برطانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


United Kingdom of Great Britain and Northern Ireland
متحدہ مملکتِ برطانیہ کبیر و شمالی آئر لینڈ
برطانیہ کا پرچم برطانیہ کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Dieu et mon droit
( (شاہی:خدا اور میرا حق))
ترانہ: God Save the Queen
برطانیہ کا محل وقوع
دارالحکومت لندن
عظیم ترین شہر لندن
دفتری زبان(یں) قانونی طور پر کوئی نہیں،انگریزی عموماً رائج ہے
نظامِ حکومت
ملکہ
وزیرِ اعظم
آئینی ملوکیت
ایلیزابیتھ دوم
دیوید کامرون
تشکیل
- قوانینِ اتحاد اول
قوانینِ اتحاد دوم
انگریز۔آئری معاہدہ

یکم مئی 1707ء
یکم جنوری 1801ء
12 اپریل 1922ء
یورپی یونین کی رکنیت یکم جنوری 1973ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
242900  مربع کلومیٹر (79)
93784 مربع میل
1.34
آبادی
 - تخمینہ:2006ء
 - 2001 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
60,587,300 (22)
58789194
246 فی مربع کلومیٹر(51)
637 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

2147 ارب بین الاقوامی ڈالر (چھٹا)
35300 بین الاقوامی ڈالر (21 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.946
(16) – بلند
سکہ رائج الوقت برطانوی پونڈ (GBP)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ 0)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 1)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.uk
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+44

مملکت متحدۂ برطانیہ کبیر و شمالی آئر لینڈ (United Kingdom of Great Britain and Northern Ireland)، جسے عام طور پر "برطانیہ" کے طور پر جانا جاتا ہے، شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ ملحقہ سمندر کے مختلف جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔

برطانیہ کے چاروں طرف بحر اوقیانوس اور اس کے ذیلی بحیرے ہیں جن میں بحیرہ شمال، رودباد انگلستان، بحیرہ سیلٹک اور بحیرہ آئرش شامل ہیں۔

برطانیہ چینل سرنگ کے ذریعے فرانس سے منسلک ہے جو رودباد انگلستان کے نیچے سے گذرتی ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ ملتا ہے۔

برطانیہ ایک سیاسی اتحاد ہے جو 4 ممالک انگلستان، اسکاچستان، ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے مل کر بنا ہے۔ ان کے علاوہ دنیا بھر میں برطانیہ کے دیگر کئی مقبوضات بھی ہیں جن میں برمودا، جبل الطارق یا جبرالٹر، مونٹسیرٹ اور سینٹ ہلینا بھی شامل ہیں۔

برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے جو دولت مشترکہ کے 16 ممالک کی طرح ملکہ ایلزبتھ دوم کو اپنا حکمران تصور کرتی ہے۔

برطانیہ جی 8 کا رکن اور انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کی معیشت دنیا کی پانچویں اور یورپ کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جس کا اندازہ 2.2 کھرب امریکی ڈالرز ہے۔ برطانیہ آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 60.2 ملین ہے۔ برطانیہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ (نیٹو) اور اقوام متحدہ کا بانی رکن اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ برطانیہ دنیا کی بڑی جوہری طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ یورپی یونین کا بھی رکن ہے۔

سلطنت برطانیہ کے خاتمے کے باوجود انگریزی زبان کے عالمی استعمال اور دولت مشترکہ کے باعث برطانیہ کے اثرات ابھی بھی دنیا پر باقی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

