بدیع الزماں سعید نوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
استاد بدیع الزمان سعید نورسی
معلومات شخصیت
مذہب اسلام


حالات زندگی[ترمیم]

بدیع الزمان سعید نورسی 1878ء میں شہرِ بتلس (Bitlis) کے قصبہ حزان (Hizan) سے ملحقہ اسپارت (İsparit) کے گاؤں نورس (Nurs) میں کرد خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش کے وقت عثمانی سلطنت بلقان اور قفقاز کے علاقوں میں روسیوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھی۔ اُس وقت معیشت ایک بڑے بحران میں تھی۔ جنگ کے بعد آیستفانوس معاہدہ طے ہونے کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کو یورپ سے مستقل طور پر دستبردار ہونا پڑا۔ اِس طرح سعید نورسی ایک نئے دور کی ابتدا لے کر دنیا میں آئے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی ملّا عبداللہ سے حاصل کی۔ اِس کے علاوہ شہر اور قصبے کے مختلف مدارس میں بھی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ نیز اِسی عرصے میں قرآنِ کریم بھی ختم کیا، صرف و نحو کی کتابیں "اِظہار" تک پڑھیں، مشرقی بایزید (Doğu Bayezid) کے شیخ محمد جلالی کے مدرسے میں تین ماہ قیام کیا۔ اِس عرصے کے دوران علومِ اسلامیہ سے متعلق سو کے قریب بنیادی کتابیں پڑھ لی اور انہیں یاد بھی کر لیا۔ مدارس میں پڑھائی جانے والی کتابوں کے علاوہ بھی آپ نے کثیر تعداد میں کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اِس طرح عہدِ شباب میں ہی مدرسے کی تعلیم کی تکمیل کر کے ایک غیر معمولی عالم اور تجربہ کار انسان بن گئے تھے۔ تین ماہ بعد مشرقی بایزید کے شیخ سے اجازت لے کر یہاں سے رخصت ہو گئے۔ زہد و تقوی، عبادت و ریاضت، تواضع و انکسار بچپن ہی سے بہت زیادہ تھی۔ آپ کی روشن دماغی، قوی حافظہ اور بہترین قابلیت نے بچپن سے ہی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ اٹھارہ سال کی چھوٹی عمر میں ہی آپ کا شمار بھی علمائے عصر میں ہونے لگا۔

سعید نورسی نے مشرقی مراکزِ علوم میں جا کر مدارس کے علماء کے ساتھ مختلف مسائل پر مناظرے بھی کیے۔ روشن دماغی اور قوتِ حافظہ کی بدولت اِن مناظروں میں فتح حاصل کی اور ملّا سعید کے نام سے مشہور ہو گئے۔ عہدِ شباب میں حاصل کیے گئے اِس علمی مرتبہ نے سب کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ مشکل ترین موضوعات کو بھی چٹکیوں میں سمجھا دینے اور پڑھی ہوئی کتاب کے فوراً یاد ہو جانے کی وجہ سے اُس وقت کے علماء نے انہیں بدیع الزمان کا خطاب دیا۔

1894ء میں شہرِ ماردین (Mardin) میں قیام کے دوران آپ کو شیخ جمال الدین افغانی کے ایک شاگرد سے اُن کے سیاسی نظریات کو سیکھنے کا موقع ملا اور سیاست میں دلچسپی کی ابتدا بھی ماردین سے ہی شروع ہوئی۔ سعید نورسی بحث و مباحثہ میں اپنے نظریات سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے اور اِسی وجہ سے سعید نورسی کو ماردین کے گورنر نے چالبازی کے ساتھ صوبے کی حدود سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ کچھ عرصے بعد جب سعید نورسی بتلس واپس آئے تو اپنی علمی مہارت کی وجہ سے بتلس کے گورنر عمر پاشا کے دل میں گھر کر گئے۔ گورنر نے آپ کی علمی کاوشوں کو جاری رکھنے کے لیے محل میں ایک کمرہ مختص کر دیا۔ محل کے کتب خانے میں مشرق و مغرب کے مستند سائنسدانوں اور اہلِ فن کی مختلف کتابیں دیکھنے کو ملیں۔ اِس لحاظ سے یہ کتب خانہ سعید نورسی کے سائنس کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی بنیاد بنا۔

