برازیل میں غلامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ژان بپتست دبریت کی بنائی گئی تصور، برازیل میں غلامی کا ایک منظر، مالک غلام کو کوڑے مارتے ہوئے۔

موجودہ دور کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے برازیل نے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی زیادہ کام کیا ہے۔ پچھلے 30 سالوں میں 45 ہزار سے زیادہ لوگوں کو غلامی سے آزاد کروایا گیا ہے۔

حالانکہ برازیل میں غلامی کی تعریف تھوڑی الگ ہے اور سبھی اس سے متفق بھی نہیں ہے۔ کام کرنے کا ماحول خراب ہونا بھی غلامی کے تحت آتا ہے، بھلے ہی اس میں کسی طرح کی کوئی زور زبردستی شامل نہیں ہو۔

بی بی سی کی تحقیق[ترمیم]

حالت کی حقیقت کو جاننے کے لیے ایک بار بی بی سی کی ٹیم نے وزارت مزدوری کے معائنہ کاروں کے ساتھ شمال مشرقی پریبا ریاست کی پہاڑیوں کا دورہ کیا۔ دراصل، یہ برازیل کی مخالف غلامی گشتی اکائی تھی اور وہ غلاموں کے بارے جانکاری ملنے کے بعد جانچ کرنے پہنچی تھی۔

ہتھیاروں سے لیس جانچ ٹیم سیرا برینکا شہر کے باہر رکی اور ایک مقامی شخص کی راہ نمائی میں پہاڑیوں کی چڑھائی کرکے گرینائٹ کی کان تک پہنچی۔ یہاں کے حالات بیحد تناؤبرے تھے کیونکہ یہ چھاپاماری پرشدد ہو سکتے تھے۔ پانچ منٹ میں پولیس نے وزارت مزدوری کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی اور وہ مزدوروں کے رہنے کے لیے پلاسٹک کے بنے رہائشی مقامات تک پہنچے۔[1]

غلام لفظ کی تاریخ[ترمیم]

برازیل میں غلام لفظ کی تاریخ ہی کچھ الگ ہے۔ دراصل کئی دہوں پہلے افریقہ سے لاکھوں کی تعداد میں غلام یہاں لائے گئے تھے۔ انکی تعداد شمالی امریکا کے کسی دوسرے ملک میں لائے گئے غلاموں سے زیادہ تھی۔ بر اعظم امریکا میں برازیل غلامی کو ختم کرنے وال آخری ملک تھا۔

موقع پر پہنچی مخالف غلامی ٹیم نے پایا کہ غلام لوگ کھردرے اور پرانے کپڑے کے ساتھ چھدردار بوٹ پہنے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس اپنی حفاظت کے لیے کوئی اور چیز نہیں تھی۔

ان کے لیے بیت الخلا اور صاف پانی کی سہولت بھی نہیں تھی۔ ان میں سے کوئی بھی اندراج شدہ ملازم نہیں تھا۔

اسی طرح کی ایک دوسری چھاپے ماری کے دوران میں بھی ایسی ہی کہانی سامنے آئی۔ یہاں پر پلاسٹک کے بیگ میں دھماکو اشیا کو ایک کھونٹی سے لٹکایا گیا تھا۔ یہاں پر معائنہ کاروں کو یہ طے کرنا تھا کہ کام کی ایسی حالت کو کیا غلامی قانون کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

برازیل کے قانون کے مطابق غلامی کی پر تعریف میں دباوٴ اور زبردستی شامل نہیں ہے۔ خراب یا غیر انسانی ماحول کا ہونا ناطم کے خلاف کارروائی کے لیے کافی ہے۔[1]

تعریف کی تائید[ترمیم]

برازیل کی کاتھولک خیراتی اداروں کے لیے کام کرنے والے ایک فرینچ ڈومنکن رومن کاتھولک پادری جیویر پلاسٹ غلامی کی اس پر تعریف کی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اپنے زیریں کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آپ اسے آزادی سے ہی محروم کر دیں۔ آپ دیگر طریقوں سے بھی اسے اپنے ادھین کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس بھاگنے کے راستے نہ ہوں تو آپ اسے جنگل میں کسی کھیت میں اکیلے چھوڑ دیں، تو بھی وہ آپ کا قیدی ہے۔ اس طرح کسی کام کی جگہ پر زندگی کے لیے درکار اقل ترین ضرورتیں جیسے کہ پانی، غذا، رہنے کی سہولت وغیرہ نہ ہو تو یہ مزدوری سے متعلق افسروں کی دھجیاں اڑانا ہے۔۔ یہ خیراتی ادارہ مکھیروپ سے امیزن علاقے میں کام کرتا ہے۔ یہاں کے بڑے بڑے کھیتوں میں غلاموں کے ہونے کی امکان زیادہ رہتا ہے۔[1]