برطانیہ یورپ کے ان ممالک میں سے ہے جن کی تاریخ بہت زرخیز ہے برٹن قبائل کی وجہ سے ان جزائیر کا نام برطانیہ پر گیا جو کہ یورپ اور دیگر خطوں سے ہجرت کرکے برطانیہ میں آباد ہوئے ان برٹنوں کی اکثریت آج بھی ویلز کے علاقے میں مقیم ہے ان برٹنوں کے مذہبی رہنماؤں کو ڈروئدا کہا جاتا تھااس وقت یہاں کے دیوی دیوتاؤں میں سے ایک متھرا دیوی بھی تھی قبل مسیح رومی حکمران آگسٹس کے زمانے میں جزائر برطانیہ پر رومی حکومت کا قبضہ تھا اگر چے کہ برطانیہ میں اس دور میں رہنے والے تمدن کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے مگر پھر بھی وہ رومہ تہذیب کا حصہ تصور کئے جاتے ہیں 117ء میں ھیڈرین کو روم کی سینٹ نے روم کا بادشاہ بنوایا اس دور میں ھیڈرین نے خصوصی طور پر برطانیہ پر توجے دی برطانیہ کی قدیم سڑکوں کی تعمیر ھیڈرین کے دور ہی میں ہوئی تھی اور قلعہ بندی کا آغاز بھی ھیڈرین کے دور ہی میں شروع ہوا جس کے بعد طویل مدت تک برطانیہ رومی سلطنت کا صوبہ بنا رہا اسی دور میں وسطی ایشیائی ممالک اور روس اور دیگر خطوں سے یورپ کی جانب خونخوار قبیلوں کی ہجرت کا آغاز ہواجن میں اہم ترین قبیلے جرمن ،ھن ، مشرقی گاتھ، ایلارک، ونڈال، مغربی گاتھ، فرینک اور لمبارڈ شامل ہیں ان خونخوار اور لڑاکا قبائل نے جن کی اکثریت وسطی ایشیا اور روس سے ہجرت کرکے یورپ میں داخل ہوئی تھی یورپ میں جنگ و جدل کی فضا قائم کردی یہ لڑاکا قبائل جو کہ وحشیانہ زندگی کے خوگر تھے جلد ہی یورپ کی فضاؤں میں داخل ہو کر یورپ کی زندگی میں رچ بس گئے اور انہوں نے اپنے آبائی مذاہب کو چھوڑ کر یورپی مذہب عیسائیت کو اپنا لیا ان جنگجو قبائل میں سے گاتھ جو کے مشرقی اور مغربی گاتھوں میں تقسیم تھے انتہائی لڑاکا اور جنگجو تھے گاتھوں کی لڑائیوں کی وجہ سے یورپ کی سب سے مضبوط سلطنت زوال سے دوچار ہوئی جب کے یورپ کے بیشتر علاقے پر گاتھوں نے بذور شمشیرقبضہ کرلیا گاتھوں کے حملے کی وجہ سے روم جس کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب تھا تباہ وبرباد ہو گیا گاتھوں کے حملے ہی کی وجہ سے قسطنطین نے اپنا دارلحکومت روم کی جگہ قسطنطنیہ کوبنایا مگر جلد ہی گاتھ عیسائی مذہب سے متاثر ہو گئے اس کے ساتھ وہ یورپ کے بیشتر حصوں پر قابض ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے نوبت یہ ہوچکی تھی کہ اگر چے گاتھ عیسائی ہو چکے تھے مگر اس کے باوجود یورپ کے تمدن یافتہ اور سابق حکمراں گاتھوں کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتے تھے گاتھوں کے اقتدار کے دور میں اگر چے کے یورپ میں کسی حد تک استحکام رہا مگر اس طرح نہیں جس طرح رومی حکومت کے دور میں رہا۔

ونڈسر خاندان کے بادشاہ اور ملکا ئیں کی تفصیلات[ترمیم]

ونڈسر خاندان یہ نام تبدیل کیاگیا تھا

جزائر برطانیہ بھی ان حملہ آووروں کے حملوں سے بری طرح سے متاثر ہوا ایک جانب رومی حکومت کی گرفت کمزور ہوئی تو دوسری جانب علاقائی حکومتیں قائم ہوتی چلی گئیں جو کہ چھوٹے چھوٹے علاقوں پر مشتمل تھیں ان حکومتوں کو تاریخ میں حکومت ہفت گانہ کہا جاتا ہے اسی زمانے میں برطانیہ میں عیسائیت کی تبلیغ ہوئی اور برطانیہ کے مختلف علاقے بت پرستی سے عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے اسی دوران آٹھویں صدی میں برطانیہ پر ڈنمارک کے رہنے والے ڈین قبائل نے حملے کرنا شروع کردیئے حملوں کا مقصد برطانیہ پر قبضہ کرنا تھا ٹھیک اسی زمانے میں ناروے میں بسنے والے جنگجو وائی کنگ نے بھی برطانیہ پر قبضہ کرنے کے لئے حملے کرنا شروع کردیئے وائی کنگ یورپ کی تاریخ کی انتہائی جنگجو قوم ہے جنہوں نے تمام یورپ میں اپنی وحشیانہ اور جنگجوانہ سرگرمیوں سے دہشت قائم کررکھی تھی اس زمانے میں برطانیہ کے بادشاہ ایلفرڈ بہت بہادر بادشاہ تھا جسے ایلف ڈ آعظم کہا جاتا ہے نے ان وائی کنگ حملہ آووروں کے خلاف طویل ترین جنگیں لڑیں اور بڑی بہادری کے ساتھ وائی کنگ کا مقابلہ کیا جسکے نتیجے میں وائی کنگ پسپائی اختیارکرنے پر مجبور ہوئے مگر اس کے باوجود ایلفرڈآعظم نے جو صلح کا معاہدہ وائی کنگ کے ساتھ کیا اس معاہدے میں حکمتِ عملی کے تحت دریائے ٹیمز سے اوپرکے علاقے جس میں شمالی ومشرقی انگلستان کا ایک وسیع علاقہ ان وائی کنگ کے حوالے کیا باقی حصہ ایلفرڈآعظم کے قبضے میں بدستور رہا۔ ایلفرڈ آعظم کے بعد اس کی اولاد حکمران رہی دسویں صدی کے آخر میں ڈنمارک کے بادشاہ نے حملہ کیا اس خاندان کا ایک فرد باقائدہ انگلستان کا بادشاہ بن کر بیٹھ گیا مگر اس کی حکومت کا خاتمہ اس کی موت کے بعد جلد ہی ہو گیا کیونکہ اسکی اولادمیں سے کوئی بھی حکمرانی کے قابل نہیں نکلا لہٰذا1042 ؁ میں اس حکومت کا خاتمہ ہوگیا اورایلفرڈ آعظم کی اولاد میں ایڈورڈ انگلستان کا بادشاہ بنایاگیا مگر ایڈورڈ لاولد انتقال کرگیا جس کی موت کے بعد انگلستان میں تخت کے دو دعویداروں ھیرلڈ اور ولیم کے درمیان جنگ ہوئی جسمیںھیرلڈ مارا گیا اورولیم انگلستان کا بادشاہ بنا واضح رہے کہ اگرچے کے ولیم ایڈورڈ کا رشتے دارتھا مگر چونکہ اس کا تعلق نارمنڈی سے تھا اسلئے اس کی حکومت کے نارمنوں کی حکومت تصور کی جاتی ہے۔

