بادشاہ پور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
‎بادشاہ پور
Badshah Pur
گاؤں
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ
Flag of Punjab.svg
پنجاب
ضلع ضلع چکوال
تحصیل تحصیل چوآسیدن شاہ
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
ٹیلی فون کوڈ 046
ویب سائٹ [ لوکل ویب سائٹ]

بادشاہ پور (انگریزی: Badshah Pur) [1]پاکستان کا ایک گاؤں جو پنجاب ضلع چکوال میں واقع ہے۔ جو یونین کونسل ڈلوال میں ہے۔ بادشاہ پور کا پرانا نام ٹہی تھا۔ جب 1526ء میں مغل فرمانروا ظہیرالدین بابر کلرکہار آیا تو بھیرہ سے براستہ مکڑاچھ ڈالوال آیا۔ اس راستے کا نام ’’کل راہ ‘‘ بابر نے ہی رکھا۔ کلراہ سے ہوتا ہوا  مع لشکر یہاں پڑاؤ ڈالا۔ موضع بادشاہ پور، بادشاہ بابر کا بسایا ہوا گاؤں ہے۔ بابر نے اپنی خود نوشت ’’ تزک بابری‘‘ میں اس وادی کو جو کلرکہار اور چوآسیدن شاہ کے درمیان دو پہاڑی سلسلوں کے بیچ واقع ہے۔ آب و ہوا اور خوب صورت قدرتی مناظر کی بنا پر’’ کشمیر کا بچہ‘‘ لکھا ہے۔ بابر چند دن یہاں ٹھہرا۔ اس نے چند آدمیوں کو قلعہ ملوٹ پر بھی بھیجا۔ سید ضمیر حسین شاہ کے مطابق بابر نے جہاں پڑاؤ ڈالاتھا۔ اب عین اس جگہ قبیلہ سہال راجپوت کے دو بھائیوں راجا احمد خان اور راجا محمد زمان کی اولاد رہائش پزیر ہے۔ بادشاہ پور سطح سمندر سے 760 میٹر بلندہے۔ بمطابق برطانوی تاریخ جہلم 1880ء میں بادشاہ پور کے گھروں کی تعداد 108 تھی،اور آبادی 478 نفوس پر مشتمل تھی۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پرائمری مدارس ہیں، بنیادی مرکز صحت، بجلی، ٹیلی فون، واٹر سپلائی کی سہولت دستیاب ہے۔  تمام گلیاں پختہ ہیں، مرکزی جامع مسجدمع دینی مدرسہ بھی ہے۔ پوری آبادی اہلسنت و الجماعت مسلک کی ہے۔ ضمیر حسین شاہ نے بتایا کہ تالاب پر صدیوں پرانے دو بوہڑ کے درخت ہیں، جنہیں بیک وقت لگایا گیا۔ خدا کی قدرت سے دونوں کے پتے، شاخیں، جڑیں، پھل اور ہیئت مختلف ہے۔ مشرقی بوہڑ کو دودھ اور مغرب والی کولسی سے سیراب کیا گیا۔ گاؤں میں ایک تاریخی راستہ وکڑالی ہے۔ ( پہاڑ کا قدرتی طور پر اپنی جگہ سے ہٹ جانا وکڑالی کہلاتا ہے)۔ اس کے نیچے ایک غار ہے۔ روایت کے مطابق یہ خیر پور تک جاتی ہے۔ بادشاہ پور میں جنجوعہ راجپوت، بھٹی راجپوت، اعوان اور دستکار آباد ہیں۔ ماضی اور حال میں یہاں قد آور شخصیات رہی ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]