برام اسٹوکر
| برام اسٹوکر | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائشی نام | (انگریزی میں: Abraham Stoker) |
| پیدائش | 8 نومبر 1847ء [1][2][3][4][5][6][7] کلونٹارف [8] |
| وفات | 20 اپریل 1912ء (65 سال)[1][2][3][4][5][6][7] |
| وجہ وفات | سکتہ |
| طرز وفات | طبعی موت |
| شہریت | |
| آنکھوں کا رنگ | بھورا [9] |
| بالوں کا رنگ | سرخ |
| عارضہ | گنٹھیا [10] سکتہ [10] |
| تعداد اولاد | 1 |
| والدہ | چارلوٹے سٹوکر |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | ٹرنیٹی کالج، ڈبلن (1864–1870)[8] |
| تخصص تعلیم | خالص ریاضی |
| پیشہ | مصنف [11][12]، صحافی [12]، ناول نگار [13]، منظر نویس ، کلرک [8][13]، تھیٹر مینیجر [8] |
| پیشہ ورانہ زبان | انگریزی [2][14] |
| ملازمت | قلعہ ڈبلن [15] |
| کارہائے نمایاں | ڈراکیولا ، انڈر دی سن سیٹ ، مس بیٹی |
| دستخط | |
| ویب سائٹ | |
| ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ |
| IMDB پر صفحات | |
| درستی - ترمیم | |
ابراہم اسٹوکر (8 نومبر 1847ء تا 20 اپریل 1912ء)، جو اپنے قلمی نام برام اسٹوکر کے نام سے زیادہ مشہور ہیں، سر زمینِ آئرستان سے تعلق رکھنے والے تھیٹر مینیجر اور ناول نگار تھے۔ وہ اپنے شہرۂ آفاق ناول ڈراکیولا (1897ء) کے مصنف کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، جو مکاتیبی انداز میں لکھا گیا گوتھک ہیبت ناک ناول ہے اور ادبِ خون آشام میں سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس تصنیف نے آنے والے وقتوں میں خیالی خون آشام (ویمپائر) کرداروں کی صورت گری پر گہرا اثر ڈالا اور اسٹوکر کو بہت سے لوگوں نے ”ویمپائر فکشن کا بے تاج بادشاہ“ قرار دیا۔
اسٹوکر اپنی زندگی کے ابتدائی سات برس ایک نا معلوم بیماری کے باعث بستر پر پڑے رہے۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے گھر پر ہی حاصل کی اور بعد ازاں 1864ء میں ٹرینٹی کالج ڈبلن میں داخل ہوئے۔ وہاں وہ رگبی کے بہترین کھلاڑی ثابت ہوئے اور یونیورسٹی کی فلسفیانہ انجمن اور طلبہ یونین کے نمایاں رکن رہے۔ اسی دوران انھیں ادب سے گہری دلچسپی پیدا ہوئی، وہ انجمن کے آڈیٹر منتخب ہوئے اور اپنی پہلی علمی تحریر پیش کی۔ ابتدائی پیشہ ورانہ حیات میں اسٹوکر نے ڈبلن کیسل میں دس برس سرکاری ملازمت کی اور اسی دوران ’ڈبلن ایوننگ میل‘ کے لیے ڈراما نقاد بھی رہے۔ بعد ازاں انھوں نے کئی اخبارات مثلاً ڈیلی ٹیلی گراف کے لیے تھیٹر کے تبصرے لکھے اور بعض اوقات مختصر افسانے بھی تحریر کیے۔ اپنی زندگی میں وہ زیادہ تر معروف تھے بحیثیت نجی معاون سر ہنری اِروِنگ اور بحیثیت بزنس مینیجر لائسیم تھیٹر لندن کے، جو اِروِنگ کی ملکیت تھا۔ فرصت کے وقت میں وہ اکثر سفر کرتے بالخصوص اسکاٹ لینڈ کے کُروڈن بے کا رُخ کرتے، جو ان کے دو ناولوں کا ارضیہ بنا اور ناول ڈراکیولا کے لیے تحریک کا ذریعہ بھی۔ وہ آرتھر کانن ڈائل اور آسکر وائلڈ جیسے ادیبوں کے دوست تھے اور تجرباتی ناول دی فیٹ آف فینیلا (1892ء) میں دیگر مصنفین کے ساتھ اشتراک بھی کیا۔ اسٹوکر نے ہیبت اور اسرار پر مبنی درجن بھر ناول اور ناولٹ لکھے جن میں دی جویل آف سیون اسٹارز (1903ء)، دی لیئر آف دی وائٹ ورم (1911ء) اور دی مسٹری آف دی سی (1902ء) شامل ہیں۔ تاہم گوتھک ہیبت ناک ادب کے متاثر کن مصنفین میں ان کی شہرت کا انحصار صرف ڈراکیولا پر ہے۔ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل سے یہ ناول ویمپائر ادب کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں شامل ہو گیا اور کاؤنٹ ڈراکیولا وکٹورین عہد کے نمایاں ترین خیالی کرداروں میں شمار ہونے لگا۔ پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک اس کردار کو سات سو سے زیادہ بار مختلف ذرائع ابلاغ میں ڈھالا جا چکا ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/118798995 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
- 1 2 3 مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb11925586d — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- 1 2 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6668gsw — بنام: Bram Stoker — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- 1 2 انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/broadway-cast-staff/4587 — بنام: Bram Stoker — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- 1 2 فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/memorial/1381 — بنام: Bram Stoker — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- 1 2 انٹرنیٹ سوپرلیٹیو فکشن ڈیٹا بیس آتھر آئی ڈی: https://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?650 — بنام: Bram Stoker — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- 1 2 NooSFere author ID: https://www.noosfere.org/livres/auteur.asp?NumAuteur=178 — بنام: Bram STOKER — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- 1 2 3 4 عنوان : Dracula — ناشر: پینگوئن کلاسکس — صفحہ: xiii
- ↑ عنوان : Bram Stoker's Dracula — ناشر: ڈنڈرن پریس — صفحہ: 24 — ISBN 978-1-55002-279-7 — اقتباس: [...] critical analysis to date has focused on uncovering the diverse personal and political influences at work on this giant, grey-eyed, ginger-haired Irishman as he composed this classic novel.
- 1 2 عنوان : Dracula — ناشر: پینگوئن کلاسکس — صفحہ: 431
- ↑ abART person ID: https://cs.isabart.org/person/102964 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 اپریل 2021
- 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118798995 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
- 1 2 عنوان : Oxford Dictionary of National Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس — اوکسفرڈ بائیوگرافی انڈیکس نمبر: https://www.oxforddnb.com/view/article/38012
- ↑ کونر آئی ڈی: https://plus-legacy.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/14585699
- ↑ عنوان : Dracula — ناشر: پینگوئن کلاسکس — صفحہ: xiii-xiv
- 1847ء کی پیدائشیں
- 8 نومبر کی پیدائشیں
- 1912ء کی وفیات
- 20 اپریل کی وفیات
- انیسویں صدی کے آئرش ناول نگار
- بیسویں صدی کے آئرش ناول نگار
- ٹرنیٹی کالج، ڈبلن کے فضلا
- ڈریکولا
- آئرش انگلیکان
- آئرش ادبی نقاد
- آئرستانی مرد ناول نگار
- آئرش مرد مختصر کہانی نویس
- آئرش پراسرار کہانی نویس
- آئرش سائنس فکشن مصنفین
- آئرش سنسنی خیز مصنفین
- ڈبلن (شہر) کے صحافی
- اسطور ساز مصنفین
- ڈبلن (شہر) کی تھیٹر شخصیات
- وکٹوریائی دور کے ناول نگار
- ڈبلن (شہر) کے مصنفین
- ڈبلن (شہر) کی شخصیات
- انیسویں صدی کے صحافی
- بیسویں صدی کے صحافی
- آئرش صحافی
- بیسویں صدی کے سوانح نگار
- بیسویں صدی کے مرد مصنفین
- انیسویں صدی کے افسانہ نگار
- آئرش مضمون نگار
- انیسویں صدی کے برطانوی مضمون نگار
- انیسویں صدی کے مضمون نگار
- بیسویں صدی کے مضمون نگار
- آئرش افسانہ نگار
- بیسویں صدی کے مؤرخین
- آئرش مورخین
- کاؤنٹی ڈبلن کی شخصیات
- انٹرنیٹ آرکائیو کے روابط پر مشتمل مضامین
- بھوت کہانی مصنفیں
- بیسویں صدی کے انگریز ناول نگار
- آئرستانی ناول نگار
- انیسویں صدی کے آئرش مصنفین
- بیسویں صدی کے آئرش مصنفین
- لندن میں وفات پانے والی شخصیات
- ہیبت ناک ادب
- افسانے
- انیسویں صدی کا ادب
- آئرش ادب
- لندن کے مصنفین
- آئرش مصنفین


