مملکت متحدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(برطانیہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
  
مملکت متحدہ
(انگریزی میں: United Kingdom of Great Britain and Northern Ireland خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
مملکت متحدہ
پرچم
مملکت متحدہ
نشان

EU-United Kingdom.svg 

ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 54°N 2°W / 54°N 2°W / 54; -2  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
رقبہ 242495.406794 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان انگریزی،  ویلش زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 65102385 (2016)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
77.39024 سال (1999)[2]
77.74146 سال (2000)[2]
77.99268 سال (2001)[2]
78.1439 سال (2002)[2]
78.44634 سال (2003)[2]
78.74634 سال (2004)[2]
79.04878 سال (2005)[2]
79.24878 سال (2006)[2]
79.44878 سال (2007)[2]
79.6 سال (2008)[2]
80.05122 سال (2009)[2]
80.40244 سال (2010)[2]
80.95122 سال (2011)[2]
80.90488 سال (2012)[2]
81.00488 سال (2013)[2]
81.30488 سال (2014)[2]
80.9561 سال (2015)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
طرز حکمرانی آئینی بادشاہت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں basic form of government (P122) ویکی ڈیٹا پر
بادشاہ مملکت متحدہ  ایلزبتھ دوم (6 فروری 1952–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
وزیر اعظمِ مملکت متحدہ  تھریسا مئے (13 جولا‎ئی 2016–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ حکومت (P6) ویکی ڈیٹا پر
مقننہ مملکت متحدہ کی پارلیمان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں legislative body (P194) ویکی ڈیٹا پر
عدلیہ دارالامرا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اعلی ترین مختار عدالت (P209) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 12 اپریل 1927  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
لازمی تعلیم (کم از کم عمر) 5 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلم (کم از کم عمر) (P3270) ویکی ڈیٹا پر
لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) 18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) (P3271) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of Europe.svg یورپی اتحاد (1 جنوری 1973–29 مارچ 2019)[3][4]
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (24 اکتوبر 1945–)
Flag of NATO.svg نیٹو (4 اپریل 1949–)
دولت مشترکہ ممالک (11 دسمبر 1931–)
Flag of Europe.svg یورپی کونسل (5 مئی 1949–)
گروہ 8
انجمن اقتصادی تعاون و ترقی (2 مئی 1961–)
یورپی خلائی ایجنسی (28 مارچ 1978–)
عالمی تجارتی ادارہ (1 جنوری 1995–)
جی 20 اہم معیشتیں (26 ستمبر 1999–)
سلامتی کونسل (24 اکتوبر 1945–)
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (27 دسمبر 1945–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (24 ستمبر 1960–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (20 جولا‎ئی 1956–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (12 اپریل 1988–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (18 جنوری 1967–)
افریقی ترقیاتی بینک
ایشیائی ترقیاتی بینک (1966–)
انٹرپول[5]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[6]
بین الاقوامی آب نگاری تنظیم[7]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (4 نومبر 1946–31 دسمبر 1985)[8][9]
Flag of UPU.svg عالمی ڈاک اتحاد[10]
عالمی بعید ابلاغیاتی اتحاد (24 فروری 1871–)[11]
Flag of Europe.svg یورپی اتحاد (1 جنوری 1973–31 اکتوبر 2019)[3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
جمہوریہ آئرلینڈ (Ireland–United Kingdom border)[12]
فرانس (France–United Kingdom border)
ڈنمارک (Denmark–United Kingdom border)
وینیزویلا (United Kingdom–Venezuela border)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
سفارتی تعلقات
کینیڈا (Canada–United Kingdom relations)
اطالیہ (Italy–United Kingdom relations)
برازیل (Brazil–United Kingdom relations)
جرمنی (Germany–United Kingdom relations)
اسرائیل (Israel–United Kingdom relations)
فرانس (France–United Kingdom relations)
لتھووینیا (Lithuania–United Kingdom relations)
آسٹریلیا (Australia–United Kingdom relations)
سربیا (Serbia–United Kingdom relations)
یمن (United Kingdom–Yemen relations)
یوکرین (Ukraine–United Kingdom relations)
کینیا (High Commission of Kenya, London اور Kenya–United Kingdom relations)
قبرص (Cyprus–United Kingdom relations)
سنگاپور (Singapore–United Kingdom relations)
ارجنٹائن (Argentina–United Kingdom relations)
بنگلہ دیش (Bangladesh–United Kingdom relations)
مقدس کرسی (Holy See–United Kingdom relations)
جاپان (Japan–United Kingdom relations)
سینٹ کیٹز و ناویس (High Commission of Saint Kitts and Nevis, London)
ہسپانیہ (Spain–United Kingdom relations)
کویت (United Kingdom–Kuwait relations)
ریاستہائے متحدہ امریکا (United Kingdom–United States relations)
بلجئیم (Belgium–United Kingdom relations)
البانیا (Albania–United Kingdom relations)
آرمینیا (Armenia–United Kingdom relations)
بلغاریہ (Bulgaria–United Kingdom relations)
بحرین (Bahrain–United Kingdom relations)
چلی (Chile–United Kingdom relations)
مصر (Egypt–United Kingdom relations)
ڈنمارک (Denmark–United Kingdom relations)
فلپائن (Philippines–United Kingdom relations)
گریناڈا (Grenada–United Kingdom relations)
انڈونیشیا (Indonesia–United Kingdom relations)
کرغیزستان (Kyrgyzstan–United Kingdom relations)
عراق (Iraq–United Kingdom relations)
کوسووہ (Kosovo–United Kingdom relations)
میکسیکو (Mexico–United Kingdom relations)
