باجی راؤ دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باجی راؤ دوم
شریمنت پیشوا
(مراٹھی میں: दुसरे बाजीराव पेशवे ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل=

مرہٹہ سلطنت کے پیشوا
بادشاہ شاہو دوم، ستارا، پرتاپ سنگھ، ستارا
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مادھو راؤ دوم
نانا صاحب (نام نہاد) Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1775[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دھار  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 28 جنوری 1851 (75–76 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بٹھور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نانا صاحب (لے پالک)
والد رگھوناتھ راؤ  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ آنندی بائی  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

باجی راؤ دوم (10 جنوری 1775ء – 28 جنوری 1851ء) مرہٹہ سلطنت کے آخری پیشوا تھے جنہوں نے سنہ 1795ء سے 1818ء تک پیشوائی کی۔ انہیں مرہٹہ شرفا اور سرداروں نے کٹھ پتلی حاکم کے طور پر تخت پر بٹھایا تھا۔ ان خود سر سرداروں کی ناز برداری نے انہیں اس حد تک زچ کر دیا کہ وہ پونہ چلے گئے اور وہاں انگریزوں سے سنہ 1802ء میں معاہدہ وسائی کر لیا۔ اس معاہدہ کا ہونا تھا کہ مرہٹہ سردار انگریزوں سے آمادہ جنگ ہو گئے اور سنہ 1803ء سے 1805ء تک دوسری اینگلو مرہٹہ جنگ جاری رہی۔ اس جنگ میں انگریز فتحمند رہے اور انہوں نے باجی راؤ دوم کو دوبارہ برائے نام پیشوا بنا دیا۔

سنہ 1817ء میں محصولات کی تقسیم پر تنازع ہوا جس میں باجی راؤ نے گائیکواڑ سرداروں کی حمایت کی اور انگریزوں کے خلاف تیسری اینگلو مرہٹہ جنگ میں شریک ہوئے۔ متعدد جنگوں میں پیہم شکست کھانے کے بعد بالآخر پیشوا نے ہتھیار ڈال دیے۔ انگریزوں نے باجی راؤ کو اس شرط پر معزول کر دیا کہ انہیں بٹھور کی جاگیر دی جائے گی اور سالانہ وظیفہ ملا کرے گا۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

باجی راؤ سابق پیشوا رگھوناتھ راؤ اور آنندی بائی کے فرزند تھے۔ رگھوناتھ راؤ انگریزوں کی اطاعت سے منحرف ہوئے تو نتیجتاً پہلی اینگلو مرہٹہ جنگ پیش آئی اور اس جنگ کا اختتام معاہدہ سال بائی پر ہوا۔ سنہ 1775ء میں جب باجی راؤ پیدا ہوئے تو اس وقت ان کے والدین نظر بند تھے۔ انیس برس تک وہ خود اپنے بھائیوں کے ساتھ اسی طرح نظر بند رہے اور اس وجہ سے وہ بنیادی تعلیم سے بھی محروم رہے۔

رگھوناتھ راؤ کے جانشین پیشوا مادھو راؤ دوم نے سنہ 1795ء میں خودکشی کر لی۔ ان کا کوئی وارث نہیں تھا، چنانچہ مرہٹہ سرداروں میں اقتدار کی زبردست رسہ کشی شروع ہوئی اور طاقت ور فوجی سالار دولت راؤ شندے اور وزیر نانا فڈنویس نے مل کر باجی راؤ دوم کو کٹھ پتلی پیشوا بنا دیا۔ باجی راؤ دوم کے والدین سنہ 1774ء میں ناراین راؤ کے قتل کے سلسلے میں مشکوک تھے چنانچہ باجی راؤ دوم کو بھی عمر بھر دوسروں کی نگاہوں میں موجود اس شک کو برداشت کرنا پڑا۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Malgonkar, Manohar; Devil’s Wind, Orient Paperbacks, New Delhi, 1972 (آئی ایس بی این 0-241-02176-6)
  • Vaidya, Dr. SG; Peshwa Bajirao II and the downfall of the Maratha power (5th ed.) 1976, Pragati Prakashan, Nagpur, India.
  • Dr.Suman Vaidya,"Akhercha Peshwa" (Marathi) Pragati Prakashan, Nagpur
ماقبل 
مادھو راؤ دوم
پیشوا
1795–1851
مابعد 
نانا صاحب
  1. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/149880 — بنام: Peshwa of the Mahrattas Baji Rao II — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. آسٹریلیا شخصی آئی ڈی: https://trove.nla.gov.au/people/1017699 — بنام: Baji Rao — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017