سیاست[ترمیم]

برطانیہ آئینی راجشاہی کے تحت ریاست ہے۔ ملکہ الیزابتھ دوم پندرہ دیگر کومنویلتھ ریاستوں کا فرمانروا ہونے کے علاوہ برطنیہ کا صدر ملک ہے۔ فرمانروا کو مشورہ دینے کا، حوصلہ دینے کا، اور انتباہ دینے کا حق ہے۔ برطانیہ دنیا کے ان چار ممالک میں سے ایک ہے جن کی کوئی تدوین شدہ آئین نہ ہو۔ لہٰذا برطانیہ کا آئین زیادہ تر الگ الگ تحریری ذرائع پر مشتمل ہے، بشمول تحریری قانون، منصف ساختہ نظائری قانون، اور بین الاقوامی معاہدے، آئینی رواجوں کے ساتھ۔ چونکہ عام تحریری قانون اور آئینی قانون میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، برطانوی پارلیمان آئینی اصلاح کر سکتا ہے صرف پارلیمانی قانون جاری کرنے سے، اور لہٰذا آئین کی تقریباً کوئی بھی تحریری یا غیر تحریر شدہ عنصر کو منسوخ کرنے کی سیاسی اقتدار رکھتا ہے۔ تاہم کوئی پارلیمان ایسا قانون جاری نہیں کر سکتا جو آئندہ پارلیمان بدل نہ سکیں۔

حکومت[ترمیم]

برطانیہ کی ویسٹمِنسٹر نظام پر مبنی پارلیمانی حکومت ہےجس کی دنیا بھر میں تقلید کیا گیا ہے: برطانوی سامراج کا ایک ورثہ۔ برطانیہ کا پارلیمان جو ویسٹمِنسٹر محل میں ملتا ہے اس کے دو ایوان ہیں؛ ایک منتخب ہاؤس آف کامَنز (ایوانِ زیریں) اور مقررہ ہاؤس آف لارڈز (ایوانِ بالا)۔ تمام مسوداتِ قانون جو جاری کیے جاتے ہیں انہیں قانون بنانے سے پہلے شاہی منظوری دی جاتی ہے۔

برطانوی حکومت کے سربراہ، وزیرِ اعظم کا عہدہ وہ رکنِ پارلیمان رکھتا ہے جو ہاؤس آف کامنز میں اکثریت کا رائے حاصل کر سکتا ہے، عام طور پر اس ایوان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ۔ وزیرِ اعظم کابینہ چنتا ہے اور وہ فرمانروا سے رسمی طور پر مقرر کیے جاتے ہیں۔

کابینہ عام طور پر دونوں ایوانوں میں سے وزیرِ اعظم کے جماعت کے ارکان سے چنا جاتا ہے، اور زیادہ تر حصہ ہاؤس آف کامنز سے، جسے وہ ذمہ دار ہیں۔ وزیرِ اعظم اور کابینہ عاملانہ اقتدار رکھتے ہیں۔ ہاؤس آف کامنز کے انتخابات کے لیے، برطانیہ 650 حلقۂ انتخابوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں سے ہر ایک ایک ہی رکنِ پارلیمان انتخاب کرتا ہے. عام انتخابات فرمانروا مقرر کرتا ہے وزیرِ اعظم کے مشورے پر۔ 1911 اور 1949 کے پارلیمانی قانون لازمی بناتے ہیں کہ نئے انتخابات پچھلے والوں کے بعد پانچ سال ختم ہونے سے پہلے مقرر ہوں۔

برطانیہ میں تین سب سے بڑے سیاسی جماعتیں ہیں کنسرویٹِو پارٹی، لیبر پارٹی اور لِبرل ڈیموکرَیٹس۔

اسکاٹ لینڈ[ترمیم]