مالٹا (Malta–United Kingdom relations)
ملائیشیا (Malaysia–United Kingdom relations)
نمیبیا (Namibia–United Kingdom relations)
ناروے (Norway–United Kingdom relations)
نیوزی لینڈ (New Zealand–United Kingdom relations)
پاپوا نیو گنی (Papua New Guinea–United Kingdom relations)
مراکش (Morocco–United Kingdom relations)
پاکستان (Pakistan–United Kingdom relations)
پولینڈ (Poland–United Kingdom relations)
سلوواکیہ (Slovakia–United Kingdom relations)
سوڈان (Sudan–United Kingdom relations)
ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو (Trinidad and Tobago–United Kingdom relations)
سان مارینو (San Marino–United Kingdom relations)
جنوبی افریقا (South Africa–United Kingdom relations)
رومانیہ (Romania–United Kingdom relations)
متحدہ عرب امارات (United Arab Emirates–United Kingdom relations)
پرتگال (Portugal–United Kingdom relations)
سعودی عرب (Saudi Arabia–United Kingdom relations)
سویٹزرلینڈ (Switzerland–United Kingdom relations)
تائیوان (Taiwan–United Kingdom relations)
صومالیہ (Somalia–United Kingdom relations)
جمہوریہ آئرلینڈ (Ireland–United Kingdom relations)
قازقستان (Kazakhstan–United Kingdom relations)
آئس لینڈ (Iceland–United Kingdom relations)
بارباڈوس (Barbados–United Kingdom relations)
لیبیا (Libya–United Kingdom relations)
کیوبا (Cuba–United Kingdom relations)
برونائی دار السلام (Brunei–United Kingdom relations)
پیرو (Peru–United Kingdom relations)
منگولیا (Mongolia–United Kingdom relations)
ازبکستان (United Kingdom–Uzbekistan relations)
وینیزویلا (United Kingdom–Venezuela relations)
یوراگوئے (United Kingdom–Uruguay relations)
عوامی جمہوریہ چین (China–United Kingdom relations)
آذربائیجان (Azerbaijan–United Kingdom relations)
ایران (Iran–United Kingdom relations)
یونان (Greece–United Kingdom relations)
بھارت (India–United Kingdom relations)
ترکی (Turkey–United Kingdom relations)
جنوبی کوریا (South Korea–United Kingdom relations)
روس (Russia–United Kingdom relations)
ہانگ کانگ (Hong Kong-United Kingdom relations)
جارجیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سفارتی تعلقات (P530) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
2622433959604.16 امریکی ڈالر (2017)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 40233 امریکی ڈالر (2014)[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 43875.97 امریکی ڈالر (2015)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 3767016800 امریکی ڈالر (1960)[16]
3327714600 امریکی ڈالر (1961)[16]
3313161730 امریکی ڈالر (1962)[16]
3153679120 امریکی ڈالر (1963)[16]
2322326240 امریکی ڈالر (1964)[16]
3011764240 امریکی ڈالر (1965)[16]
3109538540 امریکی ڈالر (1966)[16]
2702371600 امریکی ڈالر (1967)[16]
2712427900 امریکی ڈالر (1968)[16]
2535411000 امریکی ڈالر (1969)[16]
2918294770 امریکی ڈالر (1970)[16]
8956892354 امریکی ڈالر (1971)[16]
6214060489 امریکی ڈالر (1972)[16]
7946929575 امریکی ڈالر (1973)[16]
9959015733 امریکی ڈالر (1974)[16]
7547578527 امریکی ڈالر (1975)[16]
6208263109 امریکی ڈالر (1976)[16]
23778086730 امریکی ڈالر (1977)[16]
21184736971 امریکی ڈالر (1978)[16]
29084847008 امریکی ڈالر (1979)[16]
31755311531 امریکی ڈالر (1980)[16]
22802299491 امریکی ڈالر (1981)[16]
21083020684 امریکی ڈالر (1982)[16]
18593267595 امریکی ڈالر (1983)[16]
15306822447 امریکی ڈالر (1984)[16]
19081735746 امریکی ڈالر (1985)[16]
25853390487 امریکی ڈالر (1986)[16]
50917928958 امریکی ڈالر (1987)[16]
51899597618 امریکی ڈالر (1988)[16]
42381854893 امریکی ڈالر (1989)[16]
43145747847 امریکی ڈالر (1990)[16]
48572195808 امریکی ڈالر (1991)[16]
42844142573 امریکی ڈالر (1992)[16]
43982206193 امریکی ڈالر (1993)[16]
48079032696 امریکی ڈالر (1994)[16]
49144184297 امریکی ڈالر (1995)[16]
46700021319 امریکی ڈالر (1996)[16]
37662299562 امریکی ڈالر (1997)[16]
38829796042 امریکی ڈالر (1998)[16]
46188296172 امریکی ڈالر (1999)[16]
50939413707 امریکی ڈالر (2000)[16]
47417440837 امریکی ڈالر (2001)[16]
54959299863 امریکی ڈالر (2002)[16]
56349691000 امریکی ڈالر (2003)[16]
62138213201 امریکی ڈالر (2004)[16]
59135108205 امریکی ڈالر (2005)[16]
63823566426 امریکی ڈالر (2006)[16]
77715470521 امریکی ڈالر (2007)[16]
64785703514 امریکی ڈالر (2008)[16]
79453484176 امریکی ڈالر (2009)[16]
98025401565 امریکی ڈالر (2010)[16]
109733962250 امریکی ڈالر (2011)[16]
117156978563 امریکی ڈالر (2012)[16]
118750206118 امریکی ڈالر (2013)[16]
124487491479 امریکی ڈالر (2014)[16]
148109292234 امریکی ڈالر (2015)[16]
134931828649 امریکی ڈالر (2016)[16]
150857673778 امریکی ڈالر (2017)[16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.738 (1980)
0.753 (1985)
0.773 (1990)[17]
0.837 (1995)
0.865 (2000)[17]
0.890 (2005)
0.906 (2010)[17]
0.901 (2011)[17]
0.901 (2012)[17]
0.902 (2013)[17]
0.907 (2014)[17]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 6 فیصد (2014)[18]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
کرنسی پاؤنڈ اسٹرلنگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رائج سکہ (P38) ویکی ڈیٹا پر
مرکزی بینک بینک آف انگلینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مرکزی بینک (P1304) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت بائیں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم uk.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 GB  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +44  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

مملکت متحدہ برطانیہ عظمی و شمالی آئرلینڈ (United Kingdom of Great Britain and Northern Ireland)، جسے عام طور پر مملکت متحدہ (United Kingdom) یا برطانیہ (Britain) کے طور پر جانا جاتا ہے، شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ ملحقہ سمندر کے مختلف جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔

برطانیہ کے چاروں طرف بحر اوقیانوس اور اس کے ذیلی بحیرے ہیں جن میں بحیرہ شمال، رودباد انگلستان، بحیرہ سیلٹک اور بحیرہ آئرش شامل ہیں۔

برطانیہ چینل سرنگ کے ذریعے فرانس سے منسلک ہے جو رودباد انگلستان کے نیچے سے گذرتی ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ ملتا ہے۔

برطانیہ ایک سیاسی اتحاد ہے جو 4 ممالک انگلستان، اسکاچستان، ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے مل کر بنا ہے۔ ان کے علاوہ دنیا بھر میں برطانیہ کے دیگر کئی مقبوضات بھی ہیں جن میں برمودا، جبل الطارق یا جبرالٹر، مونٹسیرٹ اور سینٹ ہلینا بھی شامل ہیں۔

برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے جو دولت مشترکہ کے 16 ممالک کی طرح ملکہ ایلزبتھ دوم کو اپنا حکمران تصور کرتی ہے۔

برطانیہ جی 8 کا رکن اور انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کی معیشت دنیا کی پانچویں اور یورپ کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جس کا اندازہ 2.2 کھرب امریکی ڈالرز ہے۔ برطانیہ آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 60.2 ملین ہے۔ برطانیہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ (نیٹو) اور اقوام متحدہ کا بانی رکن اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ برطانیہ دنیا کی بڑی جوہری طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ یورپی یونین کا بھی رکن ہے۔

سلطنت برطانیہ کے خاتمے کے باوجود انگریزی زبان کے عالمی استعمال اور دولت مشترکہ کے باعث برطانیہ کے اثرات ابھی بھی دنیا پر باقی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

برطانیہ یورپ کے ان ممالک میں سے ہے جن کی تاریخ بہت زرخیز ہے برٹن قبائل کی وجہ سے ان جزائر کا نام برطانیہ پر گیا جو یورپ اور دیگر خطوں سے ہجرت کرکے برطانیہ میں آباد ہوئے ان برٹنوں کی اکثریت آج بھی ویلز کے علاقے میں مقیم ہے ان برٹنوں کے مذہبی رہنماؤں کو ڈروئدا کہا جاتا تھااس وقت یہاں کے دیوی دیوتاؤں میں سے ایک متھرا دیوی بھی تھی قبل مسیح رومی حکمران آگستس کے زمانے میں جزائر برطانیہ پر رومی حکومت کا قبضہ تھا اگر چہ کہ برطانیہ میں اس دور میں رہنے والے تمدن کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے مگر پھر بھی وہ رومہ تہذیب کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں۔

117ء میں ھیڈرین کو روم کی سینٹ نے روم کا بادشاہ بنوایا اس دور میں ہیڈرین نے خصوصی طور پر برطانیہ پر توجہ دی برطانیہ کی قدیم سڑکوں کی تعمیر ھیڈرین کے دور ہی میں ہوئی تھی اور قلعہ بندی کا آغاز بھی ہیڈرین کے دور ہی میں شروع ہوا جس کے بعد طویل مدت تک برطانیہ رومی سلطنت کا صوبہ بنا رہا اسی دور میں وسطی ایشیائی ممالک اور روس اور دیگر خطوں سے یورپ کی جانب خونخوار قبیلوں کی ہجرت کا آغاز ہواجن میں اہم ترین قبیلے جرمن ،ھن، مشرقی گاتھ، ایلارک، ونڈال، مغربی گاتھ، فرینک اور لمبارڈ شامل ہیں ان خونخوار اور لڑاکا قبائل نے جن کی اکثریت وسطی ایشیا اور روس سے ہجرت کرکے یورپ میں داخل ہوئی تھی یورپ میں جنگ و جدل کی فضا قائم کردی یہ لڑاکا قبائل جو وحشیانہ زندگی کے خوگر تھے جلد ہی یورپ کی فضاؤں میں داخل ہو کر یورپ کی زندگی میں رچ بس گئے اور انہوں نے اپنے آبائی مذاہب کو چھوڑ کر یورپی مذہب مسیحیت کو اپنا لیا ان جنگجو قبائل میں سے گاتھ جو کے مشرقی اور مغربی گاتھوں میں تقسیم تھے انتہائی لڑاکا اور جنگجو تھے گاتھوں کی لڑائیوں کی وجہ سے یورپ کی سب سے مضبوط سلطنت زوال سے دوچار ہوئی جب کے یورپ کے بیشتر علاقے پر گاتھوں نے بذور شمشیرقبضہ کر لیا، گاتھوں کے حملے کی وجہ سے روم جس کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب تھا تباہ وبرباد ہو گیا گاتھوں کے حملے ہی کی وجہ سے قسطنطین نے اپنا دار الحکومت روم کی جگہ قسطنطنیہ کوبنایا مگر جلد ہی گاتھ مسیحی مذہب سے متاثر ہو گئے اس کے ساتھ وہ یورپ کے بیشتر حصوں پر قابض ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے نوبت یہ ہوچکی تھی کہ اگر چہ گاتھ مسیحی ہو چکے تھے مگر اس کے باوجود یورپ کے تمدن یافتہ اور سابق حکمراں گاتھوں کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتے تھے گاتھوں کے اقتدار کے دور میں اگر چہ کے یورپ میں کسی حد تک استحکام رہا مگر اس طرح نہیں جس طرح رومی حکومت کے دور میں رہا۔

