بادشاہان یہوداہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

1010 قبل مسیح میں حضرت داود علیہ السلام نے حبرون کے مقام پر سلطنتِ اسرائیل کی بنیاد رکھی جس میں یہودا کا علاقہ بھی شامل تھا۔ 1002 قبل مسیح میں حضرت داود علیہ السلام نے دار الحکومت یروشلم منتقل کر لیا اور تا وفات یہیں مقیم رہے۔ 970 قبل مسیح میں حضرت داود علیہ السلام کی وفات کے بعد اُن کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام تخت نشیں ہوئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تمام عہدِ حکومت تک میں سلطنت اسرائیل متحد رہی۔ 931 قبل مسیح میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات ہوئی تو اُن کا فرزند رحبعام تخت نشیں ہوا، اُس کی حکومت کے ابتدائی اَیام میں سلطنت متحد تھی مگر بعد ازاں بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے بغاوت کرکے سلطنت کا ایک حصہ علاحدہ کر لیا جِسے اُنہوں نے اسرائیل کا نام دیا اور رحبعام کے پاس صرف یہودا کا بقیہ حصہ رہ گیا تھا۔ یہودا کی سلطنت 586 قبل مسیح تک قائم رہی اور سامرہ کی سلطنتِ اسرائیل 722 قبل مسیح تک قائم رہی۔

بادشاہانِ یہوداہ[ترمیم]

شمار نام سال پیدائش/ مقام پیدائش/ وَالدین سال وفات/مقام وفات مدتِ حکومت اور دورِ حکومت کے مختصر واقعات
1 داؤُد
1040 قبل مسیح -

بیت لحم، سلطنتِ یہودا

والد: یسی

والدہ: نيتزفيت

970 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا۔ اسرائیل

1010 قبل مسیح تا 970 قبل مسیح - (40 سال) [1]

1010 قبل مسیح میں حضرت داود علیہ السلام متحدہ سلطنت یہودیہ کے پہلے بادشاہ مقرر ہوئے۔ سات سال تک آپ یہودیہ کے دار الحکومت حبرون میں بطور بادشاہ و نبی مقیم رہے، بعد ازاں 1002 قبل مسیح میں آپ یروشلم منتقل ہو گئے جہاں 970 قبل مسیح تک یعنی 33 سال حکومت کی۔ حضرت داود علیہ السلام کی کل مدتِ حکومت 40 سال ہے ( اِس میں 7 سال حبرون میں اور 33 سال یروشلم کے ہیں)۔[1]

حضرت داود 70 سال کی عمر میں بمقام حبرون فوت ہوئے اور آپ کو یروشلم میں ہی دفن کیا گیا۔ آپ بیک وقت نبی، رسول، پیغمبر اور بادشاہ تھے۔

2 سُلیمان
984 قبل مسیح

والد: داود -

والدہ: بت سُوع

931 قبل مسیح -

یروشلم، متحدہ سلطنتِ اسرائیل

970 قبل مسیح تا 931 قبل مسیح - (40 سال)

13 سال کی عمر میں حضرت سلیمان تختِ اسرائیل پر متمکن ہوئے اور 40 سال تک بدستور بادشاہ و نبی کے منصب پر فائز رہے۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند رحبعام تخت نشیں ہوئے مگر اِستحکامِ سلطنت کو قائم نہ رکھ پائے اور متحدہ سلطنتِ اسرائیل دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔

53 سال کی عمر میں سلیمان کا انتقال یروشلم میں ہوا۔ آپ بیک وقت نبی، پیغمبر اور بادشاہ تھے اور آپ اپنے والد داود کی شریعت پر تھے۔

شمار نام سال پیدائش/ مقام پیدائش/ وَالدین سال وفات/مقام وفات مدتِ حکومت اور دورِ حکومت کے مختصر واقعات
3 رحبعام
سال پیدائش: 972 ق۔ م

والد: سلیمان -

والدہ: نعمہ عمونی [2][3]

