مندرجات کا رخ کریں

بادشاہ ننگا ہے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
”بادشاہ ننگا ہے“
کرسچن اینڈرسن کا مختصر افسانہ
اصل عنوانKejserens nye Klæder
ملک ڈنمارک
زبانڈینش
صنفادبی لوک کہانی
اشاعت
شائع کنندہFairy Tales Told for Children. First Collection. Third Booklet. 1837. (Eventyr, fortalte for Børn. Første Samling. Tredie Hefte. 1837.)
طرز طباعتپریوں کی کہانیوں کا مجموعہ
ناشرسی.اے.ریٹزل
تاریخ اشاعت7 اپریل 1837
زمانی ترتیب
 
The Little Mermaid
 
Only a Fiddler

بادشاہ ننگا ہے ایک بچوں کی کہانی ہے جو 1837 میں ڈنمارک کے ادیب ہینز کرسچن اینڈرسن نے لکھی تھی۔ اصل کہانی ڈینش زبان میں Kejserens nye Klæder کے نام سے لکھی گئی، یہ ایک لوک کہانی تھی جسے ادبی طرز پر لکھا گيا۔ اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ دو فریبی جولاہوں نے بادشاہ کو ایک ایسا کپڑا بُن کر دیا جو صرف عقلمندوں کو نظر آتا تھا اور احمق اسے نہیں دیکھ پاتے تھے۔ چونکہ کوئی بھی یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ بے وقوف ہے اس لیے کسی نے بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ اسے یہ کپڑے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ان میں بادشاہ خود بھی شامل تھا اور اس کے سارے درباری بھی۔ جب جی حضوری کرتے ہجوم میں لوگ بادشاہ کے لباس کی تعریف میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے کوشاں تھے، ایک چھوٹے بچے نے عین جلوس میں کہہ دیا کہ بادشاہ ننگا ہے جس سے پورے مجمع کو زبان مل گئی۔ خاموشی کانا پھوسی میں اور کاناپھوسی شور میں بدل گئی۔

اس کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ اکثریت سچ سمجھتے ہوئے بھی جھوٹ پر یقین کر سکتی ہے۔ نیز اس کہانی میں اشارہ ہے کہ جمہوریت ایک دھوکا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]

بیرونی ربط

[ترمیم]