باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈا
Bacha Khan International Airport
200px
Peshawar Airport (retouched).JPG
خلاصہ
ہوائی اڈے کی قسم عوامی
عامل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی
خدمت پشاور
محل وقوع خیبر پختونخوا، پاکستان
بلندی سطح سمندر سے 1,158 فٹ / 353 میٹر
متناسقات 33°59′38″N 71°30′53″E / 33.99389°N 71.51472°E / 33.99389; 71.51472
رن وے
سمت لمبائی سطح
فٹ میٹر
17/35 9,000 2,743 ایسفلت
اعداد و شمار
Passengers 1,035,259[1]
Cargo 9,338 tons[1]

باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈا یا پشاور انٹرنیشنل ائرپورٹ (کوڈ: PEW|OPPS) پاکستان کے صوبہ سرحد میں پشاور کے مقام پر واقع بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ پشاور شہر کے مرکز سے تقریباًً 10 منٹ کی مسافت پر واقع ہے اور پاکستان میں چوتھا مصروف ترین ہوائی اڈا شمار ہوتا ہے۔ اس ہوائی اڈے کی غیر معمولی بات یہ ہے کہ اس کے رن وے کے ایک حصے پر ریل کی پٹری گزرتی ہے جو خیبر ٹرین سفاری کے استعمال میں ہے جو لنڈی کوتل تک سفر کرتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

یہ ہوائی اڈا ایک لحاظ سے وادی پشاور کے مرکز میں واقع ہے۔ پشاور انٹرنیشنل ائرپورٹ پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد سے تقریباًً 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، گاڑی پر یہ سفر تقریباًً 2 گھنٹے میں طے کیا جا سکتا ہے۔ اس ہوائی اڈے کی تاریخی اہمیت ملک کے دوسرے ہوائی اڈوں کی نسبت ممتاز ہے۔ چونکہ پشاور صوبہ سرحد کا مرکز ہے اس لیے یہ ملک کے شمال مغربی حصے میں دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے جو عالمی معیار پر پورا اترتا ہے۔
یہ ہوائی اڈا تقریباًً 1927ء سے زیر استعمال ہے جب یہاں برطانوی دور میں اس علاقے کو چھوٹے پیمانے پر جہازوں کی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانوی دور میں ہندوستان سے چین اور سنگا پور یا پھر یورپ اور امریکہ کی جانب ہوائی جہازوں کے لیے یہ ہوائی اڈا عارضی قیام گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے اس شہر اور ہوائی اڈے کو “مشرق کا دروازہ“ بھی کہا جاتا رہا ہے۔ برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد ہی اس ہوائی اڈے کو صحیح معنوں میں اہمیت حاصل ہوئی جب ملک میں عالمی معیار کے ہوائی اڈے گنے چنے تھے۔ پاکستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ائیر فورس نے مشترکہ طور پر اس ہوائی اڈے کو فوجی اور سول استعمال میں لایا۔ شروعات میں پاکستان کے اندر پشاور سے کراچی اور افغانستان کی جانب لاتعداد پروازیں جاری ہوئیں۔


مکمل طور پر عالمی معیار کی سند اس ہوائی اڈے کو 1965ء میں عطا کی گئی، جب کہ پہلی بار کابل سے پشاور کی جانب پہلی تصدیق شدہ بین الاقوامی پرواز عمل میں لائی گئی۔ اس پرواز کو پاکستان ائیر لائنز کے طیارے میں حکومت پاکستان کی تصدیق سے عمل میں لایا گیا۔ جیسے جیسے سال گزرتے گئے اس ہوائی اڈے پر عالمی پروازوں کی آمدورفت بڑھتی گئی اور 1981ء میں حکومت پاکستان نے بڑے پیمانے پر اس ہوائی اڈے میں توسیعی کام کی منظوری دی تاکہ مستقبل کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ 1986ء میں یہ توسیعی کام مکمل کر لیا گیا اور یہاں ایک وقت میں چار بڑے اور دو چھوٹے طیاروں کے آنے کی گنجائش بن گئی۔
جنوری 2008ء میں صوبائی حکومت نے اس ہوائی اڈے میں ایک بار پھر توسیعی کام کی منظوری دی جہاں ائیرپورٹ پر سہولیات، ٹرمینل کو نئے سرے سے ترتیب دینے اور کارگو کی سہولت میں اضافے جیسے منصوبے شامل تھے۔[2] جون 2008ء میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ائیر وائس مارشل ساجد حبیب نے بتایا کہ پشاور کے ہوائی اڈے کی توسیع کے لیے پانچ ارب روپے مختص کر دیے گئے ہیں۔[3]

ساخت[ترمیم]

پشاور بین الاقوامی آمدورفت میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے، یہاں تقریباًً %75 پروازیں بین الاقوامی ہیں۔ حال ہی میں یہاں توسیعی کام کی منظوری دی گئی ہے تاکہ مستقبل قریب میں بین الاقوامی معیار کی جانچ پر اس ہوائی اڈے کو منظور کروایا جاسکے اور بین الاقوامی آمدورفت کے ذرائع میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت اور سول ایوی ایشن اتھارٹی مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہاں میسر سہولیات میں ٹیلی فون، زرمبادلہ، بینک، انٹرنیٹ، معلوماتی سینٹر، دکانیں، ریستوان، ٹیکسی اور ڈاکخانہ شامل ہیں۔ یہاں تکنیکی لحاظ سے مندرجہ زیل سہولیات میسر ہیں۔

  • رن وے ;
  • * 9,000 فٹ لمبائی، 150 فٹ چوڑا اور 10 فٹ کی توسیع جو دونوں اطراف میں دی گئی ہے۔ عالمی معیار میں اس کو زمرہ چار ای میں شامل کیا جاتا ہے۔
  • ایپرن;
  • * مسافروں اور کارگو کے لیے لچکدار اور سخت راستے۔
  • * چار بڑے اور 2 چھوٹے جہاز ایک ساتھ یہاں قیام کر سکتے ہیں۔
  • لاوئج;
  • * دو رخصت اور آمد کے لاوئنج جن میں وائرلیس انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے۔
  • * دو بین الاقوامی رخصت اور آمد کے ہال
  • * دو ایگزیکٹو لاونج
  • متفرق
  • * جانوروں کے لیے تشخیصی اور حفاظتی ہسپتال

واقعات[ترمیم]

  • ایک جاسوس طیارہ جس کو گیری پاورز چلا رہے تھے، پشاور ہوائی اڈے سے روانہ ہوا۔ اس کا مقصد سوویت یونین پر پرواز کر کے جاسوسی کرنا تھا۔ اس طیارہ کو مار گرایا گیا اور پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی واقعہ کے نتیجہ میں 1960ء کا مشہور 2-U مسئلہ پیش آیا تھا۔
  • 26 مارچ 1965ء کو پاکستان کی قومی ائیرلائن کے طیارے ڈوگلاس ڈی سی 3 نے پشاور ائیرپورٹ سے پرواز کی۔ دوران پرواز اس طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس طیارہ نے درہ لواری کے قریب ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔ بدقسمتی سے یہ طیارہ تباہ ہو گیا اور عملے سمیت کوئی بھی مسافر زندہ نہ بچ سکا۔
  • پاکستان کے قومی ائیر لائن کا ایک فوکر طیارہ جو رات کے وقت یہاں ہوائی اڈے پر پہنچا۔ ساتھی پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے یہ طیارہ نسبتاً نیچی پرواز پر تھا، غلط اندازے کی وجہ سے طیارہ لینڈ نگ کے دوران رن وے پر گھستا چلا گیا، اس کے نتیجے میں طیارہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ 13 مسافر اور عملے کے اراکین کو شدید چوٹیں آئیں۔ یہ واقعہ 23 اکتوبر 1986ء کو پیش آیا۔
  • پشاور میں سیکورٹی کی انتہائی کشیدہ صورت حال کے نتیجہ میں چھ عالمی ہوائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں منسوخ کر دیں۔ یہ فیصلہ اگست 2009ء میں ہوائی اڈے پر ہوئے راکٹ حملے کے بعد کیا گیا۔ اس کے علاوہ شہر میں پانچ ستارہ ہوٹل نہ ہونا بھی بتایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے شہر کے واحد پانچ ستارہ ہوٹل کو ایک دہشت گرد حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ پروازیں منسوخ کرنے والی کمپنیوں میں سعودی ائیر لائنے، ایمریٹس ائیر لائنے، گلف ائیر، ائیر عربیہ، قطر ائیر ویز اور اتحاد ائیر ویز شامل ہیں۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]