بایزید بسطامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بايزيد بسطامى سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بایزید بسطامی
پیدائش 804
وفات 874[1]
مذہب اسلام
علاقہ مغربی ایشیاء
مکتبہ فکر اہل سنت
شعبہ عمل
mysticism، philosophy
اہم نظریات
Shukr

بایزید بسطامی جو شيخ أبو يزيد البسطامی اورطیفورابویزیدبسطامی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، اصل نام طيفور بن عيسى بن سروسان اور کنیت ابو یزید ہےفارس(ایران )کے صوبے بسطام[2]میں پیداہوئے۔بسطامی آپ کے نام کے ساتھ اسی نسبت سے لگایاجاتاہے۔آپ کے آباؤ اجدادمجوسی تھے جوکہ بعد میں اسلام کی طرف راغب ہوگئے۔[3] بسطام ایک بڑا قریہ ہے جو نیشاپور کے راستے میں واقع ہے آپ کے داداکے تین بیٹے تھے،آدم،طیفور(بایزیدکے والد)اورعلی یہ سارے بڑے ہی زاہد اور عبادت گذار تھے وفات 261 ہجری میں ہوئی۔[4]

عظیم صوفی[ترمیم]

معروف ترین مسلم صوفیہ کرام میں سے ایک۔ تصوف میں ابو یزید کےاستاد ابوعلی السندی نامی ایک صوفی تھے جوعربی نہیں جانتے تھے [5] بعد ازاں دنیا ترک کر دی اور بارہ سال تک جنگلوں میں ریاضت کی۔ تصوف میں آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ آپ کو علم باطن میںامام جعفر صادق کی روحانیت سے تربیت ہے جبکہ آپ کی پیدائش امام کی وفات سے بعد کی ہے[6]۔


مقام و مرتبہ[ترمیم]

سید الطائفۃ جنید بغدادی نے آپ کے متعلق فرمایا بایزید ہمارے درمیاں اس طرح ہیں جس طرح ملائکہ میں حضرت جبریل۔[7] اور مقام توحید میں تمام بزرگوں کی انتہا آپ کی ابتدا ہےکیونکہ ابتدائی مقام میں ہی لوگ سرگرداں ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جیسا کہ بایزیدبسطامی کا قول ہے اگر لوگ دوسو سال تک بھی لوگ گلشن معرفت میں سرگشتہ رہیں جب کہیں جاکر ان کو ایک پھول مل سکتا ہے جو مجموعی طور پر ابتداء ہی میں مجھے مل گیا [8]۔امام مناوی فرماتے ہیں کہ ابویزید بسطامی عارفین کے اماموں کے بھی امام تھے اور محققین صوفیہ کرام کے مشائخ کے شیخ تھے تمہارے لئے ان کے بارے میں جناب خانی کا یہ قول ہی کافی ہے کہ آپ انہیں سلطان العارفین کہا کرتے تھے اور ابن عربی انہیں ابو یزید اکبر کہا کرتے تھےاور انہوں نے ذکر کیا کہ آپ اپنے زمانہ کے قطب غوث تھے[9]۔شیخ ابو سعید کا قول ہے کہ میں پورے عالم کو آپ کے اوصاف سے پر دیکھتا ہوں لیکن اس کے باوجود بھی آپ کے مراتب کا کوئی نہیں جانتا [10]۔ جب بایزید نماز پڑھتے توان کے سینہ کی ہڈیوں سے آواز نکلتی تھی جس کو لوگ سن لیتے خدا کی ہیبت اور شریعت کی تعلیم کی وجہ سے۔ بایزید نے موت کے وقت یہ کہا سانچہ:ع!الہی ما ذکرتک الا عن غفلۃ وما خدمتک الا عن فترۃ خدایا میں نے تجھ کو یاد نہ کیا سوائےغفلت کے اور میں نے تیری خدمت سوائے نقصان کے نہیں کی[11]


وفات[ترمیم]

آپ نے 15 شعبان 231 ھ بسطام میں انتقال کیا[12]۔ کوئی مستقل تصنیف نہیں چھوڑی ۔ چند اقوال مختلف لوگوں کی زبانی تصوف کی کتابوں میں موجود ہیں۔

تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ cite web|url=http://www.banglapedia.org/HT/B_0363.HTM%7Ctitle=Bayazid Bostami|accessdate=2013-02-04|publisher=Banglapedia|author=Abdul Karim}}
  2. ^ ”سلسلہ ءسہروردیہ اورنور“مصنف جان والبرج ،آکسفورڈیونیورسٹی پریس،2005صفحہ نمبر 206.
  3. ^ رسالہ ءقشیری برائے علم ِ تصوف مصنف ،ابوقاسم القشیری،ناشراتھاکاپریس2007، صفحہ نمبر32
  4. ^ موسوعۃالکسنزان سيد الشيخ محمد بن الشيخ عبد الكريم الكسنزان الحسيني
  5. ^ اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 1صفحہ 932 دانش گاہ پنجاب لاہور
  6. ^ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ صفحہ 64نور بخش توکلی مشتاق بک کارنر لاہور
  7. ^ http://www.islahulmuslimeen.org/urdu/books/jalwagah/h06.htm
  8. ^ تذکرۃ الاولیاء شیخ فرید الدین عطار صفحہ 94 الفاروق بک فاؤنڈیشن لاہور
  9. ^ جامع کرامات اولیاء جلد دوم صفحہ 250علامہ محمد یوسف نبہانی ضیاء القرٓن پبلیکشنز
  10. ^ تذکرۃ الاولیاء شیخ فرید الدین عطار صفحہ 94 الفاروق بک فاؤنڈیشن لاہور
  11. ^ نفحات الانس ،عبد الرحمن جامی، صفحہ88، شبیر برادرز اردو بازار لاہور
  12. ^ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ صفحہ 70نور بخش توکلی مشتاق بک کارنر لاہور

بیرونی روابط[ترمیم]