اسی طرح اسکاٹ لینڈ کی بھی صورت یہ تھی کہ پانچویں صدی میں اسکاٹ لینڈ چار حصوں میں تقسیم تھا چھوٹے چھوٹے قبائیلی سردار اپنی اپنی راجدھانی کے سردار بن کر بیٹھ گئے تھے پانچویں صدی عیسوی میں اسکاٹ لینڈ کے لوگوں نے انگلستان کی حکومت کا خاتمہ کرکے اپنی مقامی حکومت قائم کرلی مگر یہاں بھی اسی طرح کی صورت حال تھی کے اسکینڈے نیویا کے ممالک کے لوگ اسکاٹ لینڈ پر حملہ آوور ہوتے اور کبھی کسی علاقے پر قبضہ کرلیتے اور کبھی کسی علاقے پرمگر پھر ان کو احساس ہوا اور 1034 ؁میں تمام اسکاٹ لینڈ ایک حکومت کے جھنڈے تلے آگیا۔

آئیر لینڈ[ترمیم]

پانچویں صدی عیسوی میں عیسائی راہبوں کے زریعے آر لینڈ میں عیسائیت پھیلی اس سے قبل یہاں پر بت پرستی رائج تھی عیسائیت پھیلنے کے بعد تین سو برس بعد تک آئیر لینڈ میں عیسائی رہبانیت کے تحت ہی نظام کام کرتا رہا مگر آٹھویں صدی کے بعد جو صورتِ حال انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کی اوپر بتائی گئی ہے اس سے ملتی جلتی صورت حال آئیر لینڈ کی ہو گئی جہاں یورپ کے دیگر علاقوں کے مختلف قبائل آکر حملہ کرتے اور قبضہ کرلیتے تھے مگر پھر 1171 ؁ میں انگلستان کے نارمن بادشاہ ہنری دوم نے پوپ کے فرمان کے مطابق آئیرلینڈ پرحملہ کرکے قبضہ کرلیااور یوں وہاں انگلستان کی حکومت قائم ہو گئی ۔ جنگ ھیسٹینگز کے بعد انگلستان پر نارمنوں کی حکومت قائم ہو گئی تھی ولیم اول نے انگلستان پر بڑی ہی فراست کے ساتھ حکومت کی قدیم جاگیر دارانہ نظام بدستور قائم رکھا گیا،مگر اس کے باوجود ولیم کا ان جاگیرداروں پر بہت مضبوط کنٹرول تھا اس کے احکامات تھے کہ کوئی بھی جاگیرداراس کی اجازت کے بغیر کوئی قلعہ تعمیر نہیں کرسکتا تھا بڑے بڑے مذہبی عہدیداروں کا تقرر بادشاہ کی مرضی کے بغیر ممکن ہی نہ تھا 1087ء میں ولیم کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ولیم ثانی بادشاہ بنا مگر لوگ اس سے بہت ناراض تھے جس کی وجہ سے ولیم ثانی 1100ء میں مارا گیا جس کے بعد اس کا بیٹاہنری اول تخت نشین ہوا جس کے عہد میں تجارت کو بہت ہی فروغ حاصل ہوا ہنری کے دور میں ہی انگریز تاجر برطانیہ سے باہر نکلے اور تجارت کے میدان میں دیگر یورپی اقوام کے مقابلہ میں جدوجہد شروع کی ہنری اول کی وفات کے بعداس کانواسہ ہنری دوم کے نام سے انگلستان کا بادشاہ بنا پلینٹیجنٹ(Plantagenet) خاندان سے تعلق رکھنے والے ہنری دوم ہنری اول کی بیٹی مٹلڈا کا بیٹا تھا،مٹلڈا کی شادی آنجوAngou کے نواب جیو فرے کے ساتھ ہوئی تھی اس خاندان کا نشان ایک جھاڑی تھا اس لئے اس خاندان کو پلینٹیجنٹ(Plantagenet) کہا جاتا ہے ہنری دوم کے بعد انگلستان میں جب تک اس خاندان کی حکومت قائم رہی اس حکومت کو پلینٹیجنٹ(Plantagenet) کا دور کہا گیا ہنری دوم کے دور میں انگلستان کے نظام کو بہتر بنایا گیا جو علاقے اس سے قبل انگلستان کے بادشاہوں کے ہاتھ سے نکل گئے تھے ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کیااس کے علاوہ ہنری نے عدالتی اصلاحات کی مالیات کے محکمے کو ازسر نو منظم کیا تجارت کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کئے اس کا سب سے یادگار قدم جو آج بھی ہنری دوم کی یاد دلاتا ہے وہ یہ کہ اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی بنیاد1209ء میں رکھی اس کے بعد اس کا بیٹا رچرڈ بادشاہ بنا تاریخ میں اس بادشاہ کو رچرڈ شیردل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے رچرڈ شیر دل تیسری صلیبی جنگ میں خود شامل ہوا تھا جس کے بعد اس کی بہن کی شادی سلطان ایوبی کے بھائی کے ساتھ ہوئی1199ء میں رچرڈ کی وفات کے بعداس کا بھائی جان(John)بادشاہ بنا جان(John)برطانیہ کی تاریخ میں کوئی زیادہ اچھا بادشاہ نہیں جانا جاتا ہے جان(John) کوئی زیادہ کامیاب باشاہ نہیں تھااس کے دور میں ایک جانب تو پوپ کے ساتھ کشمکش کا آغاز ہوا دوسری جانب امیروں اور جاگیرداروں کے ساتھ لڑائیاں ہوئیں جس کی وجہ سے انگلستان کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا مگر تاریخ میں جان(John) کانام اس اعتبار سے زیادہ مشہور ہے کہ جان کے دور میں اس جمہوریت کی ابتدا ہوئی جس کی وجہ سے آج برطانیہ کا نام قوموں میں سر بلند ہے جان(John)نے 1214ء میں اس دستاویزپر دستخط کئے جو کہ تاریخ میں میگنا کارٹا یعنی منشور کبیر کے نام سے مشہور ہے یہ ہی منشور انگلستان میں جمہوریت کی سنگ بنیاد تصور کیا جاتاہے۔ جان کے دور میں انگلستان میں پوپ کا عمل دخل زیادہ بڑھ گیا تھا جان کے لئے ضروری تھا کہ پوپ کو خوش رکھنے کے لئے باقائدہ نذرانے بھیجتا رہے جس کی وجہ سے انگلستان کی معیشت بہت متاثر ہوئی اس کے نتیجے میں انگلستان مختلف شورشوں کا شکار ہوتا چلا گیا 1216ء میں جان نے وفات پا ئی جان کے بعداسکابیٹا ہنری سوم کے نام سے نو برس کی عمر میں انگلستان کا بادشاہ بنا مگراس کی خوش نصیبی یہ رہی کہ ایک انتہائی قابل شخص ولیم مارشل جو کہ اس کے باپ جان کا ساتھی تھا ہنری سوم کا نائب السلطنت بنا ولیم مارشل انتہائی قابل اور وفادار تھا اس نے انتہائی قابلیت اورذہانت کے ساتھ کار مملکت چلائے جسکی وجہ سے انگلستان میں نو سالہ بادشاہ کی موجودگی میں کسی بھی طرح بدامنی اور بد انتظامی نہیں ہو سکی مگر جلد ہی ویلیم مارشل کی وفات کے بعد انتظامی معاملات بگڑنے لگے ایک جانب پوپ انگریزی کلیساؤں سے چندے کی رقم کا مطالبہ کرتا تھا دوسری جانب پوپ کی طرف سے مختلف مذہبی مطالبات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے تھے پھر ویز میں بغاوت کا سلسلہ شروع ہوگیا اس کے ساتھ انگلستان اور فرانس کے درمیان جنگ بھی شروع ہوگئی حالانکہ ہنری کی شادی فرانس کی شہزادی کے ساتھ ہوئی تھی مگر اس کے باوجود انگلستان اور فرانس کے درمیان جنگ ہوئی پوپ کی جانب سے انگلستان میں مداخلت کا سلسلہ بھی جاری ہی رہا ایک جانب تو پوپ نے اپنے مصارف کے لئے مستقل دباؤ ڈالنا شروع کیاجس کی انتہائی صورت یہ تھی کہ انگلستان کی پوری آمدنی کا ایک تہائی حصہ پوپ کے حوالے کیا جانے لگا جس کے نتیجے میں عوام ناراض ہونے لگے امراکی ایک کمیٹی جس کے اراکین 24افراد پر مشتمل تھی نے اصلاحی اسکیم پیش کردی ہنری نے اس اسکیم کو توڑنے کی بہت کوشش کی مگر اس میں اس کو کامیابی نہیں ہوئی اس طرح خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جس میں بادشاہ کے بہنوئی سائمن ڈی مان فرٹ Siman de Monfortنے اصلاحی گروہ کی سرداری قبول کرلی بادشاہ کو شکست ہوئی اور سائمن نے پورا انتظامی کاروبار سنبھال لیا بادشاہ نے مشورے کے لئے جو مجلس بنا رکھی تھی اسے پہلے مجلس کبیر Great Councilکہا جاتا تھا مگر 1240ء میں اس کا نام پارلیمنٹ رکھا گیا جو کہ آج تک جاری ہے1925ء میں سائمن نے ایک نمائندہ پارلیمنٹ بلوائی بادشاہ کا بڑا بیٹا جو کہ پہلے اصلاحی پارٹی کے ساتھ تھا پھر وہ ا ن ا میروں کے ساتھ مل گیا جو کہ بادشاہ کے طرف دار تھے اس نے سائمن کو شکست دی اب اقتدار دوبارہ ہنری کے ہاتھ میں آگیا لیکن اس وقت بھی برائے نام بادشاہ تھاکیونکہ تمام اقتدار ایڈورڈکے ہاتھ میں ہی تھا1272ء میں ہنری کا انتقال ہوگیا اور اس کا بیٹاایڈورڈ انگلستان کا بادشاہ بنا جسے ایڈورڈ اول کہا گیا جو کہ انگلستان کی تاریخ کا انتہائی قابل اور مدبر بادشاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اس کے زمانے میں ویلز کی بغاوت کا خاتمہ ہوا اسکاٹ لینڈ بھی انگلستان کے ساتھ شامل ہوا اگرچے یہ شمولت رسمی ہی تھی مگر اس کے باوجود اسکاٹ لینڈپرانگلستان کا جھنڈا لہرایا گیا اس کے ساتھ انگلستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے جو اہم ترین فیصلہ ایڈورڈ اول نے کیا وہ یہ تھا کہ 1290ء میں ایڈورڈ اول نے انگلستان کی حدود سے یہودیوں کو نکل جانے کے احکامات دئیے1295ء میں ایک نمائندہ پارلیمنٹ بلوائی جس میں، بشپ ،ایبٹ،بڑے بڑے امیر،نامور جنگجو اور مختلف قبائلی سرداروں نے شرکت کی اس نمائندہ اجلاس میں پہلی بار میگنا کارٹاکی تصدیق کردی گئی اس کے ساتھ میگنا کارٹا میں ایک دفعہ مزید بڑھائی گئی کہ بادشاہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی غیر جاگیردار محصول نافذ نہیں کرے گا ایڈورڈ کے دور کی ایک خوبی یہ ہے کہ متوسط طبقے سے بادشاہ باقائدہ رابطہ قائم رکھتا تھا اور ان کی تجاویز سنتا تھااور ان پر عمل درآمد بھی کروا تا تھا بادشاہ کا یہ قدم انگلستان میں جمہوریت کو قائم رکھنے میں بہت مدد گار ثابت ہوا اس کے ساتھ عدالتوں کی اصلاح بھی کی گئی عدالتوں کی کارکردگی کے بارے میں ایک سالنامہ شائع کیا جاتا تھا جس میں تمام عدالتی کاروائی کی تفصیل درج ہوتی تھی ۔ ایڈورڈ کا دور اس اعتبار سے بھی بہت اہم ہے کہ اس دور میں آئیرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ انگلستان کا حصہ بنے جو کہ گریٹ برٹین کی ابتدا تھی اس کے ساتھ ایڈورڈ نے جو اہم ترین کام انجام دیا وہ یہ کہ 1209ء میں بننے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب بھرپور توجے دی گئی جس کے نتیجے میں انگلستان میں اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہو سکا آکسفورڈ یونیورسٹی اس وقت دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی شمار کی جاتی ہے جہاں سے کروڑوں طالب علم اس وقت اپنی تعلیم کو مکمل کرکے دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب منگولوں نے چنگیز خان کی سربراہی میں منگولیا سے نکل کر بیرونی دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا تھا منگولوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے عالمِ اسلام کے اہم ترین اور طاقتور ریاستوں ثمر قند و بخارا اور بغداد کو روند کراور تباہ و برباد کرکے رکھ دیا تھاوہیں ان ہی منگولوں نے ایک جانب تمام روس دوسری جانب پولینڈ، جرمنی، آسٹریا، بلغاریہ، ترکی،رومانیہ پر قبضہ جمالیا تھا یورپ میں موجود عیسائیت کی سب سے بڑی روحانی شخصیت پوپ نے منگولوں کے حملے کو عذابِ خداوندی قرار دیا اور یورپ کے تمام بادشاہوں کو اس عذابِ خداوندی کا مقابلہ کرنے کے لئے یکجا ہونے کی دعوت دی مگر جلد ہی منگولوں کے پہلے بادشاہ چنگیز خان کے مر جانے کے بعد ایشیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں پہلی شکست کھانے کے بعد منگولوں کی قوت تتر بتر ہونے لگی جس کے نتیجے میں ان کے طوفانی حملوں کا زور یورپ میں ختم ہو گیا اور یورپی ریاستوں نے ایک ایک کرکے منگولوں سے آزادی حاصل کرنا شروع کردی اس صورت حال کے اثرات برطانیہ پر بھی پڑے ایک جانب منگولوں کے ہاتھوں شکست کھانے والے قبائل پناہ لینے کے لئے برطانیہ کی جانب رخ کرنے لگے دوسری جانب برطانیہ میں اعلیٰ ترین صنعت کار اور تاجر آنے لگے یورپ کے اجڑنے کے ساتھ برطانیہ کے بسنے کا عمل بھی جاری ہوا اسے انگریز قوم کی خوبی ہی کہا جائے گا کہ انگریزوں نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور ایسا قومی ماحول تشکیل دیا جس کے نتیجے میں قومی ترقی کے امکانات وسیع سے وسیع تر ہوتے چلے گئے۔ ایڈورڈ اول کی وفات کے بعد اس کے بیٹے ایڈورڈ دوم کے نام سے تخت نشین ہوا وہ زیادہ قابل نہ تھا اس لئے امیروں کا کنٹرول ایڈورڈ دوم پر تھا جس کی وجہ سے نہ تو ایڈورڈ دوم پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی کام کرسکتا تھا اور نہ ہی پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اعلانِ جنگ کرسکتا تھا اس کے دور میں اسکاٹ لینڈ کے باغیوں نے شاہی فوج کو شکست دیدی جس کے نتیجے میں اسکاٹ لینڈ آزاد ہو گیا ایڈورڈ کی شکست کے نتائج اس کو اس طرح سے بھگتنا پڑے کہ 1327 ء میں اسے تاج و تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیا گیا آٹھ ماہ کی قید کے بعد اسے قتل کردیا گیا جس کے بعد ایڈورڈ سوم پندرہ سال کی عمر میں بادشاہ بنایا گیا مگر جلد ہی اس نے تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں لینا شروع کردیئے1330ء میں اس نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے اور1337ء میں فرانس کے خلاف جنگ شروع کی جو سو سال تک جاری رہی اس لئے اس جنگ کو صد سالہ جنگ بھی کہا جاتا ہے ایڈورڈ سوم کے دور میں انتظامی معاملات درست ہو گئے ا سی کے عہد میں پارلیمنٹ کا آغاز ہوا دارلعوام اور دارالامرا کا آغاز ہوا مگر 1348ء میں خونی پلیگ پھیلی جس کی وجہ سے نصف آبادی موت کا شکار ہو گئی اسی دور میں عیسائیت کی اصلاحی تحریک کا آغاز بھی ہوا اس تحریک کے بانی جان وکلف کا کہنا تھا کہ ہر شخص کسی کی وساطت کے بغیر خدا سے براہ راست رشتہ قائم رکھ سکتا ہے اور کلیساؤں کے ساتھ اوقاف رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے پادریوں نے شادی نہ کرنے کا جو سلسلہ قائم کررکھا ہے وہ غلط ہے پادریوں نے دولت جمع کرنے کا جو سلسلہ قائم کررکھا ہے وہ غلط ہے اس طرح جان وکلف نے پوپ اور پادریوں کے تمام اقتدار کا خاتمہ کردیا جان وکلف نے 1372ء میں بائبل کا مکمل انگریزی ترجمہ کیا اپنے ان خیالات کی وجہ سے جان وکلف کو آخری دور میں بہت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب بڑھاپے کی وجہ سے ایڈورڈ بالکل ہی ناکارہ ہو گیا اس کا بڑا بیٹا بھی بیمار تھا اس وجہ سے برطانیہ کا نظام بگڑ گیا اس کے بیٹے نے حالات کو بہت درست کرنے کی کوشش کی مگر وہ 1376ء میں وفات پاگیا اس کا بیٹا رچرڈ سوم تخت نشین ہوا جو تخت نشین کے وقت صرف دس سال کا تھا اس کا چچا جان جو لینکاسٹر کا ڈیوک تھابادشاہ کی سرپرست مجلس کاسربراہ بنایا گیا اس کے دور میں فرانس کے ساتھ از سر نو جنگ چھڑ گئی جس میں فلینڈرس کا علاقہ چھن گیااس وقت روپے کی سخت ضرورت پڑی جو کے محصول لگا کر حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اس کی وجہ سے برطانیہ میں بے چینی بڑھنے لگی جس کی وجہ سے بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے بڑے بڑے زمینداروں کی جانب سے کسانوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے نتیجے میں کسانوں کی جانب سے بغاوت ہوگئی جاگیرداروں کے مراکز جلادئے گئے بڑے بڑے زمیندار اور قانون داں اس بغاوت میں مار دیئے گئے انگلستان کے مشرقی اور جنوبی حصے سے ایک بہت بڑا ہجوم دو سرداروں ویٹ ٹائیلر اور پول ٹاکس کی قیادت میں لندن کی جانب روانہ ہوا ہجوم کے بڑے بڑے مطالبات یہ تھے کہ زمینداروں نے کسانوں پر جو ناواجب ٹیکس لگائے ہوئے ہیں وہ منسوخ کر دئے جائیں کلیساؤں کے اوقاف چھین لئے جائیں اور شکار کے تمام قوانین ختم کردئے جائیں بادشاہ نے ہجوم سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ ہوشیاری کے ساتھ مذاکرات کئے جس کے نتیجے میں ہجوم واپس ہو گیا اس دوران ویٹ ٹائیلر مارا گیا اس کے بعد رچرڈ نے خومختار بننے کی کوشش کی پارلیمنٹ نے اس کے اس اقدام کی مخالفت کی اسی دوران ڈیوک آف لنکاسٹر کا بیٹاآئیر لینڈ سے آگیا اس نے رچرڈ کے تمام اختیارات خود لے کر رچرڈ کو بادشاہت سے دستبردار کرکے اور رچرڈ کوٹاؤر میں قید کردیا جہاں رچرڈ نے 1400ء میں وفات پائی ۔