914 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

931 قبل مسیح تا 914 قبل مسیح - (17 سال) [2]

حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد 931 قبل مسیح میں اُن کا بیٹا رحبعام تخت نشیں ہوا۔ اُس کے ابتدائی اَیامِ تخت نشینی میں تمام ملک اسرائیل متحدہ سلطنت کی صورت میں منظم تھا مگر بعد میں دس اسرائیلی قبیلوں نے بغاوت کے ذریعہ متحدہ سلطنت کو دو مخلتف حصوں کی صورت میں تقسیم کر لیا۔ دوسرا حصہ سلطنتِ اِسرائیل کہلایا اور وہاں یربعام تخت نشیں ہوا۔ رحبعام کے دورِ حکومت کے پانچویں سال فرعونِ مصر سیسق (شِیشق) نے یروشلم پر حملہ کر دیا اور یروشلم میں واقع ہیکل سلیمانی کے تمام نوادرات و خزانے لوٹ کر مصر لے گیا۔[4]

3 ابیاہ
سال پیدائش: نامعلوم

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: رحبعام -

والدہ: معکہ بنت ابی سلوم [5]

912 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

914 قبل مسیح تا 911 قبل مسیح - (3 سال) [6]
4 آسا
سال پیدائش: نامعلوم

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: ابیاہ -

دادی: معکہ بنت ابی سلوم [7]

871 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

911 قبل مسیح تا 870 قبل مسیح - (41 سال) [7]

آسا کو پیروں میں ایک مزمن رَوگ لگ گیا جس سے اُس کی موت واقع ہوئی۔[8]

5 یہوسفط
905 قبل مسیح [9] -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: آسا -

والدہ: عزوبہ بنت سِلحی [9]

845 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

870 قبل مسیح تا 845 قبل مسیح - (25 سال) [9]
6 یہورام
882 قبل مسیح

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد:یہوسفط -

والدہ: نامعلوم

843 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

851 قبل مسیح تا 843 قبل مسیح - (8 سال) [10]
7 اخزیاہ
سال پیدائش: نامعلوم

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد:یہورام-

والدہ: عتلیاہ (شاہِ اسرائیل عمری کی پوتی تھی) [11]

842 قبل مسیح -

مجدو، سلطنتِ اسرائیل [12]

مدفن: یروشلم، سلطنتِ یہودا [12]

843 قبل مسیح تا 842 قبل مسیح- (1 سال) [11]
8 عتلیاہ بنت اخی اب
سال پیدائش: نامعلوم

والد: اخی اب (شاہِ اسرائیل)-

والدہ: ایزبل

835 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

842 قبل مسیح تا 835قبل مسیح - (6 سال) [13]

ہیکل کے کاہن یہویدع نے عتلیاہ بنت اخی اب کو قتل کروا دیا۔[14]

9 یہوآس
843 قبل مسیح-

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: اخزیاہ (شاہِ یہودا)-

والدہ: ضبیاہ (تعلق بیئر سبع سے تھا) [15]

802 قبل مسیح -

میلو، یروشلم، سلطنتِ یہودا

842 قبل مسیح تا 802قبل مسیح - (40 سال) [15]
10 امصیاہ
843 قبل مسیح-

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: یہوآس-

والدہ: یہوعدان (تعلق ہروشلم سے تھا) [16]

776 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

805 قبل مسیح تا 776قبل مسیح - (29 سال) [16]

امصیاہ کے خلاف یروشلم میں سازش ہوئی جس سے وہ شہر لکیس بھاگ گیا، لیکن سازشیوں نے آدمی بھیج کر شہر لکیس تک اُس کا تعاقب کی اور وہاں امصیاہ کو قتل کر دیا گیا۔ امصیاہ کی لاش کو گھوڑے پر واپس لائے اور یروشلم میں اُسے اُس کے باپ دادا کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔[17]

11 عزیاہ
783 قبل مسیح- [18]

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: امصیاہ-

والدہ: یکولیاہ (تعلق یروشلم سے تھا) [19]

736 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

788 قبل مسیح تا 736قبل مسیح - (52 سال)

عزیاہ 24 سال تک اپنے والد امصیاہ کی حکومت میں یروشلم پر حکومت کرتا رہا۔ 767 قبل مسیح کے بعد عزیاہ باقاعدہ طور پر شاہِ یہودا مقرر ہو گیا اور 28 سال تک مزید بادشاہت کرتا رہا۔ بائبل کی کتاب سلاطین دوم کے مطابق کل مدتِ حکومت 52 سال لکھی ہے جو اِسی نہج پر ہے کہ 24 سال + 28 سال = 52 سال۔[19] اواخر عمر میں عزیاہ کوڑھ میں مبتلاء ہو گیا تھا اور اُس کا بیٹا یوتام محل میں حکومت کرنے لگا تھا اور 68 سال کی عمر میں عزیاہ فوت ہو گیا۔[20]

12 یوتام
740 قبل مسیح-

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: عزیاہ -

والدہ: یروسا بنت صدوق [21]

742 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

758 قبل مسیح تا 742قبل مسیح - (16 سال) [21]

یوتام اپنے والد عزیاہ کے زمانہ سے ہی حکومت کرنے لگا تھا جب عزیاہ کوڑھ میں مبتلاء ہو کر حکومت سے الگ ہو گیا تھا مگر یوتام کی باقاعدہ تخت نشینی عزیاہ کی وفات کے بعد ہی کی گئی۔[22]

13 آخز
سال پیدائش: نامعلوم-

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: یوتام

والدہ: نامعلوم۔

726 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

742 قبل مسیح تا 726قبل مسیح - (16 سال) [23]

آخز کے زمانہ میں کھلم کھلا بادشاہان اِسرائیل کے طریقے پر بت پرستی عام ہوئی اور آگ میں بیٹوں کی قربانیاں دینے کی رسم کا آغاز ہوا۔ خود آخر نے اپنا بیٹا آگ کے سپرد کیا۔ اونچے مندروں کی چوٹیوں پر اُس نے اور ہر ہرے درخت کے نیپچے قربانی دی۔ قربانیوں سے قبل اُس نے بخور جلانا شروع کیا۔ آخز نے سلطنتِ اشور کے بادشاہ تلگات پلناسر سے اتحاد کر لیا تھا اور خود کو اُس کا باجگزار تسلیم کروایا۔ ہیکل سلیمانی کے مقابلے میں ایک مذبح خانہ تعمیر کروایا اور وہیں بت پرستی کی ابتدا ہوئی۔ مذبح خانہ میں قربانیوں کا رواج روز بہ روز کی بنا پر بڑھتا چلا گیا۔[24]

36 سال کی عمر میں آخز کی موت یروشلم میں واقع ہوئی اور اُسے یروشلم میں ہی دفن کیا گیا۔

14 حزقیاہ
سال پیدائش: نامعلوم-

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: آخز

والدہ: اَبی بنت زکریاہ [25]

697 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

726 قبل مسیح تا 697قبل مسیح - (29 سال) [25]

حزقیاہ نے اپنے باپ آخز کی تمام رسوم کو یکسر بند کر دیا۔ مندروں کو منہدم کر دیا اور اُس پیتل کے سانپ نما مجسمے کو تڑوا دیا جو عصائے موسیٰ علیہ السلام کے مشابہہ تھا۔ مجسموں کے آگے بخور جلانے کی ممانعت کردی۔ وہ خدا پر توکل کا شدت سے قائل تھا۔ حزقیاہ نے شاہِ اشور کے خلاف بغاوت کردی اور اُس کا باجگزار بننے سے انکار کر دیا۔ حزقیاہ نے شہر یروشلم میں پانی کی رسائی کی خاطر ایک سرنگ تعمیر کروائی تھی۔ حزقیاہ کی موت کی خبر یسعیاہ نبی نے دی تھی۔[26]

15 منسی
709 قبل مسیح-

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: حزقیاہ

والدہ: حِفصیباہ [27]

