بازار کی تقسیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بازار کی تقسیم بازار کاری کے ان اہم تصورات میں سے ایک ہے جو اکثر بہ روئے کار لائے جاتے ہیں۔ اس تصور کے تحت اجتماعی بازار کاری کے بر عکس بازار کو کسی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ویسے مصنوعات کی بازار کاری میں بازاروں کو صارفین، غیر سماجی تنظیموں یا حکومت کے اداروں اور تجارتی اداروں میں منقسم کیا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد تو عام صارفین کی ہی ہوتی ہے۔ ان کی تقسیم کے کچھ پیمانے طے کیے جاتے ہیں۔ ان پیمانوں میں چند مشہور اس طرح ہیں:
0 آبادیاتی تقسیم: اس تقسیم میں آبادی کے مروجہ پیمانوں کو بہ روئے کار لایا جاتا ہے۔ مثلًا یہ کہ مرد و زن کی بنیاد پر تقسیم۔ بھارت میں خوب صورتی کا ایک برانڈ فیئر اینڈ لولی برس ہا برس سے خواتین کی خوب صورتی کا کریم تیار کرتے آیا ہے۔ اب وہ مردوں کی خوب صورتی کا خیال کرتے ہوئے فیئر اینڈ ہینڈسم کریم لا چکا ہے۔ اس کے لیے شاہ رخ خان کو برانڈ سفیر بنایا گیا ہے۔ اسی طرح سے مذہبی اور لسانی تقسیم بھی آبادیاتی پیمانے ہو سکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر مصنوعات میں فرق کیا جا سکتا ہے۔
0 جغرافیائی تقسیم: مصنوعات کو جغرافیائی اساس پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثلًا ناریل کا پکوان تیل زیادہ تر کیرلا میں بیچا جاتا ہے۔ جبکہ ریفائینڈ تیل ملک کے بیشتر حصوں میں عام ہے۔ اس طرح سے اڈلی اور دوسا جنوبی بھارت میں عام ہے، جب کہ ڈھوکلا زیادہ تر گجرات میں زیادہ بیچا جاتا ہے۔
0 سلسلۂ حیات کی تقسیم: ہر عمر میں ایک شخص کی ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ مثلًا ایک نو مولود کے لیے ڈائپر، دودھ کی بوتل، مچھر دان ضروری ہو سکتے ہیں۔ نو جوان تعلیمی مواد اور تفریح کے زیادہ خواہش مند ہو سکتے ہیں۔ شادی شدہ جوڑے ہنی مون جایا کرتے ہیں۔ بڑی عمر کے لوگ بیساکھیوں اور آرام کرسی کے ممکنہ طلب گار ہو سکتے ہیں۔ اسی کی مناسبت سے مصنوعات اور خدمات کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
0 طرز زندگی کی تقسیم: اس کے تحت لوگوں کے ذوق، شوق، معیار اور مجموعی طرز زندگی پر توجہ دی جاتی ہے۔ یہ مصنوعات یا تو عام ضرورتوں سے تعلق نہیں رکھتے یا کفایتی بنیاد پر بھی انجام پا سکتے ہیں۔ مگر لوگ بہتر سے بہتر سہولت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ مثلًا لوگ تفریح کے مہنگے کلب قائم کرتے ہیں اور کئی رئیسانہ مصنوعات کے طلب گار ہوتے ہیں۔

کامیابی[ترمیم]

بازار کی تقسیم عالمی سطح پر ایک کامیاب حکمت عملی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ 2014ء ہووے کمپنی نے اسی حکمت عملی کے سہارے 75 ملین فونوں کی بِکری کی ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]