ونڈسر خاندان کے بادشاہ اور ملکا ئیں کی تفصیلات[ترمیم]

ونڈسر خاندان یہ نام تبدیل کیا گیا تھا

جزائر برطانیہ بھی ان حملہ آووروں کے حملوں سے بری طرح سے متاثر ہوا ایک جانب رومی حکومت کی گرفت کمزور ہوئی تو دوسری جانب علاقائی حکومتیں قائم ہوتی چلی گئیں جو چھوٹے چھوٹے علاقوں پر مشتمل تھیں ان حکومتوں کو تاریخ میں حکومت ہفت گانہ کہا جاتا ہے اسی زمانے میں برطانیہ میں مسیحیت کی تبلیغ ہوئی اور برطانیہ کے مختلف علاقے بت پرستی سے مسیحیت کی آغوش میں چلے گئے اسی دوران آٹھویں صدی میں برطانیہ پر ڈنمارک کے رہنے والے ڈین قبائل نے حملے کرنا شروع کردیے حملوں کا مقصد برطانیہ پر قبضہ کرنا تھا ٹھیک اسی زمانے میں ناروے میں بسنے والے جنگجو وائی کنگ نے بھی برطانیہ پر قبضہ کرنے کے لیے حملے کرنا شروع کردیے وائی کنگ یورپ کی تاریخ کی انتہائی جنگجو قوم ہے جنہوں نے تمام یورپ میں اپنی وحشیانہ اور جنگجوانہ سرگرمیوں سے دہشت قائم کررکھی تھی اس زمانے میں برطانیہ کے بادشاہ ایلفرڈ بہت بہادر بادشاہ تھا جسے ایلفرڈ آعظم کہا جاتا ہے نے ان وائی کنگ حملہ آووروں کے خلاف طویل ترین جنگیں لڑیں اور بڑی بہادری کے ساتھ وائی کنگ کا مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں وائی کنگ پسپائی اختیارکرنے پر مجبور ہوئے مگر اس کے باوجود ایلفرڈآعظم نے جو صلح کا معاہدہ وائی کنگ کے ساتھ کیا اس معاہدے میں حکمتِ عملی کے تحت دریائے ٹیمز سے اوپرکے علاقے جس میں شمالی ومشرقی انگلستان کا ایک وسیع علاقہ ان وائی کنگ کے حوالے کیا باقی حصہ ایلفرڈآعظم کے قبضے میں بدستور رہا۔ ایلفرڈ آعظم کے بعد اس کی اولاد حکمران رہی دسویں صدی کے آخر میں ڈنمارک کے بادشاہ نے حملہ کیا اس خاندان کا ایک فرد باقاعدہ انگلستان کا بادشاہ بن کر بیٹھ گیا مگر اس کی حکومت کا خاتمہ اس کی موت کے بعد جلد ہی ہو گیا کیونکہ اس کی اولادمیں سے کوئی بھی حکمرانی کے قابل نہیں نکلا لہٰذا 1042ء میں اس حکومت کا خاتمہ ہو گیا اورایلفرڈ آعظم کی اولاد میں ایڈورڈ انگلستان کا بادشاہ بنایاگیا مگر ایڈورڈ لاولد انتقال کرگیا جس کی موت کے بعد انگلستان میں تخت کے دو دعویداروں ھیرلڈ اور ولیم کے درمیان جنگ ہوئی جس میں ھیرلڈ مارا گیا اورولیم انگلستان کا بادشاہ بنا واضح رہے کہ اگرچے کے ولیم ایڈورڈ کا رشتے دارتھا مگر چونکہ اس کا تعلق نارمنڈی سے تھا اس لیے اس کی حکومت کے نارمنوں کی حکومت تصور کی جاتی ہے۔

سیاست[ترمیم]

برطانیہ آئینی راجشاہی کے تحت ریاست ہے۔ ملکہ ایلزبتھ دوم پندرہ دیگر دولت مشترکہ ریاستوں کا فرمانروا ہونے کے علاوہ برطنیہ کا صدر ملک ہے۔ فرمانروا کو مشورہ دینے کا، حوصلہ دینے کا اور انتباہ دینے کا حق ہے۔ برطانیہ دنیا کے ان چار ممالک میں سے ایک ہے جن کی کوئی تدوین شدہ آئین نہ ہو۔ لہٰذا برطانیہ کا آئین زیادہ تر الگ الگ تحریری ذرائع پر مشتمل ہے، بشمول تحریری قانون، منصف ساختہ نظائری قانون اور بین الاقوامی معاہدے، آئینی رواجوں کے ساتھ۔ چونکہ عام تحریری قانون اور آئینی قانون میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، برطانوی پارلیمان آئینی اصلاح کر سکتا ہے صرف پارلیمانی قانون جاری کرنے سے اور لہٰذا آئین کی تقریباً کوئی بھی تحریری یا غیر تحریر شدہ عنصر کو منسوخ کرنے کی سیاسی اقتدار رکھتا ہے۔ تاہم کوئی پارلیمان ایسا قانون جاری نہیں کر سکتا جو آئندہ پارلیمان بدل نہ سکیں۔