دو سال کے بعد سعید نورسی کو وان (Van) کے گورنر نے اپنے پاس بلا لیا اور محل میں آپ کے لیے ایک مخصوص شعبہ قائم کروا دیا جس میں آپ نے دس سال تک اپنی تحقیقی محنت جاری رکھی۔ اِس کتب خانے کے اخبارات، رسائل و دیگر مواد سعید نورسی کی علمی ترقی کے لیے بڑے مفید ثابت ہوئے۔ آپ نے جغرافیہ، تاریخ، ریاضی، کیمیا، فلکیات اور فلسفہ میں دلچسپی کے علاوہ اپنے معاشرے کی تعمیر و ترقی کی باریکیوں کو بھی سمجھا۔ سعید نورسی عثمانی معاشرے میں پائی جانے والی بعض مشکلات کو دیکھ چکے تھے۔ اُن مشکلات کی برطرفی میں تعلیم کی اہمیت اور مدارس کی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو ضروری تصور کرتے تھے۔ سعید نورسی اِسی دینی و عصری امتزاج کے لیے شہرِ وان میں "مدرسۃ الزہرا" کے نام سے ایک جامع اسلامی یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے تھے۔ سعید نورسی اِس یونیورسٹی کو الازہر یونیورسٹی کی متوازی یونیورسٹی قرار دیتے تھے جس میں عربی، ترکی اور کُردی تین زبانوں میں تعلیم دی جاتی۔ اِس خواہش کی عملی تشکیل کے لیے 1907ء میں استنبول آئے، لیکن آپ کو کوئی پر امید مدد نہ مل سکی۔

استنبول میں جس کمرے میں رہتے تھے، اُس کے دروازے پر یہ لکھ کر لگایا ہوا تھا کہ یہاں ہر سوال کا جواب دیا جاتا ہے اور ہر مشکل حل کی جاتی ہے، لیکن سوالی سے سوال نہیں کیا جاتا۔ آہستہ آہستہ لوگ اُن کے پاس جمع ہونا شروع ہو گئے اور یوں لوگوں کا ایک جمِ غفیر آپ کے دروازہ پر جمع ہو گیا۔ جب سوالیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو حکومت کی نظروں میں آپ مشکوک ہو گئے جس کی وجہ سے آپ دوچار دفعہ گرفتار بھی ہوئے۔ لیکن جلد چھوڑ دیا گیا۔ اُن دنوں استنبول میں دستوری بادشاہت اور آزادی کے حوالے سے بحث و مباحثہ ہو رہا تھا۔ آپ کی رہائی کے کچھ ہی عرصے بعد 23 جولائی 1908ء کو دوسری دستوری بادشاہت کا اعلان کر دیا گیا۔ آپ نے اِس اعلان کے تیسرے دن سلطان احمد مسجد کے گراؤنڈ میں منعقدہ جلسے میں دستوری بادشاہت اور آزادی کے حوالے سے قوم سے خطاب کیا۔ اُن ابتدائی دنوں میں دستوری بادشاہت اور اتحاد کے حامیوں سے دلبرداشتہ لوگ بھی موجود تھے جن میں سے کچھ علماء اور اُن کے طلباء دستوری بادشاہت، آئین اور حریت کی اُن کاوشوں کو اسلام مخالف سمجھتے تھے اور اِس وجہ سے بہت افسردہ تھے۔ آپ نے اِس بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے اُس وقت کے شائع ہونے والے تمام اخبارات میں کالم لکھے جن میں مستند دلائل کی بنیاد پر اسلامی قوانین اور دستوری بادشاہت کے درمیان عدمِ تضاد کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اِس کے علاوہ اہلِ مدارس کو بھی اپنے بیانات کے ذریعے قائل کرنے کی بھی بہت کوشش کی۔ کچھ عرصے بعد اتحادیوں کے سربراہ افراد کی معیت میں سلانک (Selanik) گئے اور سلانک کے میدان میں خطابِ حریت کے نام سے ایک تقریر کی جس میں دستوری بادشاہت اور حریت کے الفاظ کا اسلام مخالف نہ ہونے کا دفاع کیا۔