642 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

697 قبل مسیح تا 643قبل مسیح - (55 سال) [27]

حزقیاہ کی موت کے بعد منسی نے وہی اعمالِ بد کیے جو اُس کے دادا آخز نے کیے تھے۔ منسی نے اُن تمام مندروں کو تعمیر کروایا جسے اُس کے باپ حزقیاہ نے منہدم کروا دیا تھا۔ ستاروں کی پرستش کرنے لگا اور اُن ستاروں کے مذبح خانے تعمیر کروائے۔ اپنے بیٹے کی آگ میں قربانی کی۔ ہیکل سلیمانی کے مقابلے مندروں میں بتوں کی پرستش کو رائج کروایا۔ بعل نامی بت کی پرستش بے حد کیا کرتا تھا۔ منسی افسوں گری کرتا تھا، شگون نکالتا اور عاملوں اور جنات سے رجوع کرتا تھا۔[28]

16 آمون
664 قبل مسیح-

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: منسی

والدہ: مسلِمَت بنتِ حروص (مقام قطبہ سے تعلق تھا ) [29]

بیوی: جدِیدہ بنت عِدایاہ [30]

640 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا

642 قبل مسیح تا 640قبل مسیح - (2 سال) [29]

آمون بھی اپنے باپ منسی کے طریقہ پر تھا۔ وہ بھی بتوں کو سجدہ کیا کرتا تھا۔ آمون کو اُس کے منصب داروں نے 640 قبل مسیح میں ایک سازش کے ذریعہ قتل کر دیا۔ بعد ازاں یہودا کے لوگوں نے اُن سازشیوں کو بھی قتل کر دیا جنہوں نے آمون کو قتل کیا تھا۔[31]

17 یوسیاہ
648 قبل مسیح-

یروشلم، سلطنتِ یہودا

والد: آمون

والدہ: جدِیدہ بنت عِدایاہ [30]

ماہِ جون/ ماہِ جولائی 609 قبل مسیح-

مجدو، سلطنتِ سامرہ اِسرائیل

640 قبل مسیح تا ماہِ جون/ ماہِ جولائی 609 قبل مسیح - (31 سال)

یوسیاہ 8 سال کی عمر میں تخت نشیں ہوا۔ یہ اپنے باپ دادا کے دِین پر نہیں تھا بلکہ حضرت داود کی متعین کردہ اصول ہائے شریعت پر چلتا رہا۔ بتوں کی پرستش سے بیزاری کیا کرتا تھا اور مندروں کو منہدم کروایا۔ یوسیاہ کی حکومت کے اٹھارہویں سال تورات کی اصل کتاب دریافت ہو گئی جو کئی صدیوں سے صیغہ راز میں تھی۔[32] یوسیاہ نے اپنے عہد میں دوبارہ اُن احکامات کی تجدید لوگوں سے کروائی جو حضرت موسیٰ کو دیے گئے تھے۔ یوسیاہ نے اُن تمام بتوں کو ہیکل سلیمانی سے باہر نکلوا دیا جو اُس سے قبل کے بادشاہوں کے نصب کردہ تھے۔ بعل نامی بت توڑ دیا گیا۔ تاروں کے آسمانی لشکر کی پرستش کی اشیاء ہیکل سے نکال دی گئیں۔ اور اِن سب کو یروشلم سے باہر وادی قِدروں کے کھیتوں میں جلا دیا گیا۔ بت پرست کاہنوں کو جو مندروں میں بخور جلانے پر مقرر تھے، اُن سب کو ہٹا دیا اور اُن کاہنوں کو بھی ہٹا دیا جو ستاروں اور چاند سورج کے واسطے بخور جلایا کرتے تھے۔ لوطیوں کے مقامات کو ختم کروا دیا۔ مقام جِبع سے مقام بیئر سبع تک کے اُن تمام مندروں میں نجاست ڈلوا دِی جن میں بت پرست کاہن بخور جلایا کرتے تھے۔ مولِک نامی بت کے لیے بیٹے یا بیٹی کی قربانی کو روک دیا اور اُن تمام گھوڑوں کو ہیکل سے باہر نکال دیا جنہیں گزشتہ بادشاہوں نے سورج دیوتا کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ اُن گھوڑوں کے ساتھ بندھے رتھ جلا دیے گئے۔ شاہان یہودا کے زمانہ کے تمام مذبح خانے منہدم کروا دیے اور ریزہ ریزہ کر دیا گیا۔ اِس کے عہد کے اٹھارہویں برس عید فسح ایسی شاندار منائی گئی کہ سلطنتِ یہوداہ کی بنا سے ایسی عید کبھی نہیں منائی گئی تھی۔ جادوگر اور جادوگری کے تمام آلات و اشیاء کو یوسیاہ نے یروشلم سے نکال دیا۔ جولائی 609 قبل مسیح میں فرعون مصر نِکوہ شاہِ اشور پر چڑھائی کرنے کے لیے دریائے فرات کو گیا۔ یوسیاہ شاہِ اشور کی مدد کو نکلا مگر فرعون مصر نِکوہ نے اُسے مجِدو کے علاقہ میں دیکھتے ہی قتل کر دیا اور یوسیاہ کے ملازم اُس کی لاش کو ایک رتھ میں ڈال کر یروشلم لے گئے جہاں اُسے دفن کیا گیا۔[33]