حکومت[ترمیم]

برطانیہ کی ویسٹ مِنسٹر نظام پر مبنی پارلیمانی حکومت ہے جس کی دنیا بھر میں تقلید کیا گیا ہے: برطانوی سامراج کا ایک ورثہ۔ برطانیہ کا پارلیمان جو ویسٹمِنسٹر محل میں ملتا ہے اس کے دو ایوان ہیں؛ ایک منتخب ہاؤس آف کامَنز (ایوانِ زیریں) اور مقررہ ہاؤس آف لارڈز (ایوانِ بالا)۔ تمام مسوداتِ قانون جو جاری کیے جاتے ہیں انہیں قانون بنانے سے پہلے شاہی منظوری دی جاتی ہے۔

برطانوی حکومت کے سربراہ، وزیرِ اعظم کا عہدہ وہ رکنِ پارلیمان رکھتا ہے جو ہاؤس آف کامنز میں اکثریت کا رائے حاصل کر سکتا ہے، عام طور پر اس ایوان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ۔ وزیرِ اعظم کابینہ چنتا ہے اور وہ فرمانروا سے رسمی طور پر مقرر کیے جاتے ہیں۔

کابینہ عام طور پر دونوں ایوانوں میں سے وزیرِ اعظم کے جماعت کے ارکان سے چنا جاتا ہے اور زیادہ تر حصہ ہاؤس آف کامنز سے، جسے وہ ذمہ دار ہیں۔ وزیرِ اعظم اور کابینہ عاملانہ اقتدار رکھتے ہیں۔ ہاؤس آف کامنز کے انتخابات کے لیے، برطانیہ 650 حلقۂ انتخابوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں سے ہر ایک ایک ہی رکنِ پارلیمان انتخاب کرتا ہے۔ عام انتخابات فرمانروا مقرر کرتا ہے وزیرِ اعظم کے مشورے پر۔ 1911ء اور 1949ء کے پارلیمانی قانون لازمی بناتے ہیں کہ نئے انتخابات پچھلے والوں کے بعد پانچ سال ختم ہونے سے پہلے مقرر ہوں۔

برطانیہ میں تین سب سے بڑے سیاسی جماعتیں ہیں کنزرویٹو پارٹی، لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس۔

اسکاٹ لینڈ[ترمیم]

اسی طرح اسکاٹ لینڈ کی بھی صورت یہ تھی کہ پانچویں صدی میں اسکاٹ لینڈ چار حصوں میں تقسیم تھا چھوٹے چھوٹے قبائیلی سردار اپنی اپنی راجدھانی کے سردار بن کر بیٹھ گئے تھے پانچویں صدی عیسوی میں اسکاٹ لینڈ کے لوگوں نے انگلستان کی حکومت کا خاتمہ کرکے اپنی مقامی حکومت قائم کرلی مگر یہاں بھی اسی طرح کی صورت حال تھی کے اسکینڈینیویا کے ممالک کے لوگ اسکاٹ لینڈ پر حملہ آوور ہوتے اور کبھی کسی علاقے پر قبضہ کرلیتے اور کبھی کسی علاقے پرمگر پھر ان کو احساس ہوا اور 1034ء میں تمام اسکاٹ لینڈ ایک حکومت کے جھنڈے تلے آ گیا۔

آئرلینڈ[ترمیم]

پانچویں صدی عیسوی میں مسیحی راہبوں کے ذریعہ آئرلینڈ میں مسیحیت پھیلی اس سے قبل یہاں پر بت پرستی رائج تھی مسیحیت پھیلنے کے بعد تین سو برس بعد تک آئیر لینڈ میں مسیحی رہبانیت کے تحت ہی نظام کام کرتا رہا مگر آٹھویں صدی کے بعد جو صورتِ حال انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کی اوپر بتائی گئی ہے اس سے ملتی جلتی صورت حال آئرلینڈ کی ہو گئی جہاں یورپ کے دیگر علاقوں کے مختلف قبائل آکر حملہ کرتے اور قبضہ کرلیتے تھے مگر پھر 1171ء میں انگلستان کے نارمن بادشاہ ہنری دوم نے پوپ کے فرمان کے مطابق آئرلینڈ پرحملہ کرکے قبضہ کرلیااور یوں وہاں انگلستان کی حکومت قائم ہو گئی۔