سعید نورسی نے استنبول میں بڑی متحرک سیاسی زندگی گزاری۔ جماعتوں کے ممبر بنے، اخبارات میں کالم لکھے، کانفرسوں میں شریک ہوئے اور اپنے نظریات کی حامی جماعتوں کو نصائح کیں۔ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر سلطان عبدالحمید خان دوّم کی انتظامیہ کی طرف سے جب جیل میں ڈالا گیا تو مقابلے پر آ گئے اور دستوری بادشاہت کے منعقدہ جشن میں سلطان عبدالحمید کی حکومت کے خلاف آزادی کی تقاریر کیں۔

سعید نورسی نے 1908ء میں دستوری بادشاہتِ ثانی کے اعلان سے پہلے استنبول میں جمعیتِ اتحادِ محمدی کے بانی درویش وحدتی کے اخبار Volkan (آتش فشاں) میں مقالے بھی لکھے۔ آتش فشاں اخبار ظاہر میں تو اسلام پسند، آزاد اور انسان دوست تھا۔ لیکن خفیہ طور پر وہ انگریز کا وفا دار تھا۔ اُس وقت رومی کیلنڈر کے مطابق 31 مارچ 1325 (13 اپریل 1909ء) کو 31 مارچ کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ دوسری دستوری بادشاہت کے اعلان کے بعد سر اٹھانے والی اِس بغاوت میں درویش وحدتی اور جمعیتِ اتحادِ محمدی کے ارکان بھی شریک ہو گئے۔ اِس شورش کے تین دن بعد سعید نورسی نے اخبارات میں ایک مضمون شائع کیا اور ملٹری اکیڈمی جا کر باغی فوجیوں کو امیر کی اطاعت اور بغاوت ختم کرنے کی ترغیب دی۔ یہ بغاوت گیارہ دن تک جاری رہی اور اُس کے بعد سلانک سے آنے والی ایکشن بٹالین نے یہ بغاوت دبا دی جس کے بعد مارشل لا کا اعلان کر دیا گیا۔ وحدتی، جمعیتِ اتحادِ محمدی اور ان کے دیگر رفقا کو جو اِس بغاوت میں شریک تھے فوج داری عدالت نے پھانسی کی سزا سنا دی جس کے مطابق وحدتی اور اُس کے سولہ ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ سعید نورسی کو باوجود خاموشی کے معاملہ الجھانے کا الزام لگا کر گرفتار کروایا گیا اور پھانسی کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن عدالت میں دائر کی گئی اپیل کے نتیجے میں آپ کو بری کر دیا گیا۔ چنانچہ اِس بغاوت کے بعد آپ شہرِ وان چلے گئے اور ایک عرصے بعد 1911ء میں واپس استنبول آ گئے۔

سعید نورسی اپنے طلباء کے ساتھ پہلی جنگِ عظیم کے دوران اناطولیہ کی جدّ و جہدِ آزادی میں شریک ہوئے۔ 1915ء ۔ 1917ء کے درمیانی عرصے میں خلافتِ عثمانیہ اور روس کی جنگ میں قفقاز کے محاذ پر آرمی کرنل کی حیثیت سے آرمینیوں اور روسیوں کے خلاف جہاد کیا۔ آپ 1916ء میں بتلس کے دفاع کے دوران زخمی ہو کر روسیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے اور سائبیریا کے قیدخانوں میں اڑھائی سال تک پابندِ سلاسل رہے۔ 1917ء میں بالشویک انقلاب کے دوران ہنگاموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جیل سے فرار ہو کر 25 جون 1918ء کو استنبول واپس آ گئے۔ وہاں ارکانِ حکومت اور علماء نے آپ کا پر تپاک خیر مقدم کیا۔ انور پاشا نے آپ کو سب سے بڑے دارالافتاء "دارالحکمت الإسلامیة" کا ممبر بنا دیا۔