39 سال کی عمر میں یروشلم میں فوت ہوا۔

18 یہوآخز
632 قبل مسیح -

والد: یوسیاہ

والدہ: حموطل بنت یرمیاہ (تعلق مقام لِبناہ سے تھا) [34]

595 قبل مسیح سے قبل- -

صا الحجر، مصر

ماہِ جون تا ماہِ ستمبر 609 قبل مسیح - (تین مہینے) [34]

حران کے محاصرہ کے دوران فرعون مصر نِکوہ نے یہوآخز کو ملکِ حماۃ کے ایک شہر ربلہ میں قید کر دیا تاکہ وہ یروشلم میں حکومت نہ کرسکے۔ فرعونِ مصر نِکوہ یہوآخز کو حالتِ اسیری میں مصر لے گیا جہاں وہ غالباً 595 قبل مسیح سے قبل ہی فوت ہو گیا۔[35]

19 یہویقیم
635 قبل مسیح -

والد: یوسیاہ

والدہ: زبُودہ بنت فِدایاہ (روماہ سے تعلق تھا) [36]

598 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا۔ اسرائیل

609 قبل مسیح تا 598 قبل مسیح - (11 سال) [36]

فرعونِ مصر نِکوہ نے یہوآخز کو سلطنت سے الگ کرتے ہوئے اُس کے بڑے بھائی یہویقیم کو یہودا کا بادشاہ مقرر کیا اور اُس کا نام یہویاکین رکھا۔ یہویقیم 25 سال کی عمر میں تخت نشیں ہوا تھا۔ اِس کے دورِ حکومت میں مارچ 597 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بختِ نصر نے یہودا پر حملہ کیا اور یہویقیم تین سال تک اُس کے ماتحت اور زِیرِ فرمان رہا۔ بعد میں یہویقیم نے بختِ نصر کے خلاف بغاوت کردی مگر کسدیوں، ارامیوں، موآبیوں اور عمونیوں کے حملوں سے سلطنتِ یہودا روز بروز کمزور ہوتی گئی۔[37]

20 یہویاکین (یکونیاہ)
615 قبل مسیح -

والد: یوسیاہ

والدہ: نِحُشتا بنت الناتن [38]

598 قبل مسیح -

یروشلم، سلطنتِ یہودا۔ اسرائیل

9 دسمبر 598 قبل مسیح تا 16 مارچ 597 قبل مسیح - (3 مہینے 10 دِن) [38]

