مندرجات کا رخ کریں

بدھادیو بھٹاچاریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بدھادیو بھٹاچاریہ
(بنگالی میں: বুদ্ধদেব ভট্টাচার্য ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل= Buddhadeb Bhattacharjee
تفصیل= Buddhadeb Bhattacharjee

منسٹر (سرکاری)
مدت منصب
1977 – 1982
منسٹر (سرکاری )
مدت منصب
1987 – 1996
منسٹر (سرکاری )
مدت منصب
1996 – 1999
ایم ایل اے (بھارت )
مدت منصب
1977 – 1982
پرفلو کانتی گھوس
پرفلو کانتی گھوس
نائب وزیر اعلیٰ مغربی بنگال
مدت منصب
12جنوری1999 – 5 نومبر 2000[1]
 
سوریہ کانت مشرا
7واں وزیر اعلیٰ مغربی بنگال
مدت منصب
6 نومبر 2000 – 13 مئی 2011[1]
جیوتی باسو
ممتا بینرجی
ایم ایل اے
مدت منصب
10اپریل 1987 – 13 مئی 2011
سنکر گپتا
منیش گپتا
معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 1944ء (80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش پام ایونیو ,کولکاتا
شہریت بھارت
برطانوی ہند
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بھارتیہ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی   ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کلکتہ
پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان [2]،  مصنف ،  مترجم   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بدھادیو بھٹاچاریہ (پیدائش 1 مارچ 1944ء) ایک بھارتی سیاست دان ہے۔ وہ کمیونیسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) کے پولت بورو کے سابق رکن رہ چکے ہیں۔ وہ 2000ء سے 2011ء تک مغربی بنگال کے وزیر اعلی بھی تھے۔ بدھادیو 13 مئی 2011ء تک کل چوبیس برس جادو پور انتخابی حلقہ سے ایم ایل اے تھے، بالآخر انھیں انہی کی حکومت کے سابق چیف سکریٹری منیش گپتا نے 2011ء کے مغربی بنگال کے انتخاب میں 16,684 ووٹوں سے شکست دی۔

وہ پرفلو چندر سین کے 1967ء کے بعد بھارت کے دوسرے وزیر اعلیٰ ہیں جنہیں اپنے ہی حلقہ انتخاب میں شکست ہوئی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب Business Standard (2011-05-16)۔ "Mamata to take over as Bengal CM on Friday"۔ Business-standard.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جولا‎ئی 2012 
  2. http://www.telegraphindia.com/1130506/jsp/bengal/story_16863982.jsp