سعید نورسی کا دارالحکمت الاسلامیہ میں تقرر کے وقت سلطنتِ عثمانیہ نے Mondoros جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اتحادی فوجوں نے 13 نومبر 1918ء کو حیدر پاشا بندر گاہ پر بحری جہازوں کو لنگر انداز کر دیا۔ انگریزوں نے 16 مارچ 1920ء کو استنبول پر چڑھائی کی اور حکومت پر قابض ہو گئے۔ انگریز نہ صرف استنبول پر قابض ہوئے بلکہ ترکی میں اپنی سیاسی قوّت کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے لگے۔ حتّیٰ کہ انگریز نوازوں نے جمعیتِ محبانِ انگریز نامی ایک تنظیم بھی قائم کر لی اور اعزازی چیئرمین شیخ الاسلام مصطفی صبری کو منتخب بھی کر لیا۔ اِس تنظیم سے انگریز کے طرفداروں کو بہت تقویت پہنچی۔ سعید نورسی نے انگریزوں کی قوّت کو ختم کرنے، عوام کو بیدار کرنے اور انگریزی سیاست کے چھپے چہرے کو ظاہر کرنے کے لیے "خطوتِ ستّة" نامی کتاب شائع کی۔ اِس کتاب نے استنبول پر جبری قبضے کے اصل پلان کا پول کھول دیا۔ اِسی کتاب کی وجہ سے غاصبوں نے آپ کے لیے سزائے موت کا فیصلہ صادر کروایا۔ شیخ الاسلام مصطفی صبری نے اِن غاصبین کے دباؤ پر ایک فتوی دے کر اناطولیہ میں شروع ہونے والی تحریک "قوائے ملی" کو بغاوت سے متّصف کر دیا۔ دوسری طرف سعید نورسی نے بھی اِس فتوی کے خلاف ایک فتوی دے کر حرکتِ ملی آزادی کا اعلان کر دیا۔ نیز اپنے مضامین میں بھی جنگِ آزادی کو جہاد اور قوائے ملیہ کے ارکان کو محاہدین بتاتے ہوئے اناطولیہ کی جد و جہدِ آزادی کو تقویت پہنچائی۔

سعید نورسی نے اِن خدمات کی وجہ سے اناطولیہ کی مجلسِ ملت میں ایک مقام حاصل کیا اور 1922ء میں مصطفی کمال کی دعوت پر انقرہ میں اُن سے ملاقات کی۔ انقرہ میں مجلسِ ملت کے دوسرے اجلاس میں شامل بھی ہوئے جہاں اراکینِ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے اپنی تقریر میں جدید ترکی کی تشکیلِ نو میں روحانیت سے لا پرواہی نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن آپ کو اِس مطالبے کا کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ مصطفی کمال بھی دینی و روحانی معاملے میں آپ کے مخالف ٹھہرے جس کی وجہ سے معاملہ شدّت اختیار کر گیا۔ اِس اختلاف کی وجہ سے سعید نورسی نے مشرقی علاقوں کی عمومی خطابت، وزارت اور مذہبی امور کی رکنیت کے عہدوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ ظاہری دنیا سے یکسر عاری تھے۔ یعنی مقام، شہرت، مال، ملک، پیسے اور دنیا کی چیزوں کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتے تھے۔ انقرہ کی سیاسی فضا سے نالاں ہونے کے بعد وہاں سے رخصت ہوئے اور 7 اپریل 1923ء کو طلباء کی تربیت کے لیے وان چلے گئے۔

1925ء تک وان میں تعلیمی مصروفیات کے دوران انقرہ میں ایک نئی حکومت اور دنیاوی طرز کے ایک جدید نظامِ حکمرانی کی تشکیل شروع ہو چکی تھی۔ اِس دنیوی طرزِ حکومت کے نظریات لوگوں کو ہضم نہ ہو رہے تھے۔ نتیجے میں ردِ عمل سامنے آنے لگا۔ وہاں کے ایک بزرگ شیخ سعید نے اِس کشیدہ صورتِ حال میں حکومت کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنایا اور بدیع الزمان سعید نورسی سے مدد کا مطالبہ کیا۔ لیکن آپ اِس باغی تحریک کے بالکل مخالف تھے اور شیخ سعید کو بھی اِس بغاوت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آپ نے شیخ سعید کو جواب میں یہ لکھا کہ: "آپ کی یہ جد و جہد بھائی بھائی کو قتل کرنے کے مترادف اور بے نتیجہ ہے۔ ترک اسلام کی علم بردار قوم ہے۔ دین کے لیے ہزاروں لاکھوں جانیں قربان کر چکی ہے۔ اِس وجہ سے اِن بہادر اور سرفروش محافظینِ اسلام ترک قوم کے خلاف تلوار نہیں اٹھانی چاہیے اور نہ یہ کام میں کروں گا۔" لیکن اِس کے باوجود انقرہ حکومت نے آپ پر شیخ سعید کی مدد کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا اور 1926ء میں بُردُر (Burdur) جلا وطن کر دیا۔

