باختر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

باختر ایک قدیم ایشیائی سلطنت ، جو موجودہ افغانستان , ترکمنستان اور ازبکستان کے علاقوں پر مشتمل تھی۔ یہ علاقہ سکندر اعظم کے فتح کرنے کے بعد کئی نسلوں تک یونانیوں کے زیر اثر رہا ۔ 256 ق م یہاں ایک آزاد یونانی سلطنت قائم ہوئی ۔ 125 ق م میں ایک خانہ بدوش قبیلے یوہ چیھ نے (جو غالباً ایرانی تھا) اس کو روند ڈالا ۔ اس کے بعد وہ ملی جلی پارتھیا اور یونانی تہذیب ، جس نے یہاں فروغ پایا تھا، ختم ہوگئی۔ باختر کا دارلسلطنت شہر بکترا (بلخ) تھا۔ جو اب افغانستان میں شامل ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

باختر یونانی لفظ Βακτριανή سے اخذ شدہ ہے اور یہ پشتو لفظ پختار؛ جو بعد میں فارسی میں باختر؛ اور تاجک میں Бохтар؛ چینی میں Daxia|大夏 Dàxià؛ عربی میں باختریا اور اوستا:Avesta میں Bukhdi یا Pukhti کے نام سے جانا جاتا ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

باختر کے قدیم شہر.

یہ قدیم تاریخی علاقہ جو کہ آمودریا کے جنوب میں اور دریائے سندھ: انڈس کے مغرب میں واقع ہے، ایرانی سلطنت کی مشرقی حدود پر واقع تھا جو کہ موجودہ افغانستان، تاجکستان، ترکمانستان اور پاکستان کے علاقوں پر مشتمل تھا۔

تاریخ[ترمیم]

وسط ایشاء میں تہذیب کی تاریخ بہت قدیم ہے، یہاں بسنے والی قوموں اور گروہوں کو نوعِ انسانی کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں آباد خاندانوں کو نسلِ انسانی کا ابتدائی مسکن شمار کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے عربوں نے اس خطّہ اراضی کو اُمّ البلاد کا نام دیا ہے۔ ابتداء میں یہ چند خاندانوں کا مسکن رہا جو بعد میں میل جول اور سماجی تعلق سے گروہوں اور قبیلوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے، جو کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ارد گرد کے علاقوں میں نقل مقانی کرتے رہے۔ یہاں وجود میں آنے والی تہذیبوں کو آمودریا/آکسس: Oxusتہذیب بھی کہا جاتا ہے۔

اسی دور میں یہاں بسنے والے ہند-یورپی قبائل جنوب میں ہندوستان اور ارد گرد کے ممالک میں پیش قدمی کرتے رہے۔ یہاں رہنے والے قبائل ہند-یورپی نسل سے تعلق رکھنے والی مختلف قوموں، قبیلوں پر مشتمل ہیں۔ جن کا ذکر باقائدہ تاریخ میں 600 ق م ميں ملتا ہے جب کہ اس علاقہ کو سائرس نے شکست کے بعد فارس کے زیرِ نگیں کر لیا تھا۔ اس سے قبل یہ علاقہ یا تو ماد:Media سلطنت کا حصّہ تھا یا پھر مختلف قبائل کی ایک آزاد قبائلی ریاست رہی ہوگی۔

سکندر کے ہاتھوں ایران کی فتح کے بعد حددرجہ کوشش کے باوجود اس علاقہ میں اُسے کامیابی نصیب نہ ہوئی اور سکندر اپنی موت تک وہاں امن قائم کرنے اور قبائل کو زیر کرنے میں ناکام رہا۔ بعد میں 323 قبل مسیح وسط ایشیاء میں سلوقی:Seleucid ریاست قائم ہوئی۔ یہ یونانی-میساڈونی ریاست بڑھتے بڑھتے مغرب میں اناتولیہ، میسوپوتامیا:Mesopotamia فارس، ترکمانستان اور پاکستان کے کچھ علاقوں تک پھیل گئی۔ پھر یہاں ساکائی:Saka, یوہ چیھ اور ساسانی ریاستیں قائم ہوئیں۔ بلآخر ساسانیوں کو خلافتِ راشدہ میں شکست ہوئی اور ان ریاستوں کی تاریخ کا ایک باب بند ہوا۔

باختر تہذیب آمودریا کی انہی گم کردہ تہذیبوں میں سے ہے جس کے باقیاب بیان کیئے گئے علاقوں، بلخصوص تاجکستان اور افغانستان ميں آج بھی موجود ہیں، افغانسان مين بلغ کا علاقہ اسی باختر تہذیب کی نشانی ہے۔ پارسی مذہب کے بانی و پیغمبر زرتشت کی پیدائش بھی اسے علاقے میں ہوی۔ یہ کبھی زرتشتی رہا پھر بدھ مت اور بلآخر خلافتِ راشدہ اور اموی دور میں 7 صدی عیسوی میں مسلمان ہوا۔