مزدوری کا قانون[ترمیم]

ژان بپتست دبریت کی بنائی گئی تصور، برازیل میں غلامی کا ایک منظر، مالک غلام کو سزا دیتے ہوئے۔

امیزن علاقے کی ایک کھیتی باڑی والے شہر ایکیلینڈیا کے مقامی سینٹر فار ڈیفینس آف لائف اینڈ ہیومن رائٹس کے پاس ہر ماہ کم سے کم غلامی کی تین شکایتیں آتی ہیں۔ یہ سینٹر کے سماجی بھلائی کے کام کرتا ہے۔ اس کا نام برگڈا روچا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ زیادہ تر معاملے مزدوری کے قانونوں میں بدعنوانیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ایک سال اکتوبر سے 13 ایسے معاملے سامنے آئے، جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ غلامی سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

مخالف غلامی اکائی نے ایک شخص کو آزاد کروایا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں پانی تک نہیں دیا جا رہا تھا۔ وہ پانی پینے اور نہانے کے لیے ندی پر منحصر تھے۔

لیکن، وہ جس رینچ پر کام کرتا تھا وہ پہلے کے مقابلے میں بہتر تھا۔ انہوں نے کہا، ہمیں بھوکے رہنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھی مالک کچھ ادا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے مارپیٹ دیکھی ہے۔ میں نے بنا سوئے راتیں گزاری ہے۔ اس خوگ میں کہ کوئی سانحہ نہ گھٹ جائے۔ مالک سہمت نہیں

لیکن مقامی مالک یہ نہیں مانتے کہ کام کی خراب صورت حال سے غلامی پیدا ہوتی ہے۔

ایکیلانڈیا میں ایک فارم کے مالک جیلٹن ایلویس ڈی اولویرا نے کہا کہ یہاں پر غلام مزدور نہیں ہیں۔ کچھ کھیتوں پر غیر انسانی برتاؤ کی بات سامنے آ سکتی ہے لیکن یہ غلامی نہیں ہے۔ ان کے مطابق غلامی تب ہوتی ہے جب انہیں کچھ کرنے کے لیے مجبور کیا جائے۔ ہمارے مزدور پوری طرح سے آزاد ہیں، وہ یہاں اپنی مرضی سے آ اور جا سکتے ہیں۔

مزید سخت قانون کی وکالت[ترمیم]

اس بات کا امکان دیکھا جا رہا ہے کہ مستقبل میں اس قانون کو اور کڑا کیا جائے گا۔ برازیل میں نیشنل کانگریس اس بارے میں چرچا کرنے والی ہے۔

2013ء میں بر سر اقتدار پارٹی کے کلاؤڈی پٹی کا کہنا تھا: جب ہم خراب حالات کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم انگلینڈ میں 19ویں صدی میں کارخانوں میں کام کے حالات کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے موتیں واقع ہوتی تھیں۔ یہ پوری طرح سے ناقابل قبقل ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اتپیڑن کئی طریقے سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار وہ ایک کھیت پر گئے جہاں کے مزدوروں کو اقل ترین مزدوری دینے کی بات کہی گئی تھی لیکن تین ماہ میں انہیں صرف 10 ریا ل (قریب 4۔ 25 امریکی ڈالر) دیے گئے۔ وہ وہاں سے نہیں جا سکتے کیونکہ ان کے پاس جینے کا کوئی دوسرا سادھن نہیں ہے۔ یہ ایک اتپیڑن ہے۔ اس طرح اس معاملے میں معائنہ کاروں نے مزدوروں سے بات کی۔ مزدور ڈامیاؤ اور اولویرو اکیلے ہیں اور لیکن وہ اپنی بہن کی مدد کرتے ہیں۔ غلامی کے خلاف چھاپیماری کو لیکر انکا رد عمل ملا جلا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ یہاں اسپیکٹر آ رہے ہیں، لیکن انہیں پیسے کمانے کی ضرورت ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]