بخت نصر چہارم
ظاہری ہیئت
| ||||
|---|---|---|---|---|
| معلومات شخصیت | ||||
| تاریخ پیدائش | 6ویں صدی ق.م | |||
| وفات | سنہ 521 ق مء بابل | |||
| شہریت | بابل | |||
| دیگر معلومات | ||||
| پیشہ | شاہی حکمران | |||
| درستی - ترمیم | ||||
نبوخذ نصر چہارم جسے اراخا بھی کہا جاتا ہے، بابل میں اخمینی دور کی ایک مشہور بغاوت کا قائد تھا۔ بعض روایات کے مطابق وہ کمبوجیہ دوم کے عہد میں آرمینیا کا والی رہا اور بعد میں فارسی اقتدار کے خلاف سرگرم ہوا۔
یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کے بیان کے مطابق اراخا نے آرمینیوں کو فارسی حکومت کے خلاف ابھارا، پھر بابلی اور کلدانی عناصر کے ساتھ مل کر ایک بڑی بغاوت کی قیادت کی۔ 521 قبل مسیح میں اس نے بابل پر قبضہ کر لیا اور خود کو نبوخذ نصر چہارم کے لقب سے بادشاہ قرار دیا۔ کہا جاتا ہے کہ بابلیوں نے ازخود اس کے لیے بابل کے دروازے کھول دیے تھے۔ [1] تاہم اخمینی بادشاہ داریوش اول نے اس بغاوت کو بھی کچل دیا اور 520 قبل مسیح میں بابل دوبارہ فارسی اقتدار کے تحت آ گیا۔ بخت نصر چہارم کی حکومت مختصر ثابت ہوئی اور اس کی بغاوت ناکام ہو گئی۔

حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Ancient Worlds.netNebuchadnezzar IVآرکائیو شدہ 2011-10-28 بذریعہ وے بیک مشین


