور گرداسپور تک 125 سے زیادہ گاوں قصبوں اور شہروں پر مشتمل اس علاقہ میں 84 سے زیادہ عملداریاں اور تعلقہ جات باجوہ برادری کے پاس تھے۔

چونڈہ اور اونچہ پہاڑنگ کی ذیلداریاں تاریخ میں معروف ہیں۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کے ڈیوڑھی دار اس دور میں کلاسوالا سے تھے۔ پسرور کی حویلی کے تعلقہ کی وصولی سکندر پور میں ہوتی رہی۔ تقسیم کے بعد اس علاقے کی سپرد داری بھی عجب ہوئی۔ سارے تخت نشین ہجرت کر گئے۔ اور پیچھے معاشی و معاشرتی تفاوت کا پہاڑ کھڑا ہوا۔ بالائی سطور میں بیان ہوئے وہ قصبے جو آج بھی ان کے بسانے والوں کا نام چیخ چیخ کر زندہ کرتے ہیں۔ ایسی کسی بھی کوشش میں نہیں آتے جن میں پسران ان کے ناموں کی ملکیت تک کا ہی دعوی کر سکیں۔


ایک اور کہانی کے مطابق ان گے جدامجد جس یا رائے جیسن کو رائے پتہورا نے دہلی سے باہر نکالا اور وه سیالکوٹ میں کربلا کے مقام پر آباد ہوا ـ

ایک اور روایت کے مطابق جموں کے راجه نارو نے اسے ایک طاقتور پٹهان میر جگوا کو مارنے کے لیے علاقه گہول میں ٨٤ دیہات دئے بجو راجپوت باجوه جٹوں کے ساتھ قرابت تسلیم کرتے هیں ـ کلس کے ایک بیٹے داوا کے بیٹے دیوا کے تین بیٹے مُدار ،وسر ،نانا عرف چدھڑ تهے ـ نانا کے تمام بچے مر گئیے تو جوتشی نے اسے بتایا که اس کا ایک وهی بچه زنده بچے گا جو چچری درخت کے نیچے پیدا ہو گا ـ اس نصیحت پر عمل کیا گيا اور ناناکے اگلے بیٹے نے چچرھ شاخ کی بنیاد رکهی جو نارووال میں ملتے هیں ـ

بجُوراجپوتوں کي ایک رسم چونڈاونڈ ہے اور بتایا جاتا ہے که وه آپنی بیٹیوں کی شادی چبھ، بهاؤ اور منہاس راجپوتوں میں بیٹوں کی راجپوتوں میں کرتے هیں ـ یه بهی بتایا جاتا ہے که کچھ ہی عرصه پہلے تک بجُو راجپوتوں کے هاں ایک رسم رائیج تهی جس کے تحت کسی لڑکی کی شادی کرنے کے لیے اسے ہندو بنایا جاتا تها ـ اس مقصد کے تحت اسے ایک زیر زمین کمرے عارضی طور پر دفن کرکے اُوپر پڑی مٹی میں ہل چلایا جاتاـ ان کی بہت سی رسوم ساہی جٹوں جیسی هیں وه تقریباَ سبهی کے سبهی سیالکوٹ میں ملتے هیں، البته ان کی بہت تہوڑی تعداد مشرق کی سمت پٹیاله تک پهیلی ہوئی ہے ـ