براء بن مالک انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
براء بن مالک انصاری
معلومات شخصیت
وفات سنہ 641  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوشتر  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ام سلیم  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی

براء بن مالك بن النضر بن ضمضم الانصاری بڑے جانباز بہادر تھے، اکثر غزوات میں ایک سو کفار مبارزین کو قتل کیا [1]

نام ونسب[ترمیم]

براء نام،انس بن مالک مشہور صحابی کے علاتی بھائی ہیں،ماں کا نام سمحاء تھا،بعض لوگوں نے ان کو انس کا حقیقی بھائی قراردیا ہے،

اسلام[ترمیم]

انصار مدینہ کے سربرآوردہ اشخاص تو مکہ جا کر مسلمان ہوچکے تھے،عام طبقہ ہجرت نبوی سے پیشتر اور بعد تک حلقۂ اسلام میں داخل ہوتا رہا، براء بھی اسی زمانہ میں مسلمان ہوئے۔ آنحضرتﷺ نے ان کے متعلق ایک حدیث میں فرمایا تھا کہ بہت سے پر گندہ مو، غبار آلودجن کی لوگوں میں کوئی وقعت نہیں ہوتی، جب خدا سے قسم کھا بیٹھتے ہیں تو وہ ان کی قسم کو پورا کردیتا ہے اور براء بھی انہی لوگوں میں ہیں، [2] اس بنا پر مسلمانوں کو تستر میں جب ہزیمت ہوئی تو ان کے پاس آئے کہ آج سے قسم کھائیے فرمایا اے خدا میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ مسلمانوں کو فتح دے اور مجھ کو رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے مشرف فرما۔

غزوات[ترمیم]

بدر میں شریک نہ تھے،احد اوراس کے بعد کے تمام غزوات میں شرکت کی،جنگ یمامہ میں جو مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) سے ہوئی تھی، نہایت نمایاں حصہ لیا، حضرت خالدؓ سردار لشکر تھے، براء نے کہا کہ تم اٹھو، وہ گھوڑے پر سوار ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد مسلمانوں سے کہا مدینہ والو! آج مدینہ کا خیال دل سے نکال دو آج تم کو صرف خدا اور جنت کا خیال رکھنا چاہیے، اس تقریر سے تمام لشکر میں جوش کی ایک لہر پیدا ہوگئی، اور لوگ گھوڑوں پر چڑھ چڑھ کر ان کے ساتھ ہوگئے۔ ایک سردار سے براء کا مقابلہ ہوا، وہ بڑے ڈیل ڈول کا آدمی تھا، انہوں نے اس کے پاؤں پر تلوار ماری، وار اگرچہ خالی گیا تھا،لیکن وہ ڈگمگا کر چت گرا انہوں نے اپنی تلوار میان میں رکھی اور لپک کر اس کی تلوار چھین لی اور ایسا صاف ہاتھ مارا کہ وہ دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس کے بعد برق وباد کی طرح مرتد ین پر ٹوٹ پڑے اوران کو دھکیل کر باغ کی دیوار تک ہٹادیا، باغ میں مسیلمہ موجود تھا، اہل یمامہ اپنےنام نہاد پیغمبر کے لئے ایک آخری لڑائی لڑے؛ لیکن حقیقی جوش مصنوعی جوش پر غالب رہا، حضرت براء نے مسلمانوں سے کہا لوگو! مجھ کو دشمن کے لشکر میں پھینک دو، وہاں پہنچ کر ایک فیصلہ کن جنگ کی اور باغ کی دیوار پر چڑھ کر دوسری طرف کود گئے، حامیان مسیلمہ آمادہ کار زار ہوئے ،انہوں نے موقع پاکر جلدی سے دروازہ کھول دیا اوراسلامی لشکر فاتحانہ باغ میں داخل ہوگیا، اورمسیلمہ کذاب کی جماعت کو شکست فاش دی۔ اس جانبازی سے بدن چھلنی ہوگیا تھا ۸۰۰ سے زائد تیر اور نیزہ کے زخم لگے تھے، سواری پر خیمہ میں لائے گئے، ایک مہینہ تک علاج ہوتا رہا، اس کے بعد شفا پائی، حضرت خالدؓ علالت کے پورے زمانہ تک ان کے ہمراہ رہے۔ حریق کے معرکہ میں جو عراق میں ہوا تھا، نہایت جانبازی دکھائی، شہر کے ایک قلعہ پر حملہ کرنا تھا، دشمنوں نے آگ میں تپی ہوئی کانٹے دار زنجیریں دیوار پر ڈال رکھی تھیں جب کوئی مسلمان دیوار کے قریب پہنچتا تو اس کو زنجیر کے ذریعہ اوپر اٹھا لیتے تھے،حضرت انسؓ دیوار پر چڑھنے کے لئے پہنچے، تو قلعہ والوں نے ان کو بھی زنجیر سے اٹھانا چاہا، وہ اوپر کھینچ رہے تھے کہ براء کی نظر پڑ گئی، فوارً دیوار کے پاس آئے اور زنجیر کو اس زور سے جھٹکا دیا کہ اوپر کی رسی ٹوٹ گئی اورحضرت انسؓ نیچے گرے، زنجیر پکڑنے سے حضرت براءؓ کے ہاتھ کا تمام گوشت نچ گیا تھا اور ہڈیاں نکل آئی تھیں۔ تستر(فارس) کے معرکہ میں وہ میمنہ کے افسر تھے، انہوں نے تنہا ۱۰۰ آدمی قتل کئے اور جو شرکت میں مارے گئے ان کا حدوشمار نہیں۔

