بختاور بھٹو زرداری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بختاور بھٹو زرداری
معلومات شخصیت
پیدائش 25 جنوری 1990ء (عمر 29 سال)
پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت پاکستانی
مذہب اسلام[1]
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
والدین آصف علی زرداری
بینظیر بھٹو
والد آصف علی زرداری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ بینظیر بھٹو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان زرداری بلوچ خاندان
بھٹو خاندان
عملی زندگی
مادر علمی یونیورسٹی آف ایڈنبرا
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ Bakhtawarbz.com

بختاور بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی گھرانے کا حصہ ہیں۔ 25 جنوری 1990 کو پاکستان کے صوبے سندھ میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذو الفقار علی بھٹو کی نواسی اور شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی بھانجی ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری، حاکم علی زرداری کی پوتی اورپاکستان قومی اسمبلی کی رکن عذرا فضل پیچوہو اور فریال تالپور کی بھتیجی ہیں۔[2]

ذو الفقار علی بھٹو[ترمیم]

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم تھے جو لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ ان کو قائدِ عوام‎ یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ ذو الفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی ’’ساؤ تھمپئین‘‘ میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ 1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی حکومت ذو الفقار علی بھٹو کو سونپ دی۔ وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ 1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں وہ نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔[3]

بینظیر بھٹو[ترمیم]

بینظیر بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذو الفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی تھیں۔ 21 جون 1953 میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی،15برس کی عمر میں اولیول کا امتحان پاس کیا۔ انھوں نے آکسفورڈ یونی ورسٹی سے فلسفہ، معاشیات اورسیاسیات میں ایم اے کیا۔ 1977میں تعلیم حاصل کر کے وطن واپس آئیں۔ اسی دوران ملک میں مارشل لا کا نفاذ ہوا۔ ان کے والدذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیج دیا گیاجس کے بعد1979میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے انھیں پھانسی کی سزا سنادی۔ 1984میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی۔ جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ 1986ء میں وہ وطن واپس آئیں۔ 1987ء میں  آصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔2 دسمبر1988ء میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست1990میں ان کو برطرف کر دیا گیا۔ اکتوبر 1993عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ 1996میں ایک بار پھر ان کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا۔ جس کے بعد انھوں نے جلا وطنی اختیار کرلی۔ 18 اکتوبر2007کو محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی 8سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئیں۔ کراچی کے ہوائی اڈے سے لاکھوں افراد کے جلوس میں اُن کا قافلہ جب شارع فیصل کارساز کے مقام پر پہنچا تو وہاں ہونے والے دو بم دھماکوں سے یہ سفر وہیں رک گیا۔ اس واقعے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈیڑھ سو سے زائد کارکن جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے، محترمہ بے نظیر بھٹو اس بم حملے میں محفوظ رہیں۔ لیکن 27 دسمبر 2007کو راولپنڈ ی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد اسلام آباد جاتے ہوئے بم حملے میں وہ ہوگئیں۔ اس واقعے کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور اپنی والدہ کے اس سفر کو جاری رکھا ۔[4]

آصف علی زرداری[ترمیم]

آصف علی زرداری سابق صدر پاکستان ایک سندھی بلوچ سیاست دان اور ذو الفقار علی بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل حاکم علی زرداری کے بیٹے ہیں۔ وہ جولائی 1954ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا اندرونِ سندھ زمینداری کے ساتھ کراچی میں بھی کاروبار تھا۔ ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس اسکول کراچی سے حاصل کی۔ دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹارو سے 1974ء میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ 1968میں انھوں نے فلمساز سجاد کی اردو فلم ’منزل دور نہیں ‘ میں چائلڈ اسٹار کے طور پر بھی اداکاری کی، لیکن یہ ایک فلاپ فلم ثابت ہوئی۔

1987 میں ان کا رشتہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے طے پایا۔ 18دسمبر1987میں ان کی شادی کی یادگار تقریب کراچی میں منقعد کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ 1988میں باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا۔ 1990میں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں وہ رکنِ قومی اسمبلی بنے۔ 1993 میں وہ نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنے پھر بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔ وہ 1987 سے 1999تک سنیٹ کے رکن رہے۔ 1990سے 2004تک کرپشن کے الزامات کی ز د میں رہے، 10برس جیل کاٹی اور وہاں قیدیوں کی فلاح و بہبہود کے لیے کام کیا۔ 2004میں تمام الزمات سے بری ہو گئے۔ 27دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ اگست 2008ء میں ان کا نام صدر پاکستان کے عہدہ کے لیے تجویز کیا گیا، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے باظابطہ طور پر اس کو 6 ستمبر 2008ء کے صدارتی انتخاب کے لیے نامزد کر دیا۔ 8 ستمبر 2013ء کو مدّت ختم ہونے پر زرداری کو صدرات کی کرسی خالی کرنا پڑی۔[5]

تعلیمی سفر[ترمیم]

بختاور بھٹو زرداری انگریزی ادب میں ایم اے اور گریجویشن ایڈن برگ یونی ورسٹی سے پاس کیا۔ تعلیمی میدان میں ان کی حوصلہ افزائی کی بڑی وجہ SZABIST[6] (ذو الفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی)ہے،جس میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ جس کی بنیاد محترمہ بے نظیر بھٹو1995میں رکھی۔ جس کا مقصدپاکستان کے عوام کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنا ہے۔[7]

SZABIST

یہ ایک پرائیوٹ ادارہ ہے ،جو کراچی سندھ میں واقع ہے۔ پاکستان کے رہائشی اور کمرشیل علاقوں میں اس کے مختلف کیمپس ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ یو اے ای میں بھی کام کر رہا ہے۔

1995 میں یہ ادارذوالفقار علی بھٹو کے نظریے کے تحت قائم کیا گیا۔ اسی لیے اس ادارے کا نام پیپلز پارٹی کے بانی ذو الفقار علی بھٹو کے نام پہ رکھا گیا ہے۔[6]

بختاور بھٹو زرداری کو باکسنگ کا شوق[ترمیم]

بختاور بھٹو زرداری سوشل میڈیا پر اپنی سیاسی اور دلچسپ سرگرمیوں کی وجہ سے خاصی متحرک ہیں،انھوں نے اپنی باکسنگ کی ٹریننگ حاصل کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی جو سوشل میڈیا پر مقبول ہوئی۔ اس ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ وہ جس سے باکسنگ کی ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں وہ اور نہیں بلکہ پاکستانی نژزد برطانوی باکسر عامر خان ہے۔ بختاور بھٹو زرداری سوشل میڈیا پر دبئی کی ایک عمارت سے چھلانگ لگانے کی ویڈیو بھی شیئر کرچکی ہیں،ا سے کے علاوہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مختلف رہنماؤں کے حوالے سے سے بھی رابطے میں رہتی ہیں۔[8]

بختاور کی سینٹ میں بل کی مخالفت[ترمیم]

رمضان المبارک سے قبل سینیٹ میں ایک بل منظور کیا گیاجس کے تحت عوامی مقامات پر روزے کے دورا ن کھانے پینے پر 25ہزار روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔ عوامی اور مذہبی حلقوں نے اس بل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن بختاور بھٹو نے اس بل کی شدید مخالفت کی۔ بختاور بھٹو کے نزدیک شدید گرم موسم میں مسافر اور مریض لوگوں کو پیاس لگ سکتی ہے اور اگروہ پانی نہ پیئیں تو ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو سکتے ہیں جن سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس سوچ کے تحت بل کی مخالفت کی کہ زبردستی کسی کو بھوکا پیاسا رکھنا اسلام نہیں ہے۔[9]

بختاور بھٹو کی ڈیزرٹ وارئیر چیلنج میں شرکت[ترمیم]

بختاور بھٹو زرداری نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ڈیزرٹ وارئیر چیلنج ایونٹ میں حصہ لیا۔ یہ ایونٹ ایک اپریل 2017میں منعقد کیا گیا تھا۔ ایونٹ میں بختاور بھٹو نے دوڑ، جمپنگ، کلائمبنگ اور کرولنگ کرتے ہوئے فائنل لائن عبور کی۔ بختاور بھٹو نے ڈیزرٹ وارئیر چیلنج میں شرکت کی تصاویر پوسٹ کیں تو انھیں سوشل میڈیا پر بہت پزیرائی حاصل ہوئی۔[10]

بختاور کا بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت[ترمیم]

 بختاور بھٹو زرداری نے اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اچھوتا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ایک گانا ریلیز کیا۔ جو انھوں نے خود ہی لکھا اورخود ہی گایا۔ اس گانے میں انھوں نے اپنی والدہ کو خوبصورتی اور دانش کا مرکز قرار دیا اور ان کی روح سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ بے نظیر اپنے بچوں کو تنہا چھوڑ گئیں، ان کے بغیر قوم نا امید ہے اور یہ کہ وہ 54سال کی عمر میں ہی کر دی گئیں۔ گانے کے بول ہیں ’’ میں درد کو دور کروں گی‘‘۔ گانے کی ویڈیو میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصاویر اور ویڈیو کلپس  شامل کیے گئے جن میں ان کی شہادت سے چند لمحات قبل لیاقت باغ پارک، راولپنڈی کے مناظر بھی شامل ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو اسی مقام پر کر دیا گیا تھا۔[11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Bilawal Zardari Bhutto for resurrection of Quaid's Pakistan"۔ pakmission-uk.gov.pk۔ مورخہ 8 فروری 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  2. https://mediacellppp.wordpress.com/2017/02/03/تم-%D
  3. ذوالفقار علی بھٹو
  4. بینظیر
  5. آصف علی زرداری
  6. ^ ا ب en:Shaheed Zulfikar Ali Bhutto Institute of Science and Technology
  7. en:Bakhtawar Bhutto Zardari
  8. بختاور بھٹو زرداری کی باکسر عامر خان سے باکسنگ کی ٹریننگ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی
  9. https://punjabileaks.com/archives/1143
  10. بختاور بھٹو کی ڈیزرٹ وارئیر چیلنج میں شرکت کی تصاویر - The Daily Basharat
  11. http://www.urduweb.org/mehfil/threads/محترمہ-بینظیر-بھٹو-کی-بیٹی-بختاور-کا- %DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7.18109/