باسط علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باسط علی ٹیسٹ کیپ نمبر 126
Basit ali.jpeg
ذاتی معلومات
پیدائش13 دسمبر 1970ء (عمر 51 سال)
کراچی، سندھ
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کا آف بریک باؤلر
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ
میچ 19 50
رنز بنائے 858 1265
بیٹنگ اوسط 26.81 34.18
100s/50s 1/5 1/9
ٹاپ اسکور 103 127*
گیندیں کرائیں 6 30
وکٹ - 1
بولنگ اوسط - 21.00
اننگز میں 5 وکٹ - -
میچ میں 10 وکٹ - n/a
بہترین بولنگ - 1/17
کیچ/سٹمپ 6/- 15/-
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو[1]، 4 February 2006

باسط علی (پیدائش:13 دسمبر، 1970ءکراچی) پاکستانی سابق کرکٹر تھے، جنہوں نے 1993ء سے 1996ء تک 19 ٹیسٹ اور 50 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے باسط ایک دائیں ہاتھ کے کھلاڑی تھے جن کے پاس ٹیسٹ بیٹنگ اوسط سے زیادہ ون ڈے ہونے کا نسبتاً غیر معمولی اعدادوشمار ہیں۔ کور اور پوائنٹ کے ذریعے مضبوط، علی تیز گیند بازوں کے خلاف ایک بے حس ہوکر اور ان کا عمدہ طرہقے سے مقابلہ کرنے کا فن جانتا تھا۔ بھارت میں ورلڈ ٹوئنٹی 2016ء کے بعد اسی سال میں قومی پاکستان کرکٹ کوچ کے طور پر تقرری ہوئی مماثلت اور بلے بازی کے انداز اور مزاج کے لیے، انہیں ابتدا میں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا تھا جس نے عظیم جاوید میانداد سے پاکستانی بیٹنگ کی ذمہ داری لی تھی۔

مقامی کرکٹ کیریئر[ترمیم]

باسط علی ایک کامیاب جونیئر کرکٹر تھا، جس نے ایک وقت میں کراچی زونل لیگ کے سیزن میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔

ٹیسٹ کیرِئیر[ترمیم]

اس نے مارچ 1993ء میں 22 سال کی عمر میں پاکستان کے لیے ڈیبیو کیا، انہوں نے 19 ٹیسٹ کھیلے لیکن 1993-94ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف صرف ایک ٹیسٹ سنچری بنائی۔ باسط علی کو ہمیشہ ایک جارحانہ خطرہ مول لینے والا کھلاڑی خیال کیا جاتا رہا ہے

ون ڈے کیرئیر[ترمیم]

وہ 1990ء کی دہائی کے وسط میں کچھ عرصے کے لیے پاکستانی ون ڈے ٹیم کا باقاعدہ ممبر تھا۔ نومبر 1993ء میں اس نے شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 67 گیندوں پر تاریخ کی دوسری تیز ترین ایک روزہ بین الاقوامی سنچری بنائی۔ انہوں نے 62 گیندوں پر محمد اظہر الدین کے ریکارڈ کے مقابلے میں 67 گیندوں پر سنچری سکور کی اور 127 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]