باغی شیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باغی شیر
(Baghi Sher)
250px
ہدایت کاراسلم ڈار
مرتضٰے قریشی
پروڈیوسرراحیل جبران ڈار
منظر نویسعزیز میرٹھی
کہانیحسنین
ستارے
راوینبیل سلمان ڈار
موسیقیماسٹر عنایت حسین
سنیماگرافیسرور گل
ایڈیٹرظہور احمد
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کارفیموس ویڈیو (لندن)
تاریخ نمائش
دورانیہ
137 دقیقہ
ملکFlag of Pakistan.svg پاکستان
زبانپنجابی

باغی شیر (انگریزی: Baghi Sher) پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ اس فلم كو 4 نومبر، 1983ء كو پاکستان میں ریلیز ہوئى۔ پاکستانی اس فلم کا کریکٹر ایکشن اور میوزکل فلموں کے بارے میں فلم کی تکمیل کی گی ہیں۔ یہ فلم باکس آفس میں (سپرہٹ) ثابت ہوئی تھی یہ فلم پاکستان کے سنیما میں گولڈن جوبلی منائی کامیاب نمائش ہوئی تھی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر اسلم ڈار تھے۔ اور پروڈیوسر راحیل جبران ڈار تھے۔ کہانی عزیز میرٹھی نے لکھی تھی اور موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے بنائی تھی۔ فلم میں سلطان راہی نے باغی شیر کا بطور کردار نبھایا ہے، جب کہ دیگر اداکاروں میں دردانہ رحمان، مصطفٰی قریشی، نازلی، رنگیلا اور ادیب نے بھی اپنے کردار کو اچھے انداز میں پیش کیا۔ آپ کا شکر گزار محمد عاشق علی حجرہ شاہ مقیم سے۔

کہانی[ترمیم]

جاگیردار سردار خان بڑا انصاف پر ور اور اصول پسند آدمی تھا۔ اس کی نظر میں امیر غریب اور چھوٹا بڑا سب برابر تھے اس نے اپنی جاگیر میں مجرموں کو سزا دینے کے لئے کچھ اپنے اصول بنا رکھے تھے خصوصا عورت کی عزت و آبرو سے کھیلنے والے کی سزا موت تھی۔ خان کے بھائی ہا شم نے طاقت کے غرور اور خان سے رشتے داری کے زعمر میں ایک معصوم لڑکی کو اغوا کیا اور اس کے باپ کو ہلاک کر ڈالا ۔ تو اس کا فیصلہ سناتے وقت بھی خان نے یہی کہا کہ اگر آج میں نے تمہیں معاف کر دیا تو آنے والی نسلیں مجھے کبھی معاف نہیں کریں گی وہ قانون کے مطابق ہاشم کو اس کی پسند کا ہتھیار اور گھوڑے دے کر چار گھنٹے پہلے فرار ہو جانے کی مہلت دی ۔ کہ اس عرصے میں وہ جاگیر کے سرحدی دریا کو پار کر جائے تو زندگی اس کا انعام ہو گی ۔ لیکن خان خود اتنا بہادر اور اس بلا کا شہسوار تھا۔ کہ چار گھنٹے بعد مجرم کے تعاقب میں روانہ ہو کر اس نے ہاشم کو دریا پار کرنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسے جاگیر میں ایک غریب مگر جیالا نوجوان شیرا بھی رہتا تھا۔ رانی اور شیرا دونوں ایک دوسرے کو پیار کرتے تھے۔ مگر رانی کی سوتیلی اور لالچی ماں غریب شیرا کی بجائے رانی کو کسی اونچی جگہ بہانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ رانی کے باپ کو شیرا پسند تھا۔ اس نے رانی کا رشتہ شیرے سے طے کر دیا۔ اور شیرا شادی کا سامان لینے شہر چلا گیا۔ اتفاق سے ایک روزخان نے رانی کو دیکھ لیا۔ اور پہلی ہی نظر میں اسے دل دے بیٹھا۔ اس نے رانی کے والدین کو حویلی میں بلا کر رانی کا رشتہ طلب کیا۔ رانی کی ماں نے بوڑھے اور بیمار شوہر کی ایک نہ چلنے دی۔ اور خان کا رشتہ قبول کر لیا۔ اس صدمے سے رانی کا باپ چل بسا۔ خان نے رانی اور اس کی ماں کو حویلی میں بلا کر شادی کی تیاری شروع کر دی۔ لیکن عین وقت پر شیرا پہنچ گیا۔ اب خان اور شیرے میں ٹھن گئی۔ دونوں اپنی اپنی جگہ سچے تھے۔ دونوں کا قول تھا۔ بہادر اپنی منگ کدی نئی چھڈ دے۔ اس جنگ میں ایک طرف غریب اور لاوارث شیراتھا اور دوسری طرف طاقت و جبروت کا مجسمہ جاگیر کا مالک خان تھا۔ شیرا سخت مقابلے کے بعد رانی کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اصول کے مطابق خان چار گھنٹے کے بعد شیرے کے تعاقب میں نکلا زندگی اور موت کی اس دوڑ میں کون جیتا اور کون ہارا۔

اداکار[ترمیم]

ساؤنڈ ٹریک[ترمیم]

فلم کی موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی، فلم کے نغمات سعید گیلانی، وارث لدھیانوی، چوہدری اصغر علی اور کوثر وڑائچ نے گیت لکھے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل کفایت حسین انہوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نور جہاں نے گیت گائے۔

نمبر شمارعنوانبولموسیقیپردہ پش گلوکاراںطوالت
1."امبر ہووے دھرتی ہووے اج میں دیاں ہلا وۓ"چوہدری اصغر علی، کوثر وڑائچماسٹر عنایت حسیننور جہاں4:19
2."توں توں نہ رویں میں میں نہ رواں"سعید گیلانیماسٹر عنایت حسیننور جہاں4:13
3."اج مکدی گل مکانواں جے عشقے نوں لیکاں لانواں"سعید گیلانیماسٹر عنایت حسیننور جہاں3:56
4."سانوں مل گئی سجناں خدائی وے تیرے نال"سعید گیلانیماسٹر عنایت حسیننور جہاں3:14
5."کوئی کی جانے کل کی ہونا اج کرلیۓ پیار"وارث لدھیانویماسٹر عنایت حسیننور جہاں3:52
6."شالا جیوے تے وسدا رہوے او سدا"وارث لدھیانویماسٹر عنایت حسیننور جہاں3:37
کل طوالت:39:24

بیرونی روابط[ترمیم]