سعید نورسی نے جلا وطنی کے دوران وہاں کے لوگوں کو ایمان کی حقیقت سمجھائی اور دروس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وہاں بھی حکومت کو سعید نورسی کا اِس طرح عوامی اجتماعات کرنے کا عمل پسند نہ آیا اور آپ کو 1927ء میں پہلے اسپارتا (Isparta) اور پھر اسپارتا سے منسلک ایک گاؤں بارلا (Barla) کی طرف جلا وطن کر دیا گیا جہاں عوام کی رسائی بہت مشکل ہو گئی۔ حکومت نے یہ سب اِس لیے کیا تاکہ عوام سے آپ کا رابطہ ٹوٹ جائے۔ آپ نے آٹھ سال جلا وطنی میں "کلیاتِ رسالۂ نور" کا ایک بڑا حصہ یہیں تصنیف کیا۔

1928ء میں رسم الخط کی تبدیلی کا قانون پاس ہو گیا۔ اِس قانون کے مطابق عربی رسم الخط میں کتاب چھاپنے پر پابندی لگ گئی۔ اِس لیے بارلا میں لکھے گئے رسائلِ نور کی چھپائی ما ممکن ہو گئی۔ ایمان و قرآن کی حقیقت کا ادراک کے حامل پڑوسی گاؤں کے مکینوں نے مختلف رسائل کو ہاتھ سے لکھنا شروع کر دیا۔ عظیم الشان صبر اور عزمِ مصمم کے ساتھ رسائلِ نور کے چھ لاکھ دستی نسخے پورے اناطولیہ میں پھیلا دیئے گئے۔ لوگوں نے رسائلِ نور کو پڑھنا، لکھنا اور دوسروں تک منتقل کرنا شروع کر دیا۔

آپ کی یہ کاوش سربراہاںِ وقت کے حلق کا کانٹا بن گئی۔ 1935ء میں ایک خفیہ جماعت بنانے اور نئے نظامِ حکومت کو گرانے کے الزام میں آپ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا اور ایسکی شہر (Eskişehir) کی اعلیٰ فوج داری عدالت نے توہینِ وطن کے الزام میں گیارہ ماہ قید کی سزا سنا دی۔ 1936ء میں سزا ختم ہونے کے بعد آپ کو سات سال کے لیے کستامونو (Kastamonu) جلا وطن کر دیا گیا۔ لیکن سعید نورسی نے سخت دباؤ کے باوجود یہاں بھی رسائلِ نور کی تالیف جاری رکھی۔ شرعی پردہ کے موضوع پر لکھے گئے رسالہ کی وجہ سے آپ کو پھر گیارہ ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔ 1943ء میں 126 طلباء کے ساتھ آپ کو حکومت گرانے کے الزام میں گرفتار کر کے نو ماہ کے لیے دینزلی جیل بھجوا دیا گیا۔ رہائی کے کچھ عرصے بعد شہرِ افیون کی تحصیل امرداغ (Emirdağ) میں آپ کو فرضی اقامت (نظر بند) رکھنے پر مجبور کر دیا گیا۔ 1948ء میں دوبارہ اِسی جرم کی پاداش میں 54 طلباء کے ساتھ گرفتار کر کے 20 ماہ افیون جیل بھیج دیا گیا۔ لیکن رہائی کے بعد پھر سے امرداغ میں فرضی اقامت پر مجبور کر دیا گیا۔ کتب کی تصنیف اور دیگر حکومتی سزاؤں کی وجہ سے آپ نے کئی کئی مہینے جلا وطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