کوہ بابا یعنی ہندو کش کے شمال میں دریائے جیحون تک جو علاقہ چلا گیا ہے اس کو قدیم زمانے میں باخترBectar کہا جاتا تھا، اب اس کو ترکستان کہا جاتا ہے۔ اس کے موجودہ انتظامی مراکز مزار شریف، تاش کرگان اور میمنہ ہیں۔[1] باختر یا باختریا & Bectaria Bectar جس کو دارا کے کتبے میں باختریش Bectarishکہا گیا ہے اور ہیروڈوٹس Herodatieis نے اس کا پختولیس Paktolies کے نام سے تذکرہ کیا ہے۔ تاہم بعد کے یونانی ماخذوں میں اس کا تذکرہ باکترا Baktra کے نام سے ملتا ہے اور اس کے لئے رگ وید Reg Veda میں پکھتا اور پکتھ اور اوستا Avesta میں اس کا نام بختہ اور بخت آیا ہے۔ (دیکھئے پختون) باختر وسط ایشیاء سے آنے والے قبائل کا پہلا پڑاؤ تھا۔ اس کا سب سے پہلا تذکرہ دارا اولDaruess 1th کے کتبہ بہستون Behistun میں اس کا تذکرہ باختریش کے نام سے ملتا ہے۔ یہاں ہخامنشHakhamaniess کی دوسری شاخ حکمران تھی اور یہاں خورس Cyrus کے زمانے میں دارا اول کا باپ ھستاسب یا گستاسب Hystaspes or Gastaspes حکمران تھا۔ یہ کوئی آزاد حکومت نہیں تھی بلکہ ہخامنشیوں کی بزرگ شاخ کی زیر دست تھی اور اس نے خورس اور میدی کشمکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی آزادی کا اعلان کردیا۔ مگر جلد ہی خورس نے اسے اپنی حکومت میں ضم کرلیا۔ [2] ہخامنشیوں سے یہ علاقہ سکندر نے چھینا۔ سکندر کے جانشین سلوکیوں Seleucidses کے دور میں یہاں آزاد یونانی قائم ہوئی۔ جب سیتھیوں کو یوچیوں نے دریائے سیحوں اور جیحوں کے درمیانی علاقے سے نکالا تو وہ باخترسے یونانیوں کو نکال کر باختر پر قابض ہوگئے۔ جب یوچیوں کودریائے سیحون اور جیحوں کے درمیانی علاقے سے نکلنا پڑا تو وہ باختر آگئے اور انہوں نے باختر سے سیھتیوں کونکال دیا۔ اور باختر پانچ سو سال کے لئے یوچیوں کے قبضے میں آگیا۔ یوچیوں کو ہنوں نے نکلنے پر مجبور کردیا۔ مگر جلد ہی ساسانیوں نے ترکوں کی مدد سے ہنوں کو شکست دے دی۔ مگر پھر اس علاقے پر ترک چھاگئے۔ (دیکھئے یونانی، سیتھی، یوچی اور ہن) باختر زرتشتوں کا مقدس مقام تھا۔ بعض روایات کے مطابق یہاں زرتشت کی پیدائش ہوئی تھی اور یہاں کے حکمران گشتاسب نے سب سے پہلے دین زرتشتی قبول کیا تھا اور یہاں ہی توران کے بادشاہ نے ایک آتش کدے میں داخل ہوکر زرتشت کو قتل کیا تھا۔ (دیکھئے زرتشت) باختر کا دالحکومت بلخ تھا۔ تاہم سکندرکی مہموں میں اس کا تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ سب سے پہلے اس کا یونانی نوآبادی کی حثیت سے بختاپا Boxtapaکی شکل میں ملتا ہے۔ بالالذکر ہوچکا ہے یہ زرتشتیوں کامقدس مقام تھا، لیکن بعد میں یہاں بدھ مذہب چھاگیا۔ ہیونگ سانگ جب یہاں آیا تو بدھوں ایک سو عبادت گاہیں تھیں اور عربوں کی آمد کے وقت یہ شہر بدھ مذہب کا مرکز تھا۔ یہاں آنے والے اکثر قبائل نے بدھ مذہب قبول کرلیا تھا۔ بعد میں اس شہر نے اس شہر نے متواتر ترقی کی، مگر آہستہ آہستہ یہ شہر ویران ہوتا چلا گیا اور آبادی کا بیشتر حصہ مزار شریف منتقل ہوگیا جو اب اس صوبے کا صدر مقام ہے۔ اب یہ ایک قبضے کی شکل اختیار کرچکا ہے مگر وسیع و عریض کھنڈرات اس کی ماضی شان و شوکت اور قدامت کی نشاندہی کرتے ہیں۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ افغانستان۔ معارف اسلامیہ
  2. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 139، 140
  3. ^ بلخ، شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا