مندرجات کا رخ کریں

ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے
پیدائش12 ستمبر 1894(1894-09-12)
گھوش پاڑہ مراتی پور، ضلع 24 پرگنہ، بنگال، برطانوی راج
وفات1 نومبر 1950ء(1950-11-01) (56 سال)
گھاٹ شیلا، بہار، بھارت
پیشہمصنف، ناول نگار، گیت نگار
قومیتبھارتی
شہریت بھارت
مادر علمیسریندر ناتھ کالج
نمایاں کام
اہم اعزازاتربندر پرسکار (بعد از مرگ) (1951ء)
شریک حیات
  • گوری دیوی
  • رما چٹوپادھیائے
اولادتارا داس بندوپادھیائے
ویب سائٹ
bibhutibhushan.in

بِبھوتِی بھوشن بندوپادھیائے (12 ستمبر 1894ء – 1 نومبر 1950ء)[1] بنگالی ناول نگار اور مختصر افسانہ نگار تھے جو بھارتی قومیت کے حامل تھے۔[2][3][4] ان کی مشہور ترین کاوشوں میں خود نوشت ناول پتھیر پانچالی (شاہراہ کا گیت)، اپراجیت (نا قابلِ شکست)، چاندیر پاہاڑ (چاند کا پہاڑ) اور آرنیک (جنگل کا) شامل ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے کی پیدائش 12 ستمبر 1894ء کو بنگال پریسڈنسی (موجودہ ریاست مغربی بنگال) کے ضلع 24 پرگنہ کے گاؤں گھوش پاڑہ، مراتی پور میں نانیہال کے گھر ہوئی۔ ان کا آبائی گاؤں بیرک پور بھی اسی ضلع میں واقع تھا۔ والد کا نام مہانند بندوپادھیائے شاستری تھا، جو پیشے سے داستان گو تھے۔ والدہ کا نام مرینالنی دیوی تھا۔ والد کی آزاد مزاج اور خانہ بدوش فطرت کی وجہ سے گھریلو حالات کچھ زیادہ خوش حال نہیں تھے اور شاید وہ خود بھی ایسی زندگی کے خواہاں نہ تھے۔ ببھوتی بھوشن اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے اپنے والد سے گھر پر حاصل کی۔ بعد ازاں مختلف مقامی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے وہ بن گرام ہائی اسکول میں داخل ہوئے، جہاں انھیں فیس سے مستثنا کر دیا گیا تھا۔ آٹھویں جماعت میں تعلیم کے دوران والد کا انتقال ہو گیا اور یتیمی کے عالم میں انھوں نے کافی مشقت جھیل کر سنہ 1914ء میں انٹرنس پہلے درجے میں پاس کیا۔

1916ء میں کلکتہ کے رپن کالج (موجودہ سریندر ناتھ کالج) سے انھوں نے آئی اے کی ڈگری حاصل کی اور 1918ء میں وہیں سے بی اے میں امتیازی نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوئے۔ ایم اے اور قانون کی تعلیم شروع کرنے کے باوجود مختلف اسباب کی بنا پر وہ تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔[5]

نجی زندگی

[ترمیم]

ببھوتی بھوشن کی پہلی شادی اُس وقت ہوئی جب وہ تھرڈ ایئر میں زیرِ تعلیم تھے۔ یہ شادی بشیر ہاٹ کے ایک مختار کالی بھوشن مکھوپادھیائے کی بیٹی گوری دیوی سے ہوئی۔ تاہم شادی کے ایک سال بعد ہی گوری دیوی کا انتقال ہو گیا۔ اس صدمے کے بعد کچھ عرصے تک انھوں نے دنیاوی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

بعد ازاں 3 دسمبر 1940ء کو ضلع فرید پور کے بھی گاؤں کے رہنے والے شوڑشی کانت چٹوپادھیائے کی بیٹی رَما دیوی سے ان کی دوسری شادی ہوئی۔ سات سال بعد ان کے یہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا نام تارا داس (عرف بابلو) رکھا گیا۔[5]

ادبی زندگی اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں

[ترمیم]

ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز مغربی بنگال کے ضلع ہُگلی میں واقع جنگی پاڑہ کے مائز اسکول میں بطور استاد کیا۔ بعد ازاں وہ ضلع 24 پرگنہ کے ہری نابھی گاؤں کے ایک ہائی انگلش اسکول سے منسلک ہوئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اُن کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

ان کی پہلی کہانی ”اُپیکھتا“ بنگالی جریدے پرباسی کے ماہِ ماگھ شمارہ (بنگلہ سال 1328) میں شائع ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد انھوں نے گورکھنی سبھا کے لیے بطور پرچارک کام کیا جس کے دوران انھیں بنگال، آسام، تریپورہ اور اراکان جیسے علاقوں کے طویل سفر کا موقع ملا۔ پھر وہ خلعت چند رگھوش کے یہاں بطور سیکریٹری اور اتالیق کام کرتے رہے۔ اس کے بعد بھبھوتی بھوشن کو گھوش اسٹیٹ میں اسسٹنٹ منیجر مقرر کیا گیا جہاں وہ بھاگل پور کے ایک علاقے ”بڑا باسا“ میں مقیم رہے۔ یہیں قیام کے دوران انھوں نے اپنا شہرہ آفاق ناول پتھیر پانچالی تحریر کیا۔

انھوں نے گھاٹ شیلا میں اپنی پہلی بیوی کی یاد میں ایک گھر تعمیر کرایا جس کا نام ”گوری کُنج“ رکھا۔ گھاٹ شیلا ان کی پسندیدہ جگہ تھی جہاں وہ سال میں کئی مہینے گزارتے۔ سنہ 1942ء میں وہ اپنی دوسری اہلیہ رما دیوی کے ساتھ بیرک پور منتقل ہو گئے لیکن ہر سال گھاٹ شیلا جا کر قیام ان کا معمول رہا۔ وہ عام طور پر پوجا سے قبل وہاں جاتے اور پھاگن مہینے کے آغاز میں واپس آتے۔

بھبھوتی بھوشن کو سیاحت کا بھی بے حد شوق تھا۔ انھوں نے حکومتِ بہار کے اعلیٰ افسرِ جنگلات جوگیندر ناتھ سنگھ کے ساتھ سنگھ بھوم، ہزاری باغ، رانچی اور مان بھوم جیسے ضلعوں کے جنگلات اور پہاڑی علاقوں کا دورہ کیا۔ انھوں نے کئی سفرنامے اور روزنامچے میں لکھے۔[6]

وفات

[ترمیم]

زندگی کے آخری دس برس انھوں نے بیرک پور میں گزارے۔ اسی عرصے میں انھوں نے بنگلہ ادب کے کئی اعلیٰ درجے کے ناول اور افسانے تخلیق کیے۔ 1 نومبر 1950ء کو وہ گھاٹ شیلا میں اپنے گھر میں رات آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 56 سال تھی۔[6]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ "State Central Library Kolkata" (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2018-09-27. Retrieved 2018-09-12.
  2. ↑ Kunal Chakrabarti; Shubhra Chakrabarti (2013). Historical Dictionary of the Bengalis. Historical Dictionaries of Peoples and Cultures (بزبان انگریزی). Lanham: Scarecrow Press. p. 61. ISBN:978-0-8108-5334-8.
  3. ↑ Somak Ghoshal (6 Sep 2019). "Remembering the evergreen genius of Bibhutibhushan Bandyopadhyay". mint (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2020-03-29. Retrieved 2020-03-29.
  4. ↑ "Ballad of Bibhutibhushan Bandyopadhyay's Last Abode Beckons". The Telegraph (بزبان انگریزی). ABP Group. 6 Feb 2020. Archived from the original on 2023-01-22. Retrieved 2025-06-30.
  5. 1 2 ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے۔ پتھیر پانچالی۔ ترجمہ از اقبال کرشن۔ ساہتیہ اکادمی، دہلی۔ ص 5
  6. 1 2 ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے۔ پتھیر پانچالی۔ ترجمہ از اقبال کرشن۔ ساہتیہ اکادمی، دہلی۔ ص 6

بیرونی روابط

[ترمیم]