خاندان لنکاسٹر[ترمیم]

رچرڈ کی وفات کے ساتھ ہی برطانیہ میں خاندان لنکاسٹر کا آغاز ہو گیا جس کا بانی ہنری سوئم تھا جو کہ ڈیوک آف لنکاسٹر کا بیٹا تھا ہنری سوئم کے دور میں برطانیہ میں بہت سے کام ہوئے مگر ہنری کے دور میں بہت سے امرا نے بغاوت کی فرانس نے بھی باغی سرداروں کی امداد میں اپنی فوج بھیجی مگر 1413ء میں ہنری وفات پاگیا جس کے بعد اس کا بیٹاہنری پنجم کے لقب سے بادشاہ بنا ہنری پنجم بہت ہی لائق بادشا ہ شمار کیا جاتا ہے اس نے برگنڈی کے ڈیوک کیساتھ صلح کرکے فرانس کے تخت و تاج کا دعویٰ کردیا اور فرانس کے خلاف لڑائی شرع کردی جس کے بعد ہنری کی افواج نے ایجن کورٹ کے مقام پر فرانس کو شکست دیدی اور نارمنڈی کے علاقے کو فتح کرلیا 1420ء میں صلح نامے کے نتیجے میں فرانس کے ولی عہد کو سلطنت سے محروم کرکے اعلان کردیا گیا کہ ہنری پنجم ہی فرانس کا آئندہ بادشاہ ہو گا مگر ہنری 1422ء میں اچانک وفات پاگیا ہنری پنجم کی وفات کے بعداس کے نو ماہ کے بیٹے کو ہنری ششم کے لقب سے بادشاہ بنایا گیا اس کے تین چچاؤں نے بادشاہ کے سرپرست کی حیثیت اختیا ر کی ایک چچا فرانس میں نائب السلطنت بن گیا دوسراانگلستان میں نائب سلطنت بنامگر ان ہی دنوں فرانس میں بغاوت کی ابتدا ہوگئی یہ بغاوت مشہورو معروف جون آف آرک نے شروع کی جس کے نتیجے میں فرانس میں انگلستان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا 1437ء میں ہنری بالغ ہو گیا لیکن وہ اچھا حکمران ثابت نہیں ہوسکا اس کے دور میں بد نظمی ہی رہی کبھی کوئی نواب فوج جمع کرکے کنٹرول کرلیتا کبھی کوئی ۔ان حالات میں ڈیوک آف یارک کے پوتے نے بادشاہ کے خلاف اعلان بغاوت کردی اس طرح ایک ہی خاندان کی دو شاخوں کے درمیان خانہ جنگی کی ابتدا ہوئی یارک اور لنکاسٹر خاندانوں کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ابتدا میں یارک نے شاہی فوج کو شکست دے کر بادشاہ کو گرفتار کرلیا مگر بادشاہ کی ماں اور ہنری پنجم کی بیوہ نے فوج جمع کرکے ڈیوک آف یارک کی افواج کو شکست دیدی جنگ میں ڈیوک آف یارک مارا گیا مگر جنوبی انگلستان کے لوگوں کی حمایت سے ڈیوک آف یارک کے بیٹے ایڈورڈ نے شاہی افواج کو شکست دینا شروع کردیا جس کے نتیجے میں جلد ہی لنکاسٹر خاندان شکست کھا گیا اور 1461ء میں یارک خاندان کی حکمرانی کی ابتدا ہو گئی 1465ء میں ہنری ششم گرفتار ہوگیا جس کو ٹاؤر میں بند کردیا گیا جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری دن پلینٹیجنٹ(Plantagenet) خاندان کے آخری بادشاہ رچرڈ کی مانند گزارے۔ یارک خاندان کی حکمرانی برطانیہ کے عوام کے لئے نئی صبح بن کرطلوع ہواعوام مسلسل ہونے والی خانہ جنگی سے بے زار آچکے تھے۔

برطانہ کہ شاہی خاندانوں کی تفصیلات[ترمیم]

خاندان بیلوس اسے نارمن خاندان بھی کہا جاتاہے اور یہ صرف ایک بادشاہت تک محدود رہا 1135 تا1154 لنیٹیجنٹ خاندان 1154تا1400 لنکاسٹر خاندان 1400تا1471 یارک خاندان 1471 تا1485 ٹیوڈور خاندان 1485 تا1603 گریٹ برٹین یا متحدہ برطانیہ کی ابتدا ہوئی اسٹیورٹ خاندان 1603تا1649 کرام ویل اور اس کا بیٹا رچرڈ کرام ویل ڈکٹیٹر بنے 1649تا1712 اسٹیورٹ خاندان کی حکومت دوبارہ بحال ہو گئی 1660تا1714 ہونور خاندان 1714 تا1901 ہاؤس آ ف گوتھا نو سال تک خاندان کا نام یہ ہی رکھا گیا 1901 تا1910 ونڈسر خاندان بنیادی طور پر یہ ہونورو خاندان ہی ہے مگر اب اس کا نام تبدیل کردیا گیا ہے 1910تاحال ۔۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حکومتی
عمومی معلومات
سفر