1950ء میں جب بہت ساری سیاسی پارٹیاں وجود میں آئیں تو دینی حق و آزادی کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ نیز بر سرِ اقتدار ڈیموکریٹک پارٹی نے سعید نورسی پر لگائی گئی پابندیوں کو ختم کرنے کے علاوہ رسائلِ نور کی اشاعت پر پابندی کو بھی اٹھا لیا۔ لہذا اُس دور میں رسائلِ نور باقاعدہ پریس میں چھپنے لگا۔ کچھ عرصے پہلے تک آپ پر جمہوری عوامی پارٹی کی طرف سے ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا تھا۔ اُسی پارٹی کی طرف سے اِس نئے دور میں بھی بہتان بازی جاری رہی۔ اس لیے کہ آپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کی تھی۔ جمہوری عوامی پارٹی کے جانبدار اخباروں میں جھوٹی خبریں شائع ہونے لگی۔ کیونکہ وہ لوگ اِس طرح عوام کو رسائلِ نور سے دور رکھنا اور برسرِ اقتدار ڈیموکریٹک پارٹی کو فرسودہ قرار دینا چاہتے تھے جبکہ عدالتیں بھی لاتعداد کیس دائر کرتی جا رہی تھیں۔ 1951ء میں امرداغ میں ہیٹ (ٹوپی) کے مسئلے میں بھی آپ پر مقدمہ دائر کر کے آپ سے بیان لیا گیا۔ ایک سال بعد 1952ء میں "رہبرِ شباب" نامی کتاب پر مقدمے کی کار روائی کے لیے استنبول آئے، لیکن بری ہو گئے۔

عمر کے آخری دنوں میں بھی دباؤ، اذیت و تکلیف کے باوجود سعید نورسی نے اسلام کی خدمات کو بڑے عزم کے ساتھ جاری رکھا اور اپنے ساتھ ہونے والی تمام بے انصافیوں کا قانون میں رہتے ہوئے مقابلہ کیا۔ کڑی پابندیوں کے باوجود 6000 صفحات پر مشتمل کتاب "رسائلِ نور" کو مکمل کر کے عوام الناس تک پہنچانے میں کامیاب بھی ہوئے۔ آپ 23 مارچ 1960ء کو اِس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کو عرفہ (Urfa) خانقاہِ خلیل الرحمٰن میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات کے تقریباً دو ماہ بعد 27 مئی 1960ء کو مارشل لا لگا۔ اِس کے بعد بننے والی فوجی حکومت (مجلسِ عسکری) کے حکم سے آپ کے مزار کو منہدم کر کے جسدِ خاکی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔


بدیع الزمان سعید نورسی کی زندگی تین حصوں میں منقسم ہے۔ پرانا سعید، نیا سعید اور تیسرا سعید۔ آپ نے اپنی کتابوں میں 45 سال تک کی زندگی کو پرانا سعید کا نام دیا ہے۔ پرانے سعید کے خیال میں سیاست کے ساتھ ساتھ دینی خدمات بھی ممکن ہے۔ لیکن بعد کے واقعات نے آپ کی اِس سوچ کو تبدیل کر دیا اور سیاست سے بالکل ہی کنارہ کش ہو گئے۔ نئے سعید کے لیے عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی "فتوح الغیب" نامی کتاب کے درس نے اہم کردار ادا کیا۔ کلیاتِ رسائلِ نور کا زیادہ تر حصہ نئے سعید کے دور میں ہی تصنیف ہوا۔ آپ پرانے اور نئے سعید کے ادوار کا موازنہ یوں کرتے ہیں: "پرانا سعید زیادہ تر عقل پر انحصار کرتا تھا جبکہ نیا سعید الہام کا مظہر بھی ہے اور عقل و دل دونوں پر انحصار کرتے ہوئے حرکت کرتا ہے۔"

آپ 1948ء افیون کی گرفتاری کے بعد کی زندگی کو تیسرے سعید کے دور سے منسوب کرتے ہیں۔ سعید نورسی مغرب سے فن اور صنعت کو لینے، جبکہ طرزِ زندگی اور ثقافت کو رد کرنے کے حامی تھے۔ آپ کے نزدیک مطلق انصاف صرف شریعت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آپ یوں کہا کرتے تھے کہ: "شریعت کی ایک حقیقت پر میری ہزار جانیں بھی ہوں تو قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کیونکہ شریعت سببِ سعادت اور عدالتِ محض اور فضیلتِ کامل ہے۔"


نظریات اور علمی و ادبی خدمات[ترمیم]

سعید نورسی کمیونزم اور اشتراکیت کے نظام کو انسانیت کی بربادی سمجھتے تھے اور اِس کو قربِ قیامت میں دجالی نظام سے تصور کرتے تھے۔ آپ جمہوریت کے خلاف نہ تھے۔ لیکن آپ نے بعض انقلابوں کی مخالفت ضرور کی۔ خاص طور پر خانقاہوں اور تصوف کے مراکز کو بند کرنے، لباس کی تبدیلی اور شرعی قوانین کی منسوخی کے زمرے میں آنے والی لادینیت کی سختی سے مخالفت کی۔ آپ اِس قسم کے انقلاب کو قربِ قیامت کے فتنوں سے منسوب کرتے تھے۔ اسی لیے آپ نے ایمان کو تقویت دینے والی کتابیں لکھیں:

تصانیف:

رسائلِ نور درجِ ذیل کتابوں کا مجموعہ ہے:

۱۔ اقوال ۲۔ مکتوبات ۳۔ لمعات ۴۔ شعاعیں ۵۔ آپ بیتی ۶۔ لاحقۂ بارلا ۷۔ لاحقۂ کستامونو ۸۔ لاحقۂ امرداغ ۹۔ إشارات الإعجاز ۱۰۔ مثنویِ نوریہ ۱۱۔ سکۂ تصدیقِ غائبی ۱۲۔ عصائے موسی ۱۳۔ ذوالفقار ۱۴۔ سراج النور ۱۵۔ طلسمات ۱۶۔ رموزاتِ ثمانیہ ۱۷۔ قزل ایجاز (سرخ ایجاز) ۱۸۔ موازناتِ ایمان و کفر ۱۹۔ آثارِ بدیعیہ ۲۰۔ محکمات ۲۱۔ مناظرات ۲۲۔ الخطبة الشامیة ۲۳۔ دو مکتبِ مصیبت کا شہادت نامہ

ایمان کی حقیقت کے حوالے سے قرآنِ پاک کی آیات کے مضبوط دلائل کے ساتھ وضاحت، تصدیق اور ایضاح کرنے کی وجہ سے "کلیاتِ رسائلِ نور" کو ایک جدید تفسیر کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وہ مجموعۂ کلیات ہے جو ہر دور میں کروڑوں انسانوں کی رہبری کرنے والی ہماری مقدس کتاب قرآن کریم کے حقائق کو انفرادی نظریے اور مطالعہ سے ہٹ کر معقول دلائل پر مبنی اور قرآنِ مجید کی حقیقی روح کے مطابق تشریح کر کے اُسے استفادۂ انسانیہ کے لیے پیش کرتا ہے۔ رسائلِ نور زبان، مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے دوسری تمام تفاسیر سے بالکل مختلف ہے۔ اِس کا بیشتر حصہ دیہاتی علاقوں کے پہاڑوں پریا زندانوں کی بے رحم شرائط کے سایوں میں تالیف کیا گیا ہے اور اِس میں متین، عمیق اور مغلق مسائل کے تجزیے، مشکل ترین سوالات کے جوابات، صدیوں پرانے اختلافات کے حل ہیں۔ رسائلِ نور زمین و آسمان کے طبقات، ملائکہ اور روح سے متعلق بحثیں، وقت کی حقیقت، میدانِ حشر و وقوعِ قیامت، جنت و جہنم کا وجود، موت کی حقیقت، ابدی سعادت و شقاوت تک کے موضوعات پر ذہن میں آنے والے تمام ایمانی مسائل کو عقلی و نقلی قطعی دلائل سے ثابت کرتے ہیں۔ اِس میں مثبت علوم کی ترغیب ہے، دلائل ایسے کہ عقل و قلب کو حد درجہ مطمئن کر دے۔ رسائلِ نور تفسیر کے اعتبار سے اہم ہونے کے علاوہ علمِ کلام کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کی حامل کلیات ہے۔ کلیات کے اکثر حصے کا مطالعہ علمِ کلام کے اعتبار سے زیادہ فائدہ مند ہو گا۔ المختصر مستند علمِ کلام کی بڑی کتابوں سے اگر مقابلہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ سعید نورسی نے اِس میدان میں بالکل نئی طرز کا اضافہ کیا ہے۔

تنقید[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سعید نورسی فیس بک صفحہ اردو