جنگ ھیسٹینگز کے بعد انگلستان پر نارمنوں کی حکومت قائم ہو گئی تھی ولیم اول نے انگلستان پر بڑی ہی فراست کے ساتھ حکومت کی قدیم جاگیر دارانہ نظام بدستور قائم رکھا گیا،مگر اس کے باوجود ولیم کا ان جاگیرداروں پر بہت مضبوط کنٹرول تھا اس کے احکامات تھے کہ کوئی بھی جاگیرداراس کی اجازت کے بغیر کوئی قلعہ تعمیر نہیں کر سکتا تھا بڑے بڑے مذہبی عہدیداروں کا تقرر بادشاہ کی مرضی کے بغیر ممکن ہی نہ تھا 1087ء میں ولیم کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ولیم ثانی بادشاہ بنا مگر لوگ اس سے بہت ناراض تھے جس کی وجہ سے ولیم ثانی 1100ء میں مارا گیا جس کے بعد اس کا بیٹا ہنری اول تخت نشین ہوا جس کے عہد میں تجارت کو بہت ہی فروغ حاصل ہوا ہنری کے دور میں ہی انگریز تاجر برطانیہ سے باہر نکلے اور تجارت کے میدان میں دیگر یورپی اقوام کے مقابلہ میں جدوجہد شروع کی ہنری اول کی وفات کے بعداس کانواسہ ہنری دوم کے نام سے انگلستان کا بادشاہ بنا پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) خاندان سے تعلق رکھنے والے ہنری دوم ہنری اول کی بیٹی مٹلڈا کا بیٹا تھا،مٹلڈا کی شادی آنجو (Angou) کے نواب جیو فرے کے ساتھ ہوئی تھی اس خاندان کا نشان ایک جھاڑی تھا اس لیے اس خاندان پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کہا جاتا ہے ہنری دوم کے بعد انگلستان میں جب تک اس خاندان کی حکومت قائم رہی اس حکومت کو پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کا دور کہا گیا ہنری دوم کے دور میں انگلستان کے نظام کو بہتر بنایا گیا جو علاقے اس سے قبل انگلستان کے بادشاہوں کے ہاتھ سے نکل گئے تھے ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کیااس کے علاوہ ہنری نے عدالتی اصلاحات کی مالیات کے محکمے کو ازسر نو منظم کیا تجارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے اس کا سب سے یادگار قدم جو آج بھی ہنری دوم کی یاد دلاتا ہے وہ یہ کہ اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی بنیاد1209ء میں رکھی اس کے بعد اس کا بیٹا رچرڈ بادشاہ بنا تاریخ میں اس بادشاہ کو رچرڈ شیردل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے رچرڈ شیر دل تیسری صلیبی جنگ میں خود شامل ہوا تھا جس کے بعد اس کی بہن کی شادی سلطان ایوبی کے بھائی کے ساتھ ہوئی۔ 1199ء میں رچرڈ کی وفات کے بعداس کا بھائی جان (John)بادشاہ بنا۔ برطانیہ کی تاریخ میں کوئی زیادہ اچھا بادشاہ نہیں جانا جاتا ہے جان (John) کوئی زیادہ کامیاب باشاہ نہیں تھا اس کے دور میں ایک جانب تو پوپ کے ساتھ کشمکش کا آغاز ہوا دوسری جانب امیروں اور جاگیرداروں کے ساتھ لڑائیاں ہوئیں جس کی وجہ سے انگلستان کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا مگر تاریخ میں جان (John) کا نام اس اعتبار سے زیادہ مشہور ہے کہ جان کے دور میں اس جمہوریت کی ابتدا ہوئی جس کی وجہ سے آج برطانیہ کا نام قوموں میں سر بلند ہے جان (John) نے 1214ء میں اس دستاویز پر دستخط کیے جو تاریخ میں میگنا کارٹا یعنی منشور کبیر کے نام سے مشہور ہے یہ ہی منشور انگلستان میں جمہوریت کی سنگ بنیاد تصور کیا جاتاہے۔ جان کے دور میں انگلستان میں پوپ کا عمل دخل زیادہ بڑھ گیا تھا جان کے لیے ضروری تھا کہ پوپ کو خوش رکھنے کے لیے باقاعدہ نذرانے بھیجتا رہے معیشت بہت متاثر ہوئی اس کے نتیجے میں انگلستان مختلف شورشوں کا شکار ہوتا چلا گیا 1216ء میں جان نے وفات پا ئی جان کے بعداسکا بیٹا ہنری سوم کے نام سے نو برس کی عمر میں انگلستان کا بادشاہ بنا مگراس کی خوش نصیبی یہ رہی کہ ایک انتہائی قابل شخص ولیم مارشل جو اس کے باپ جان کا ساتھی تھا ہنری سوم کا نائب السلطنت بنا ولیم مارشل انتہائی قابل اور وفادار تھا اس نے انتہائی قابلیت اورذہانت کے ساتھ کار مملکت چلائے جس کی وجہ سے انگلستان میں نو سالہ بادشاہ کی موجودگی میں کسی بھی طرح بے امنی اور بد انتظامی نہیں ہو سکی مگر جلد ہی ویلیم مارشل کی وفات کے بعد انتظامی معاملات بگڑنے لگے ایک جانب پوپ انگریزی کلیساؤں سے چندے کی رقم کا مطالبہ کرتا تھا دوسری جانب پوپ کی طرف سے مختلف مذہبی مطالبات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے تھے پھر ویز میں بغاوت کا سلسلہ شروع ہو گیا اس کے ساتھ انگلستان اور فرانس کے درمیان جنگ بھی شروع ہو گئی حالانکہ ہنری کی شادی فرانس کی شہزادی کے ساتھ ہوئی تھی مگر اس کے باوجود انگلستان اور فرانس کے درمیان جنگ ہوئی پوپ کی جانب سے انگلستان میں مداخلت کا سلسلہ بھی جاری ہی رہا ایک جانب تو پوپ نے اپنے مصارف کے لیے مستقل دباؤ ڈالنا شروع کیاجس کی انتہائی صورت یہ تھی کہ انگلستان کی پوری آمدنی کا ایک تہائی حصہ پوپ کے حوالے کیا جانے لگا جس کے نتیجے میں عوام ناراض ہونے لگے امراکی ایک کمیٹی جس کے اراکین 24افراد پر مشتمل تھی نے اصلاحی اسکیم پیش کردی ہنری نے اس اسکیم کو توڑنے کی بہت کوشش کی مگر اس میں اس کو کامیابی نہیں ہوئی اس طرح خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جس میں بادشاہ کے بہنوئی سائمن ڈی مان فرٹ (Siman de Monfort) نے اصلاحی گروہ کی سرداری قبول کرلی بادشاہ کو شکست ہوئی اور سائمن نے پورا انتظامی کاروبار سنبھال لیا بادشاہ نے مشورے کے لیے جو مجلس بنا رکھی تھی اسے پہلے مجلس کبیر (Great Council) کہا جاتا تھا مگر 1240ء میں اس کا نام پارلیمنٹ رکھا گیا جو آج تک جاری ہے 1925ء میں سائمن نے ایک نمائندہ پارلیمنٹ بلوائی بادشاہ کا بڑا بیٹا جو پہلے اصلاحی پارٹی کے ساتھ تھا پھر وہ ا ن ا میروں کے ساتھ مل گیا جو بادشاہ کے طرف دار تھے اس نے سائمن کو شکست دی اب اقتدار دوبارہ ہنری کے ہاتھ میں آ گیا لیکن اس وقت بھی برائے نام بادشاہ تھاکیونکہ تمام اقتدار ایڈورڈکے ہاتھ میں ہی تھا 1272ء میں ہنری کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹاایڈورڈ انگلستان کا بادشاہ بنا جسے ایڈورڈ اول کہا گیا جو انگلستان کی تاریخ کا انتہائی قابل اور مدبر بادشاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اس کے زمانے میں ویلز کی بغاوت کا خاتمہ ہوا اسکاٹ لینڈ بھی انگلستان کے ساتھ شامل ہوا اگرچے یہ شمولت رسمی ہی تھی مگر اس کے باوجود اسکاٹ لینڈپرانگلستان کا جھنڈا لہرایا گیا اس کے ساتھ انگلستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے جو اہم ترین فیصلہ ایڈورڈ اول نے کیا وہ یہ تھا کہ 1290ء میں ایڈورڈ اول نے انگلستان کی حدود سے یہودیوں کو نکل جانے کے احکامات دیے 1295ء میں ایک نمائندہ پارلیمنٹ بلوائی جس میں، بشپ ،ایبٹ،بڑے بڑے امیر،نامور جنگجو اور مختلف قبائلی سرداروں نے شرکت کی اس نمائندہ اجلاس میں پہلی بار میگنا کارٹاکی تصدیق کردی گئی اس کے ساتھ میگنا کارٹا میں ایک دفعہ مزید بڑھائی گئی کہ بادشاہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی غیر جاگیردار محصول نافذ نہیں کرے گا ایڈورڈ کے دور کی ایک خوبی یہ ہے کہ متوسط طبقے سے بادشاہ باقاعدہ رابطہ قائم رکھتا تھا اور ان کی تجاویز سنتا تھااور ان پر عمل درآمد بھی کروا تا تھا بادشاہ کا یہ قدم انگلستان میں جمہوریت کو قائم رکھنے میں بہت مدد گار ثابت ہوا اس کے ساتھ عدالتوں کی اصلاح بھی کی گئی عدالتوں کی کارکردگی کے بارے میں ایک سالنامہ شائع کیا جاتا تھا جس میں تمام عدالتی کارروائی کی تفصیل درج ہوتی تھی۔ ایڈورڈ کا دور اس اعتبار سے بھی بہت اہم ہے کہ اس دور میں آئیرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ انگلستان کا حصہ بنے جو گریٹ برٹین کی ابتدا تھی اس کے ساتھ ایڈورڈ نے جو اہم ترین کام انجام دیا وہ یہ کہ 1209ء میں بننے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب بھرپور توجے دی گئی جس کے نتیجے میں انگلستان میں اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہو سکا آکسفورڈ یونیورسٹی اس وقت دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی شمار کی جاتی ہے جہاں سے کروڑوں طالب علم اس وقت اپنی تعلیم کو مکمل کرکے دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔

یہ وہ دور تھا جب منگولوں نے چنگیز خان کی سربراہی میں منگولیا سے نکل کر بیرونی دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا تھا منگولوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے عالمِ اسلام کے اہم ترین اور طاقتور ریاستوں سمرقند و بخارا اور بغداد کو روند کراور تباہ و برباد کرکے رکھ دیا تھا وہیں ان ہی منگولوں نے ایک جانب تمام روس دوسری جانب پولینڈ، جرمنی، آسٹریا، بلغاریہ، ترکی،رومانیہ پر قبضہ جمالیا تھا یورپ میں موجود مسیحیت کی سب سے بڑی روحانی شخصیت پوپ نے منگولوں کے حملے کو عذابِ خداوندی قرار دیا اور یورپ کے تمام بادشاہوں کو اس عذابِ خداوندی کا مقابلہ کرنے کے لیے یکجا ہونے کی دعوت دی مگر جلد ہی منگولوں کے پہلے بادشاہ چنگیز خان کے مر جانے کے بعد ایشیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں پہلی شکست کھانے کے بعد منگولوں کی قوت تتر بتر ہونے لگی جس کے نتیجے میں ان کے طوفانی حملوں کا زور یورپ میں ختم ہو گیا اور یورپی ریاستوں نے ایک ایک کرکے منگولوں سے آزادی حاصل کرنا شروع کردی اس صورت حال کے اثرات برطانیہ پر بھی پڑے ایک جانب منگولوں کے ہاتھوں شکست کھانے والے قبائل پناہ لینے کے لیے برطانیہ کی جانب رخ کرنے لگے دوسری جانب برطانیہ میں اعلیٰ ترین صنعت کار اور تاجر آنے لگے یورپ کے اجڑنے کے ساتھ برطانیہ کے بسنے کا عمل بھی جاری ہوا اسے انگریز قوم کی خوبی ہی کہا جائے گا کہ انگریزوں نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور ایسا قومی ماحول تشکیل دیا جس کے نتیجے میں قومی ترقی کے امکانات وسیع سے وسیع تر ہوتے چلے گئے۔

