ببرک کارمل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ببرک کارمل
(فارسی میں: ببرک کارمل خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
جنرل سیکرٹری مرکزی کمیٹی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان
مدت منصب
27 دسمبر 1979 – 4 مئی 1986
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حفیظ اللہ امین
محمد نجیب اللہ Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
چیئرمین، افغانستان انقلابی کونسل
مدت منصب
27 دسمبر 1979 – 24 نومبر 1986
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حفیظ اللہ امین
حاجی محمد چمکانی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
چیئرمین وزرا کونسل
مدت منصب
27 دسمبر 1979 – 11 جون 1981
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حفیظ اللہ امین
سلطان علی کشمنت Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 6 جنوری 1929[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 دسمبر 1996 (67 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ماسکو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سرطان جگر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Afghanistan (1931–1973).svg مملکت افغانستان
Flag of Afghanistan (1974–1978).svg جمہوریہ افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  سفارت کار،  وکیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ببرک کارمل، ( پیدا ئشی نام: سلطان حسین؛ 6 جنوری1929 – 1 یا 3 دسمبر 1996) افغان  سیاست دان تھے جو 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد صدر منتخب ہوئے۔وہ افغانستان کے قصبہ کماری میں پیدا ہوئے جبکہ جامعہ کابل میں تعلیم حاصل کی۔پیپلزڈیموکریٹک پارٹی افغانستان کے بننے کے بعد وہ اس کے اہم رہنماؤں میں سےایک بن گئے۔ حکومت کی جانب سے ان کی انتہا پسند کارروائیوں کے پیش نظر انہیں قید میں ڈال دیا گیا، اسی دوران میں ا ن کی ملاقات میر اکبر خیبرسے ہوئی جس نے انہیں مارکسیت کے نظریات سے متعارف کروایا۔1967ء میں جب ان کی سیاسی  پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی تو وہ پرچم دھڑے کے رہنما بن گئے۔کارمل کی قیادت میں پرچم دھڑے نے محمد داؤد خان کے 1973ء میں اقتدار میں آنے کی حمایت کی ، شروع میں ان کے تعلقات بہتر رہے لیکن 1970ء کے وسط میں بائیں بازو کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے داؤ د خان حکومت  کی جانب سے ملک میں  بائیں بازو رحجان کے حامل افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ اس کی وجہ سے 1977ء میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اصلاحات کا آغاز کیا گیا اور ببرک کرمل نے ملک میں 1978ء کے ثور انقلاب میں اہم کردار ادا کیا۔

انقلاب کے بعد کارمل کو انقلابی کونسل کا ڈپٹی چیئرمین مقرر کیا گیا تاہم خلق پارٹی کے اقتدار کے دوران میں جلد ہی پرچم دھڑے پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا۔ جون 1978ء میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے  اجلاس میں خلق دھڑے کو پارٹی پالیسی پر خصوصی اختیارات کے حق میں فیصل صادر کیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد پرچم دھڑے نے بغاوت کرتے ہوئے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا لیکن یہ بغاوت ناکام رہی جس کے نتیجے میں حفیظ اللہ امین، خلق پارٹی رہنما نے پرچم دھڑے کے رہنماؤں کو ختم کرنا شروع کر دیا۔ تام کارمل ان کارروائیوں سے بچتے ہوئے پراگ جلا وطن ہو گئے، جہاں وہ دسمبر 1979ء تک قیام پزیر رہے۔ حفیظ اللہ امین کی حکومت کے ایما پر سوویت یونین نے افغانستان میں جارحیت کا آغاز کر دیا اور سب سے پہلے امین کو ہی قتل کیا گیا۔ شروع سے ہی ببرک کارمل اپنے پیش رو خلقی نورمحمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کے الٹرا لیفٹ پالیسیوں کے سخت ناقد رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Babrak-Karmal — بنام: Babrak Karmal — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=154289877 — بنام: Babrak Karmal — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017