برسات کی ایک رات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
برسات کی ایک رات
Barsaat Ki Ek Raat
Barsaat ki ek raat.jpg
ہندی ورژن کا پوسٹر
ہدایت کارشکتی سامنت
پروڈیوسرشکتی سامنت
تحریرشکتی پد راج گرو
ماخوذ ازBengali novel Anushandhan
از Shaktipada Rajguru
ستارے
موسیقیآر ڈی برمن
ایڈیٹرBijoy Chowdhury
تقسیم کارشکتی فلمز
تاریخ نمائش
  • 20 فروری 1981ء (1981ء-02-20)
دورانیہ
142 منٹ
ملکبھارت
زبانہندی زبان
بنگالی زبان

برسات کی ایک رات (انگریزی: One Rainy Night) 1981ء کی بالی ووڈ کی ایک تھرلر فلم ہے جس میں امیتابھ بچن، راکھی، امجد خان اور اتپل دت نے اداکاری کی تھی۔ [1][2][3]اس فلم کی ہدایات شکتی سمانتا نے دی تیں۔ فلم کی شوٹنگ بیک وقت دو زبانوں ہندی اور بنگالی میں کی گئی تھی۔ بنگالی ورژن، جس کا نام انوسندھ تھا، اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بنگالی فلم بن گئی اور کئی سالوں تک اپنے اسی مقام پر برقرار رہی۔ اس فلم کی کہانی کو شکتی پادا راج گرو کے ناول انوشندھن سے اخذ کیا گیا تھا۔ ہندی ورژن کی کمائی اتنی زیادہ تو نہ ہوئی لیکن اوسط کمانے والا ورژن ثابت ہوا۔

فلم اپنے کلاسک گانوں "ہائے وہ پردیسی"، "اپنے پیار کے سپنے سچ ہوئے" اور "کالی رام کا کھل گیا پول" کی بنا پر آج بھی فلم بینوں کے ذہن سے محو نہیں ہوئی۔ پہلا گانا بمبئی بائیسکل کلب نے دوبارہ بنایا تھا اور دوسرا گانا بین الاقوامی گانے فنکی بیجو ترانے میں استعمال کیا گیا تھا۔

کہانی[ترمیم]

دارجلنگ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ساہوجی (اتپل دت) سوداگر نے زندگی کے تمام تر معاملات میں بدعنوانی کا جال بُنا ہوا تھا۔ وہ چائے کے باغوں کو گھٹیا معیار کا سامان فراہم کرتا تھا، اور پھر اپنے بل پاس کروانے کے لیے اکاؤنٹنٹ کو رشوت دیا کرتا تھا۔ جب ایک مینیجر، جسے "بورو بابو" کہا جاتا تھا، (ابھی بھٹاچاریہ)اس ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، تو ساہوجی مزدوروں کو اس بورو بابو کے خلاف ہڑتال پر جانے کے لیے اکساتا ہے اور انہیں رشوت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سرحد پار سے سامان کی بے تحاشہ اسمگلنگ میں بھی ملوث ہوتاہے، اور مقامی سناروں سے لے کر مقامی پولیس انسپکٹر تک ہر کوئی اس کے پیچیدہ جال کا حصہ ہے۔

ایک طرف جہاں باپ نے بدعنوانی پھیلا کر اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط کر لیا ہوتا ہے ہے، وہیں اس کا بیٹا کالی رام (امجد خان) نے اپنی غنڈہ گردی سے دہشت پھیلانا شروع کر دی۔ وہ مقامی شراب خانوں میں جاتا، شراب پیتا، اور ادائیگی کیے بغیر نکل جاتا۔ جو بھی اس کے راستے میں کھڑا ہوتا یا اسے روکنے کی کوشش کرتا اسےاس کے غنڈے بے رحمی سے مارتے پیٹتے اور اس شخص کو خاموش ہو جانا ہی مناسب معلوم ہوتا۔ نشے میں بے قابو ہو کر، وہ پھر کسی غیر شادی شدہ دیہاتی لڑکی اپنی ہوس مٹانے کے لیے رات کے لیے زبردستی اغوا کر کے لے جاتا۔ غریب لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو چحڑانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے گھر کو آگ لگا دی جاتی تھی۔ مایوس اور مظلوم دیہاتی چائے کے باغ کے مالک سے التجا کرتے ہیں، جو (شاید) پولیس فورس کے اعلیٰ افسران کو فون کرتا ہے اور وہ کسی کو بھیجنے کا وعدہ کرتا ہے۔

اگلے دن، کالی رام اور اس کے ٹھگ ایک خچر پر سوار ایک پراسرار اجنبی کو گاؤں کے پل کو عبور کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، ، جس نے اپنا چہرہ اس علاقے میں مشہور سومبریرو قسم کی ٹوپی میں پوری طرح سے ڈھکا ہوا ہے۔ اجنبی، جس کا نام ابھیجیت (امیتابھ بچن) ہے، ایسا لگتا ہے کہ اسے کالی کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہے۔کیونکہ کالی اس کے ساتھ پنگا لیتا ہے اور وہ کالی سے ڈرے بنا اس لڑتا ہے اور اس کی پٹائی کر دیتا ہے۔ کالی نے بدلہ لینے کا عہد کرتا ہے، لیکن اس کے بعد ہونے والے متعدد مقابلوں میں، بشمول ڈھول بجانے کا مقابلہ، کالی ہر بار دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ تاہم، اس کا وفادار پولیس انسپکٹر (اسیت سین) ہمیشہ اس کے بچاؤ کے لیے آتا ہے اور اسے جیل بھیجنے سے روکتا ہے۔ تاہم، کالی کی مایوسی بڑھتی چلی جاتی ہے۔

ستارے[ترمیم]

٭امیتابھ بچن بطور انسپکٹر ابھیجیت رائے ٭راکھی بطور رجنی (بنگالی ورژن میں تموشا) ٭امجد خان بطور کالی رام ساہو ٭ابھی بھٹاچاریہ بطور سریش / بورو بابو (رجنی کے والد) ٭اُتپل دت بطور ہریہ ساہو (کالی رام کے والد) ٭پریما نارائن بطور پھولوا (گاؤں بیلے) ٭آسیت سین بطور پولیس انسپکٹر ٭سوجیت کمار ٭نیمو بھومک

گانے[ترمیم]

1۔ ندیا کنارے پے

2۔ ہائے وہ پردیسی

3۔ کالی رام کا ڈھول

4۔ اپنے پیار کے سپنے

5۔ منچلی او من چلی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Amitabh Bachchan turns nostalgic as Barsaat Ki Ek Raat completes 37 years of release". indiablooms.com. 19 فروری 2018. 
  2. Hemchhaya De (27 اکتوبر 2018). "The life and times of Rakhee Gulzar". Femina. اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2021. 
  3. "50 Years of Amitabh Bachchan in Bollywood: Twitterati Celebrates Golden Jubilee of the Legendary Actor in Bollywood". latestly.com. 15 فروری 2019. اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2021.