بحیرا راہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 12 برس دو مہینے دس دن کی ہو گئی تو آپکے چچا ابو طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیکر تجارت کے لئے ملک شام کے سفر پر نکلے اور بصرٰی پہنچے۔بصرٰی شام کا ایک مقام اور حوران کا مرکزی شہر ہے۔اس وقت یہ جزیرۃالعرب کے رومی مقبوضات کا دار الحکومت تھا۔ اس شہر میں جرجیس نامی ایک راہب رہتا تھا جو بحیرا کے لقب سے معروف تھا، جب قافلے نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو یہ راہب خلاف معملول اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے اندر آیا اور اسکی میزبانی کی حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں نکلتا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کی بناء پر پہچان لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ انہیں رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجے گا۔ ابو طالب نے کہا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ اسنے کہا " تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی بھی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لئے جھک نہ گیا ہو اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اور انسان کو سجدہ نہیں کرتیں"۔ پھر میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو کندھے کے نیچے کری (نرم ہڈی) کے پاس سیب کی طرح ہے اور ہم انہیں اپنی کتابوں میں بھی پاتے ہیں۔ اسکے بعد بحیرا راہب نے ابو طالب سے کہا انہیں واپس کردو ملک شام نہ لیجاؤ کیونکہ پہود سے خطرہ ہے۔ اس پر ابو طالب نے بعض غلاموں کی معیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ واپس بھیج دیا۔

بحیرا کی خانقاہ[ترمیم]

رومی عہد میں اسقفیہ کبرا کی وجہ سے بصرہ میں ایک باسلیق (مخروطی دار القضاء) قا‏ئم تھا۔ اس کے قریب سینٹ سرجیئس کی خانقاہ تھی جس میں ایک بڑا گرجا بھی تھا جس کی دیواریں اور محراب ابھی تک باقی ہیں۔ یہیں بحیرا راہب کی اقامت گاہ تھی جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آیندہ رسالت کی اس وقت گواہی دی جب آپ اپنے چجا ابو طالب کے ہمراہ بصرہ آئے تھے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر شوقی ابو خلیل (2009ء)۔ اٹلس سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ لاہور: دارالسلام، پاکستان۔ صفحات۔100۔ http://dar-us-salam.com/urdu-section/biography-history/urdu-atlas-seerat-an-nabi.html۔ 
  • (1) تلقیح الفہوم ص7، ابن ہشام 1/149
  • (2) مختصر السیرۃ، شیخ عبداللہ ص 15،16
  • (3) یہ بات ابن جوزی نے تلقیح الفہوم ص7 میں کہی ہے۔