برطانوی ہندوستان میں بدعنوانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

برطانوی ہندوستان میں بدعنوانی ایک سنگین صورت حال تھی۔ انگریزوں نے ہندوستان کے بادشاہوں کو بدعنوانی کے ذریعہ انہیں اور ہندوستان کو غلام بنایا۔ اس کے بعد انہوں نے منصوبہ بند طریقے سے ہندوستان میں بدعنوانی کو فروغ دیا اور ہندوستان کو غلام بنائے رکھنے کے لیے اسے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ گوکہ بھارت میں اس وقت بدعنوانی ایک اہم مسئلہ ہے، لیکن اس بدعنوانی کی ابتدا برطانوی راج ہی میں ہو چکی تھی۔

ہندوستان چھوڑتے وقت انگریزوں نے یہاں مذہبی منافرت کا بازار گرم کیا جس کے شواہد دھرمیندر گوڑ کی کتاب "میں انگریزوں کا جاسوس تھا" میں موجود ہيں۔ انہوں نے ہندوستان کو تقسیم کی آگ میں جھونکنے کی منصوبہ بندی پہلے سے بنا رکھی تھی۔ اتنی زیادہ افراتفری اس ملک میں انگریزوں کی آمد سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ عام طور پر بدعنوانی اور غربت کی صورت حال ہندوستان میں کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ غربت، عمومی سیاست اور انتظامی بدعنوانی انگریزوں کی دین ہے، تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔

پس منظر[ترمیم]

ممبئی کے مشہور ناشر اور تاجر نارائن شان باگ بھارت کی معروف علم نواز شخصیت تھی۔ انہوں نے مشہور مورخ و مفکر ول ڈیورانٹ کی نادر کتاب "دی کیس فار انڈیا" کو دوبارہ شائع کیا۔ یہ کتاب انگریزوں کی طرف سے بھارت کی لوٹ ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کی قدیم رسوم و روایات، علم اور کردار پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کے حقائق بھی بیان کرتی ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ بھارت صرف ایک قوم ہی نہیں تھا، بلکہ تہذیب، ثقافت اور زبان کے حوالہ سے دنیا بھر میں خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ علم اور صنعت و تجارت کا ایسا کوئی میدان نہیں تھا جس میں ہندوستان نے نمایاں مقام نہ حاصل کیا ہو۔ خواہ وہ ٹیکسٹائل ہو، زیورات سازی اور جواہرات کی دریافت ہو، شاعری اور ادب کا میدان ہو، ظروف سازی اور عظیم تعمیرات کا میدان ہو یا سمندری جہاز کی تعمیر ہو، ہر میدان میں ہندوستان نے دنیا کو بیش بہا تحفے دیے۔

تاریخ[ترمیم]

جب انگریز ہندوستان آئے تو انہوں نے اس ملک کو سیاسی اعتبار سے کمزور، لیکن اقتصادی نقطۂ نظر سے انتہائی پر شوکت پایا۔ چنانچہ انگریزوں نے دھوکا دہی، بداخلاقی اور بدعنوانی کے ذریعے ریاستوں پر قبضے کیے، ظالمانہ محصول عائد کیے، کروڑوں افراد کو غربت اور بھوک کے جہنم میں ڈھکیلا اور ہندوستان کی بیشتر املاک کو لوٹ کر برطانیہ لے گئے۔ انہوں نے مدراس، کولکتہ اور ممبئی میں ہندو حکمرانوں سے تجارتی چوکیاں کرائے پر لیں اور بغیر اجازت وہاں اپنی توپیں اور فوجیں نصب کیں۔ 1756ء میں جب نواب بنگال سراج الدولہ نے اس کی مخالفت کی اور انگریزوں کے قلعہ فورٹ ولیم پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا، تو ایک سال بعد رابرٹ کلائیو نے پلاسی کی جنگ میں بنگال کو شکست دے کر اس پر قبضہ کر لیا اور ایک نواب کو دوسرے سے لڑا کر لوٹ اور رشوت ستانی کا بازار گرم رکھا۔ صرف ایک سال میں کلائیو نے 11 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی رشوت لی اور 1 لاکھ 40 ہزار ڈالر سالانہ نذرانہ لینا شروع کیا۔ تحقیقات میں اسے مجرم پایا گیا، لیکن برطانیہ کی خدمت کے بدلے اسے معافی دے دی گئی۔ ول ڈیورانٹ لکھتے ہیں کہ بھارت سے 20 لاکھ کا سامان خرید کر برطانیہ میں ایک کروڑ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ انگریزوں نے نواب اودھ کو اپنی ماں اور دادی کا خزانہ لوٹ کر 50 لاکھ دینے پر مجبور کیا پھر اس پر قبضہ کر لیا اور 25 لاکھ میں دوسرے نواب کو فروخت کیا۔

انگریزی زبان کو فروغ دینے اور استعمار کو مستحکم کرنے کے لیے بھارتی اسکول بند کیے گئے۔ 1911ء میں گوپال كرشن گوکھلے نے پورے ہندوستان میں ہر بچے کے لیے لازمی ابتدائی تعلیم کا بل منظور کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کوشش کو انگریزوں نے ناکام بنا دیا۔ 1916ء میں اس بل کو دوبارہ لانے کی کوشش کی گئی، تاکہ تمام ہندوستانیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے، لیکن اسے بھی ناکام بنا دیا گیا۔ ہندوستانی شماریات کے ڈائریکٹر جنرل سر ولیم ہنٹر نے لکھا ہے کہ بھارت میں 4 کروڑ لوگ ایسے تھے جو کبھی بھی اپنا پیٹ نہیں بھر پاتے تھے۔ بھوک اور غربت کے شکار ہندوستانی عوام جسمانی اعتبار سے کمزور ہو کر وبا کا شکار ہونے لگے۔

1901ء میں بیرون ملک سے آئے طاعون کی وجہ سے 2 لاکھ 72 ہزار ہندوستانی لقمہ اجل ہر گئے۔ 1902ء میں 50 لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔ 1903ء میں 8 لاکھ ہندوستانی ہلاک اور 1904ء میں 10 لاکھ بھارتی بھوک، غذائی قلت اور طاعون جیسی وبا کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ 1918ء میں 12 کروڑ 50 لاکھ افراد بیماری کے شکار ہوئے، جن میں سے 1 کروڑ 25 لاکھ لوگوں کی موت سرکاری طور پر درج ہوئی۔ اسی طرح کام کے لیے انگریزوں کو ہندوستانیوں سے زیادہ تنخواہ دی جاتی تھی نیز قابل ہندوستانی افراد کو مناسب منصب سے بھی محروم رکھا جاتا۔

معروف بدعنوان افسران[ترمیم]

تعلیم میں بدعنوانی[ترمیم]

پریم چند کے ناولوں اور کہانیوں میں برطانوی راج کے وقت تعلیم اور دیگر علاقوں میں پھیلی بدعنوانی کی خاصی جھلکیاں ملتی ہیں۔ حکومت محض اخبارات و رسائل ہی کو خریدتی تھی جو سرکار انگلشیہ کی تعریف کیا کرتے تھے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]