مندرجات کا رخ کریں

باگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
باگھ
زمانی حد: Early وسط حیاتی دور – Recent
A بنگالی باگھ (P. tigris tigris)
بقا کی صورت حال
سائنسی درجہ بندی
اقلیم:
قوم:
ذیلی قوم:
جماعت:
فصیلہ:
خاندان:
جنس:
نوع:
P. tigris
Subspecies

بنگالی باگھ
P. t. corbetti
P. t. jacksoni
P. t. sumatrae
P. t. altaica
P. t. amoyensis
P. t. virgata
P. t. balica
P. t. sondaica
P. t. trinilensis

Tiger's historic range in about 1850 (pale yellow) and in 2006 (in green).[2]
ہم نام
Felis tigris Linnaeus, 1758[3]

Tigris striatus Severtzov, 1858

Tigris regalis Gray, 1867
فائل:Manchuriantig.jpg
باگھ

باگھ ممالیہ جماعت (mammals) اور خاندان بلی کی نسل Felidae سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہندی میں انھیں باگھ اور انگلش میں Tiger کہا جاتا ہے۔ اپنے مضبوط، طاقتور اور شاندار جسم کی بدولت شیر بہترین شکاری ہوتے ہیں۔ شیر کو بطور علامت طاقتور، بہادر، ظالم اور سنگدل استعمال کیا جاتا ہے۔

وضاحت

[ترمیم]

کرہ ارض پر یہ سب سے بھاری بلی ہے۔ شیر کا جسم چوڑا اور طاقتور ہوتا ہے۔ بالغ نر کا وزن تقریباً 200 سے 320 کلو گرام تک اور مادہ کا تقریباً 120 سے 180 کلو گرام تک ہوتا ہے۔ جسم کی لمبائی 140 سے 280 سنٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ ان کا رنگ زردی مائل ہوتا ہے اور اس میں بھوری یا سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔ جبکہ سفید شیر کا رنگ سفید اور سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔ ان میں دھاریوں کی تعداد تقریباً 100 کے لگ بھگ ہوتی ہے۔

شیر بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، ہندوستان، انڈونیشیا، میانمار، ملائیشیا، نیپال، شمالی کوریا، تھائی لینڈ، ویت نام اور روس کے مشرقی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

شیر بہت اچھے تیراک ہوتے ہیں۔ ان کے شکار کرنے کا طریق بالکل بلی کی طرح ہے۔ یہ چھپ کر شکار کرتے ہیں۔ ان کو 50 کلو تک وزن اٹھا کر 2 میٹر اونچی رکاوٹ کو پھاندتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ زیادہ تر شیر انسانوں کا شکار نہیں کرتے۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ شیر اپنی بھوک مٹانے کے لیے انسانوں کا شکار کریں۔

شیر کا شکار

[ترمیم]
فائل:Tiger distribution.gif
تقسیم بمطابق 1900(سرخ) اور 1990(سبز).

کوئی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے شیر کی کھال (یا جلد) حاصل کرنے کے لیے اس کا 1990 تک بہت شکار کیا گیا۔ یہاں تک کہ یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں یہ نسل ہمیشہ کے لیے ختم ہی نہ ہو جائے۔ اب ان کے شکار پر پابندی ہے۔ چونکہ ان کی کھال کافی قیمتی ہوتی ہے اس لیے کچھ لوگ ان کی کھال حاصل کرنے کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں۔ مہا راجے اور اکثر رؤسا ان کھالوں کو بھاری معاوضہ ادا کر کے خریدتے ہیں۔ ان کی پشت پناہی کی ہی وجہ سے اب تک ان جانوروں کا شکار جاری ہے۔ دنیا میں کل 6,000 کے لگ بھگ ہی شیر بچے ہیں۔ اگر ان کے شکار کا سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہ نسل دنیا سے بالکل غائب ہو جائے گی۔

دیگر روابط

[ترمیم]

Felidae ممبرز

[ترمیم]

شیر،ببر (شیر), چیتا، بلی

نگار خانہ

[ترمیم]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]