یہویاکین کے دورِ حکومت میں بختِ نصر شاہِ بابل نے دوبارہ یروشلم کی طرف پیش قدمی کی اور یروشلم کا محاصرہ کر لیا۔ یہویاکین نے بختِ نصر کی اطاعت قبول کرلی۔ بختِ نصر نے یہودا کے شاہی خاندان کے افراد کو گرفتار کروا لیا اور سب کو حالتِ اسیری میں بابل لے گیا۔ بختِ نصر نے صدقیاہ کو وہاں کا بادشاہ مقرر کر دیا جو یہویاکین کا چچا تھا اور وہ اُس کے ماتحت اور باجگزار تھا۔[39]

21 صدقیاہ
618 قبل مسیح -

والد: یوسیاہ

والدہ: حموطل بنت یرمیاہ (تعلق مقام لِبناہ سے تھا) [34][40]

صدقیاہ کا اِنتقال 586 قبل مسیح سے 562 قبل مسیح کے درمیانی عرصہ میں کسی سال ہوا۔

بابل، عراق

597 قبل مسیح تا 586 قبل مسیح - (11 سال) [40]

صدقیاہ 21 سال کی عمر میں بادشاہ بنا۔ صدقیاہ کے دورِ حکومت کے نویں سال شاہِ بابل بختِ نصر نے لشکروں سمیت یروشلم پر چڑھائی کردی۔ شدید محاصرے کے بعد یروشلم فتح کر لیا۔ بابلی فوج نے صدقیاہ کو گرفتار کر لیا اور رِبلہ میں اُسے شاہِ بابل کے سامنے لے جایا گیا جہاں اُس پر فتویٰ دیا گیا۔ بابلیوں نے صدقیاہ کے بیٹوں کو اُس کے سامنے قتل کر دیا۔ صدقیاہ کی آنکھیں نکال دی گئیں اور پیتل کی زنجیروں سے جکڑ کر اُسے حالتِ اسیری میں بابل لے گئے۔ صدقیاہ کے بعد یہودا میں بختِ نصر نے ہیکل سلیمانی کو نذرِ آتش کر دیا اور تمام فصلیں گرا دی گئیں۔ اور یہودا بطور صوبہ سلطنتِ بابل میں ضم کر لیا گیا۔[41]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین اول، باب 2، آیت 10/11۔
  2. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین، باب 14، آیت 21۔
  3. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین، باب 14، آیت 31۔
  4. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین اول، باب 14، آیت 25/26۔
  5. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین اول، باب 15، آیت 1۔
  6. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین اول، باب 15، آیت 2۔
  7. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین اول، باب 15، آیت 9۔
  8. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین اول، باب 15، آیت 23۔
  9. ^ ا ب پ بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین اول، باب 22، آیت 42۔
  10. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 8، آیت16۔
  11. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 8، آیت26۔
  12. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 9، آیت27۔
  13. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 11، آیت3۔
  14. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 11، آیت 15/16۔
  15. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 12، آیت 1۔
  16. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 14، آیت 2۔
  17. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 14، آیت 19/20۔
  18. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 14، آیت 21۔
  19. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 15، آیت 2۔
  20. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 15، آیت 5۔
  21. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 15، آیت 33۔
  22. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 15، آیت 5 اور باب 15، آیت 33۔
  23. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 16، آیت 1۔
  24. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 16، آیت 2 تا 18۔
  25. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 18، آیت1۔
  26. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 20، آیت1 تا 21۔
  27. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 21، آیت1۔
  28. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 21، آیت1 تا 6۔
  29. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 21، آیت19۔
  30. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 22، آیت1۔
  31. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 21، آیت20 تا 24۔
  32. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 22، آیت1 تا 13۔
  33. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 23، آیت1 تا 30 کا خلاصہ۔
  34. ^ ا ب پ بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 23، آیت31۔
  35. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 23، آیت33/34۔
  36. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 23، آیت 36۔
  37. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 24، آیت 1 تا 6۔
  38. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 24، آیت 8۔
  39. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 24، آیت 10 تا 17۔
  40. ^ ا ب بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 24، آیت 18۔
  41. بائبل: عہد نامہ قدیم، کتاب سلاطین دوم، باب 25، آیت 1 تا 25۔