ایڈورڈ اول کی وفات کے بعد اس کے بیٹے ایڈورڈ دوم کے نام سے تخت نشین ہوا وہ زیادہ قابل نہ تھا اس لیے امیروں کا کنٹرول ایڈورڈ دوم پر تھا جس کی وجہ سے نہ تو ایڈورڈ دوم پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی کام کر سکتا تھا اور نہ ہی پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اعلانِ جنگ کر سکتا تھا اس کے دور میں اسکاٹ لینڈ کے باغیوں نے شاہی فوج کو شکست دیدی جس کے نتیجے میں اسکاٹ لینڈ آزاد ہو گیا ایڈورڈ کی شکست کے نتائج اس کو اس طرح سے بھگتنا پڑے کہ 1327ء میں اسے تاج و تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا گیا آٹھ ماہ کی قید کے بعد اسے قتل کر دیا گیا جس کے بعد ایڈورڈ سوم پندرہ سال کی عمر میں بادشاہ بنایا گیا مگر جلد ہی اس نے تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں لینا شروع کردیے۔ 1330ء میں اس نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور 1337ء میں فرانس کے خلاف جنگ شروع کی جو سو سال تک جاری رہی اس لیے اس جنگ کو صد سالہ جنگ بھی کہا جاتا ہے ایڈورڈ سوم کے دور میں انتظامی معاملات درست ہو گئے ا سی کے عہد میں پارلیمنٹ کا آغاز ہوا دارلعوام اور دار الامرا کا آغاز ہوا مگر 1348ء میں خونی پلیگ پھیلی جس کی وجہ سے نصف آبادی موت کا شکار ہو گئی اسی دور میں مسیحیت کی اصلاحی تحریک کا آغاز بھی ہوا اس تحریک کے بانی جان وکلف کا کہنا تھا کہ ہر شخص کسی کی وساطت کے بغیر خدا سے براہ راست رشتہ قائم رکھ سکتا ہے اور کلیساؤں کے ساتھ اوقاف رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، نیز پادریوں نے شادی نہ کرنے کا جو سلسلہ قائم کررکھا ہے وہ غلط ہے، پادریوں نے دولت جمع کرنے کا جو سلسلہ قائم کررکھا ہے وہ غلط ہے۔ اس طرح جان وکلف نے پوپ اور پادریوں کے تمام اقتدار کا خاتمہ کر دیا جان وکلف نے 1372ء میں بائبل کا مکمل انگریزی ترجمہ کیا۔ اپنے ان خیالات کی وجہ سے جان وکلف کو آخری دور میں بہت تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب بڑھاپے کی وجہ سے ایڈورڈ بالکل ہی ناکارہ ہو گیا اس کا بڑا بیٹا بھی بیمار تھا اس وجہ سے برطانیہ کا نظام بگڑ گیا اس کے بیٹے نے حالات کو بہت درست کرنے کی کوشش کی مگر وہ 1376ء میں وفات پاگیا اس کا بیٹا رچرڈ سوم تخت نشین ہوا جو تخت نشین کے وقت صرف دس سال کا تھا اس کا چچا جان جو لینکاسٹر کا ڈیوک تھا بادشاہ کی سرپرست مجلس کاسربراہ بنایا گیا اس کے دور میں فرانس کے ساتھ از سر نو جنگ چھڑ گئی جس میں فلینڈرس کا علاقہ چھن گیااس وقت روپے کی سخت ضرورت پڑی جو کے محصول لگا کر حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اس کی وجہ سے برطانیہ میں بے چینی بڑھنے لگی جس کی وجہ سے بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے بڑے بڑے زمینداروں کی جانب سے کسانوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے نتیجے میں کسانوں کی جانب سے بغاوت ہو گئی جاگیرداروں کے مراکز جلادئے گئے بڑے بڑے زمیندار اور قانون داں اس بغاوت میں مار دیے گئے انگلستان کے مشرقی اور جنوبی حصے سے ایک بہت بڑا ہجوم دو سرداروں ویٹ ٹائیلر اور پول ٹاکس کی قیادت میں لندن کی جانب روانہ ہوا ہجوم کے بڑے بڑے مطالبات یہ تھے کہ زمینداروں نے کسانوں پر جو ناواجب ٹیکس لگائے ہوئے ہیں وہ منسوخ کر دئے جائیں کلیساؤں کے اوقاف چھین لیے جائیں اور شکار کے تمام قوانین ختم کردئے جائیں بادشاہ نے ہجوم سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ ہوشیاری کے ساتھ مذاکرات کیے جس کے نتیجے میں ہجوم واپس ہو گیا اس دوران ویٹ ٹائیلر مارا گیا اس کے بعد رچرڈ نے خومختار بننے کی کوشش کی پارلیمنٹ نے اس کے اس اقدام کی مخالفت کی اسی دوران ڈیوک آف لنکاسٹر کا بیٹاآئیر لینڈ سے آ گیا اس نے رچرڈ کے تمام اختیارات خود لے کر رچرڈ کو بادشاہت سے دستبردار کرکے اور رچرڈ کوٹاؤر میں قید کر دیا جہاں رچرڈ نے 1400ء میں وفات پائی ۔

خاندان لنکاسٹر[ترمیم]

رچرڈ کی وفات کے ساتھ ہی برطانیہ میں خاندان لنکاسٹر کا آغاز ہو گیا جس کا بانی ہنری سوم تھا جو ