حواری (مسیحیت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بارہ رُسُل سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حواری یا رسول (انگریزی: Apostle)، مسیحیت میں مسیح کے ان بنیادی شاگردوں کو کہا جاتا ہے جن کو خود مسیح نے شاگردی کے لیے نامزد کیا تھا۔ انہی میں سے بعض نے وقت آنے پر مسیح کو چھوڑ دیا بلکہ صلیبی موت کے وقت تو سارے بھاگ گئے تھے اور غداری کرنے والا بھی انہی میں سے ایک تھا۔ حواری حور سے بنا ہے،بمعنی صفائی،خلوص،مدد چونکہ ان مخصوصین کے دل صاف تھے،خالص مؤمن تھے اوران کے دین کے مددگار تھے،اسی لئے انہیں حواری کہا جاتا تھا،نیزعیسیٰ علیہ السلام کے حواری کپڑا صاف کرنے والے دھوبی تھے۔[1]
تو اس بارے میں صاحب تفسیر جمل نے فرمایا کہ حواریکا لفظ حور سے مشتق ہے جس کے معنی سفیدی کے ہیں چونکہ ان لوگوں کے کپڑے نہایت سفید اور صاف تھے اور ان کے قلوب اور نیتیں بھی صفائی ستھرائی میں بہت بلند مقام رکھتی تھیں اس بناء پر ان لوگوں کو حواری کہنے لگے اور بعض مفسرین کا قول ہے کہ چونکہ یہ لوگ رزق حلال طلب کرنے کے لئے دھوبی کا پیشہ اختیار کر کے کپڑوں کی دھلائی کرتے تھے اس لئے یہ لوگ حواری کہلائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سفید پوش مچھیروں کی ایک جماعت تھی جو مچھلیوں کا شکار کیا کرتے تھے۔امام قفال نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ ان بارہ حواریوں میں کچھ لوگ بادشاہ ہوں اور کچھ مچھیرے ہوں اور کچھ دھوبی ہوں اور کچھ رنگریز ہوں۔ چونکہ یہ سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخلص جاں نثار تھے اور ان لوگوں کے قلوب اور نیتیں صاف تھیں اس بناء پر ان بارہ پاکبازوں اور نیک نفسوں کو حواری کا لقب معزز عطا کیا گیا۔ کیونکہ حواریکے معنی مخلص دوست کے ہیں۔[2]
حواری اس کو کہتے ہیں جو نبی کا خلیفہ بننے کی صلاحیت رکھے۔ ضحاک نے کہا حواری انبیاء علیہم السلام کے اصفیاء اور مخلصین کو کہتے ہیں۔ حواری کے ان معانی میں تحقیق کے زیادہ قریب وہ قول ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کے سفید کپڑوں کی وجہ سے ان کو حواری کہا جاتا ہے‘ کیونکہ عرب بہت سفید چیز کو حور کہتے ہیں‘ اور چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کو حواری کہا جاتا تھا تو پھر کسی شخص کے مخلص مصاحب کو حواری کہا جانے لگا اسی لئے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔ [3]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد اول صفحہ155
  2. ^ تفسیر جمل علی الجلالین، ج1، ص 24۔423،پ3 آل عمران:52
  3. ^ (جامع البیان ج 3 ص‘ 201۔ 200 مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت