بردی قربابائیف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بردی قربابائیف
Berdy Muradovich Kerbabayev
بردی قربابائیف.jpg
پیدائش بردی مرادووچ قربابائیف
3 مارچ 1894(1894-03-03)
تیجین، ترکمانستان، روسی سلطنت
وفات 3 مارچ 1974(1974-03-03)
اشک آباد، ترکمانستان، سویت یونین
قلمی نام بردی قربابائیف
پیشہ مصنف، صحافی
زبان ترکمانی
قومیت Flag of Turkmenistan.svg ترکمانستان
نسل ترکمان
اصناف شاعری، ناول، ڈراما
نمایاں کام آئیلار
فیصلہ کن قدم
پانی کی بوند-سونے کا ریزہ
اہم اعزازات اسٹالن انعام
لینن انعام

بردی مرادووچ قربابائیف (ترکمانی: Berdy Myradowiç Kerbabaýew) (پیدائش: 3 مارچ 1894ء - وفات: 3 مارچ 1974ء) ترکمانستان کے عوامی ادیب، ترکمانی ادب کے بانی، شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی اور ترکمانی ادب کے مسلم الثبوت استاد ہیں [1]۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

بردی قربابائیف 3 مارچ 1894ء میں ترکمانستان میں تیجین کے پاس ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے[1][2]

ان کی زندگی کا راستہ بھی وہی تھا جو ان کی قوم کے لاکھوں ہنرمند سپوتوں کا تھا جنھوں عظیم اکتوبر نے زندگی کی چوٹی پر پہنچایا۔ خانہ جنگی کے برسوں میں وہ ماورائے کیسپین محاذ پر فوجی اور سیاسی کارکن تھے اور اس کے بعد انھوں نے ترکمانیہ میں سوویت اقتدار کی تعمیر کی۔[3]

تعلیم[ترمیم]

بردی قربابائیف نے لینن گراد اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبۂ شرقیات میں تعلیم حاصل کی۔

تخلیقی دور[ترمیم]

1924ء میں بردی قربابائیف پیشہ ور ادیب بن گئے۔ ان کا رزمیہ ناول "فیصلہ کن قدم"، ناول اور طویل افسانے "نیبت داغ"، سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان"، پھٹ پڑنے والا بند"، پانی کی بوند-سونے کا ریزہ"، "شمالی بعید کی روشنی" وغیرہ عظیم اکتوبر کے اور عوام کی جدوجہد کے فنکارانہ وقائع ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں میں " آئیلار" کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ نظم حب الوطنی کی جنگ عظیم کے برسوں میں عوام کے لازوال کارناموں کے بارے میں ہے۔ انھوں بجا طور پر جدید ترکمانی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تخلیقات روس کی ساری قوموں اور بہت سے بیرونی مملک کے لوگوں کی دسترس میں ہیں اور وہ انھیں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔[4]آپ نے گوگول، لیمونتوف، پشکن اور ٹاسلٹائی کے تراجم ترکمانی زبان میں کیے۔ 1944ء - 1950ء تک آپ نے "ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن" کے صدر رہے۔

تخلیقات[ترمیم]

ناول اور افسانے[ترمیم]

  • فیصلہ کن قدم
  • نیبت داغ
  • سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان
  • پھٹ پڑنے والا بند
  • پانی کی بوند-سونے کا ریزہ
  • شمالی بعید کی روشنی

نظمیں[ترمیم]

  • جرات میندوں کا گیت
  • آئیلار

اداروں سے وابستگی[ترمیم]

  • صدر ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن (1944ء -1950ء)
  • رکن ترکمانی سائنس اکادمی
  • نائب سپریم سوویت برائے ترکمانستان
  • رکن مرکزی کمیٹی برائے 21، 22 اور 23 ویں کانگریس برائے کمیونسٹ پارٹی بیلاروس
  • رکن کمیٹی برائے اسٹالن انعام

اعزازات[ترمیم]

بردی قربابائیف کو 1948ء میں سوویت ریاستی" اسٹالن انعام" 1951ء میں سوویت یونین کا ریاستی انعام، سوویت یونین کا "لینن انعام" اور "سوشلست محنت کے ہیرو" کا انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکمانی ادب کے سلسلے میں آپ کی گرانقدر خدمات کے صلہ میں 1970ء میں "مختوم قلی انعام" بھی دیا گیا۔

وفات[ترمیم]

ترکمانستان کے عوامی ادیب، ترکمانی ادب کے بانی اور شاعر بردی قربابائیف اشک آباد، ترکمانستان میں 80 سال کی عمر میں 3 مارچ 1974ء کو انتقال کر گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Berdy Kerbabaev | Article about Berdy Kerbabaev by The Free Dictionary
  2. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص124
  3. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص124-125
  4. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985ء، ص125