وفات[ترمیم]

ہنوزیہ معرکہ جاری تھا اور قلعہ فتح نہ ہوا تھا، کہ ایک دن حضرت انسؓ ان کے پاس گئے، وہ گانے میں مشغول تھے، کہا کہ خدا نے آپ کو اس سے اچھی چیز عطا فرمائی ہے (یعنی قرآن) اس کو لحن سے پڑھیے فرمایا شاید آپ کو یہ خوف ہے کہ کہیں بستر پر میرا دم نہ نکل جائے، لیکن خدا کی قسم ایسا نہ ہوگا، میں جب مروں گا تو میدان میں مروں گا ۔ آنحضرتﷺ نے ان کے متعلق ایک حدیث میں فرمایا تھا کہ بہت سےپر گندہ مو، غبار آلودجن کی لوگوں میں کوئی وقعت نہیں ہوتی، جب خدا سے قسم کھا بیٹھتے ہیں تو وہ ان کی قسم کو پورا کردیتا ہے اور براء بھی انہی لوگوں میں ہیں، اس بنا پر مسلمانوں کو تستر میں جب ہزیمت ہوئی تو ان کے پاس آئے کہ آج سے قسم کھائیے فرمایا اے خدا میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ مسلمانوں کو فتح دے اور مجھ کو رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے مشرف فرما۔ اس کے بعد فوج لے کر خود حملہ کیا،زرارہ کامرزبان کہ سلطنت فارس کے چیدہ امراء میں تھا، مقابلہ پر آیا، انہوں نے اس کو قتل کرکے سامان پر قبضہ کرلیا اورنہایت جوش سے مارتے دھاڑتے پھاٹک تک پہنچے، عین پھاٹک پر ہرمزان کا سامنا ہوا، دونوں میں پر زور مقابلہ ہوا، اور براء شہید ہوئے،لیکن میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا 20ھ کا واقعہ ہے۔

اخلاق وعادات[ترمیم]

براء بن مالک انتہا درجہ کے جری اور بہادر تھے، عمر فاروق اسی وجہ سے ان کو کسی فوج کا افسر نہیں بناتے تھے اور افسران کو لکھتے کہ خبردار!براء کو امیر نہ بنانا ،وہ آدمی نہیں بلا ہیں سامنے ہی جائیں گے۔ گانے کا بہت شوق تھا اور آواز اچھی پائی تھی،ایک سفر میں رجز پڑھ رہے تھے آنحضرتﷺ نے فرمایا ،ذرا عورتوں کا خیال کرو، اس پر انہوں نے سکوت اختیار کر لیا۔[3]

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت براءؓ آنحضرتﷺ کے مخصوص صحابہ میں تھے وہ برسوں بساطِ نبوت کے حاشیہ نشیں رہے،سینکڑوں ہزاروں حدیثیں سنی ہوں گی ،لیکن تعجب یہ ہے کہ ان کی روایت کا سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا، مصنف استیعاب لکھتے ہیں: کان البراء بن مالک احدا الفضلاء (براء فضلأ صحابہ میں تھے) [4] شاید جہاد کی مصروفیت بیان کرنے سے مانع رہی ہو۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ486نعیمی کتب خانہ گجرات
  2. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1825
  3. اسد الغابہ ،مؤلف، عز الدين ابن الاثير ،ناشر دار الفكر بيروت
  4. (استیعاب:1/57)