بدیل بن ورقاء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حضرت بدیل ؓبن ورقا
معلومات شخصیت

نام ونسب[ترمیم]

بدیل نام، باپ کا نام ورقاءتھا، نسب نامہ یہ ہے،بدیل بن ورقاء بن عمرو بن ربیعہ بن عبدالعزیٰ ابن ربیعہ بن جری بن عامر بن مازن خزاعی۔ ان کا قبیلہ بنی خزاعہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں مسلمانوں کا حلیف ہو گیا تھا، 6ھ میں جب آنحضرتﷺ عمرہ کے قصد سے مکہ تشریف لے گئے توحدیبیہ کے مقام پر قریش کی مزاحمت کے ارادہ کی خبر ان ہی نے دی تھی۔ جن اسباب کی بنا پر آنحضرتﷺ نے مکہ پر حملہ کیا تھا ان میں سے ایک سبب بدیل کے قبیلہ کی حمایت بھی تھا، بنو خزاعہ مسلمانوں کے حلیف تھے، اس لیے ازروئے معاہدہ حدیبیہ قریش اور ان کے حلیف بنی خزاعہ پر کسی قسم کی زیادتی نہیں کرسکتے تھے،لیکن اس معاہدہ کے خلاف قریش کے حلیف بنی بکربنی خزاعہ پر مظالم کرتے تھے، فتح مکہ کے قبل بدیلؓ آنحضرتﷺ کے پاس ان زیادتیوں کی شکایت لے کر گئے ،دوسری طرف سے قریش نے ابو سفیان کو آنحضرتﷺ کے پاس بھیجا تھا کہ وہ آپ سے گفتگو کر کے معاہدہ کی تجدید کر آئیں اور بنی خزاعہ پر بنی بکر کی زیادتیوں کا کوئی برا نتیجہ نہ نکلے، ادھر سے ابو سفیان جا رہے تھے، ادھر سے بدیل واپس ہو رہے تھے،راستہ میں دونوں کی ملاقات ہوئی، ابو سفیان کو شبہ ہوا کہ بدیل ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس شکایت لیکر گئے تھے،انہوں نے ان سے پوچھا، کہاں سے آ رہے ہو؟ بدیلؓ نے کہا وادی اورساحل کی طرف سے ،بنی خزاعہ کی سمت گیا ہوا تھا، پھر تصریح سے پوچھا محمد ﷺ کے پاس سے تو نہیں آ رہے ہو؟ بدیل نے کہا نہیں ا س سوال وجواب کے بعد دونوں نے اپنا اپنا راستہ لیا، لیکن بدیل کے جواب پر ابو سفیان کا شبہ دور نہیں ہوا، ان کو قرائن سے یقین ہو گیا کہ ہو نہ ہو بدیل مدینہ ہی گئے تھے، نہایت تیزی سے مدینہ پہنچے، اورحضرت ابوبکرؓ، عمرؓ علیؓ، اورفاطمہؓ زہرا کو بیچ میں ڈالکر معاملات کا تصفیہ کرنا چاہا، لیکن ان بزرگوں نے درمیان میں پڑنے سے انکار کر دیا اورابوسفیان ناکام لوٹ گئے۔ [1]

اسلام[ترمیم]

فتح مکہ کے بعد بدیل مشرف باسلام ہوئے، بعض ارباب سیران کے اسلام کا زمانہ فتح مکہ سے پہلے بتاتے ہیں،لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ان کو آنحضرتﷺ کے پاس بدیل کی آمد ورفت کے واقعات سے التباس ہوا ہے، لیکن یہ آمد ورفت اسلام کی وجہ سے نہ تھی؛بلکہ معاہدہ کی وجہ سے تھی، قبول اسلام کے وقت بدیل کی عمر97 سال کی تھی ،مگر داڑھی کے سب بال سیاہ تھے،آنحضرتﷺ نے پوچھا عمر کیا ہے، عرض کی 97 برس، فرمایا خدا تمہارے جمال اوربالوں کی سیاہی میں اور ترقی دے۔ بدیلؓ کے قبولِ اسلام کے بعد وہی قریشی جواُن کے قبیلہ کے درپے آزا ررہتے تھے ان کے گھر اور ان کے غلام رافع کی پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

غزوات[ترمیم]

فتح مکہ کے بعد، حنین ،طائف اورتبوک تمام غزوات میں شریک ہوئے،حنین میں مالِ غنیمت اورمشرک قیدیوں کی نگرانی ان کے سپرد تھی۔ [2]

حجۃ الوداع[ترمیم]

حجۃ الوداع میں ہمرکاب تھے اورمنیٰ میں اعلان کرتے پھرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے آج کے روزہ سے منع فرمایا ہے۔

وفات[ترمیم]

عمر کافی پاچکے تھے، اس لیے آنحضرتﷺ کی حیات ہی میں انتقال ہو گیا۔ [3]

آثار نبوی سے برکت اندوزی[ترمیم]

آثار نبویﷺ سے نہایت گہری عقیدت رکھتے تھے،کسی موقع پر آنحضرتﷺ نے ان کو ایک خط لکھا تھا،اس کو نہایت عزیر رکھتے تھے اورانتقال کے وقت اپنے صاحبزادے کو یہ خط دیکر وصیت کرتے گئے کہ جب تک یہ نوشۃ رسولﷺ تمہارے پاس رہے گا تم لوگ خیرو برکت میں رہو گے۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (سیرۃ ابن ہشام:2/227،229)
  2. (اصابہ،جلداول،صفحہ:46)
  3. (اسدالغابہ:1/181)
  4. (اسد الغابہ:1/181)