بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019ء
بسلسلہ پاک بھارت تنازعات
و مسئلہ کشمیر
تاریخ26 فروری 2019ء (2019ء-02-26)
مقامبالاکوٹ، پاکستان[1][2]
34°27′48″N 73°19′08″E / 34.46333°N 73.31889°E / 34.46333; 73.31889متناسقات: 34°27′48″N 73°19′08″E / 34.46333°N 73.31889°E / 34.46333; 73.31889
نتیجہ
  • بالاکوٹ میں جیش محمد کے کیمپ کی تباہی اور کم از کم 321 دہشت گردوں کی ہلاکت[3][4] (بھارتی دعویٰ)
محارب

Flag of India.svg بھارت

Jaishi-e-Mohammed.svg جیش محمد

Flag of Pakistan.svg پاکستان

کمانڈر اور رہنما
ایئر چیف مارشل بریندر سنگھ دھنوا
(CAS)
ایئر مارشل چندراشیکرن ہری کمار
(AOC-in-C، Western Air Command)[5]
مولانا یوسف اظہر
(بھارتی دعویٰ)[6]
ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان
شریک یونٹیں
ویسٹرن ایئر کمانڈ[7][5] نامعلوم نامعلوم
طاقت
12 میراج 2000 نامعلوم نامعلوم
ہلاکتیں اور نقصانات
کوئی نہیں

بھارتی دعویٰ: 300–350 عسکریت پسندوں کی ہلاکت[8]

پاکستانی دعویٰ: کوئی ہلاکت نہیں ہوئی
کوئی نہیں
بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019ء is located in کشمیر
بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019ء
بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019ء کا محل وقوع
بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019ء is located in پاکستان
بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019ء
بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019ء (پاکستان)

بالاکوٹ فضائی حملہ پاک بھارت کی 2019ء کی کشیدگی کا حصہ ہے جو 26 فروری 2019ء کو ہوا، جب بھارتی فضائیہ کے بارہ میراج 2000 طیاروں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن (لائن آف کنٹرول) کو پار کر کے پاکستان کے اندر ایک فضائی حملہ کیا۔ بھارت نے کہا کہ فضائی حملہ پلوامہ حملے کے جواب میں تھا۔[9]

بھارت کے مطابق بالاکوٹ میں جیش محمد کے عسکریت پسند کیمپ پر حملہ کر کے 350 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا اور طیارے بغیر نقصان کے واپس بھارتی فضائی حدود میں آگئے۔[9][10]

پاکستان کے مطابق، طیاروں نے مظفرآباد، پاکستان کے نزدیک ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ پاکستان کی کارروائی کے نتیجے میں وہ واپس چلے گئے۔ پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے اپنا ”پے لوڈ“ (جہاز پر موجود گولہ بارود) بالاکوٹ کے نزدیک گرا دیا، لیکن اس سے کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔[11][12]

واقعے کے بعد، بھارتی اور پاکستانی افواج نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول کے پار شیلنگ کی؛ پاکستان کے مطابق بھارتی شیلنگ سے 4 شہری اور 11 زخمی ہو گئے۔[13]

جب سے دونوں ریاستیں نیوکلیئر طاقتیں بنی ہیں اور 1971ء کی جنگ کے بعد یہ فضائی حملہ پہلی مرتبہ تھا۔[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "India destroys JeM terror camps: Where exactly is Balakot?"۔ Business Today۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  2. "India-Pakistan tension: Where is the real Balakot, the Indian Air Force target?"۔ گلف نیوز (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  3. "5-star Balakot Camp Was Sitting Duck Target for IAF, 350 Terrorists Killed While Sleeping: Sources"۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  4. "Balakot strike after intel on Pulwama 'celebration' meet"۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  5. ^ ا ب "Kerala man behind IAF air strike in Pakistan"۔ MyNation۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 فروری 2019۔
  6. "Jaish chief Masood Azhar's brother-in-law was target of IAF strike in Balakot"۔ Hindustan Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 فروری 2019۔
  7. "IAF Western Air Command coordinated 'anti-terror operation'"۔ The New Indian Express۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 فروری 2019۔
  8. "Indian Air Strike Destroys Terror Camp In Pakistan, Upto 350 Terrorists Killed"۔ BloombergQuint۔ 26 فروری 2019۔
  9. ^ ا ب "India Hits Main Jaish Camp In Balakot, "Non-Military" Strike: Government"۔ NDTV.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  10. "Indian jets bomb targets within Pakistan"۔ News.com.au۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  11. "Indian aircraft violate LoC, scramble back after PAF's timely response: ISPR"۔ Dawn (انگریزی زبان میں)۔ 26 فروری 2019۔ مورخہ 26 فروری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  12. "India says carried out air strike on 'terror camps' inside Pakistan"۔ Reuters (انگریزی زبان میں)۔ 26 فروری 2019۔ مورخہ 26 فروری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  13. Tariq Naqash (27 فروری 2019)۔ "4 AJK civilians dead, 11 wounded in 'indiscriminate' Indian shelling across LoC"۔ DAWN.COM۔
  14. "India airstrike in Pakistan: IAF crosses LoC first time since 1971 war"۔ India Today۔ 26 فروری 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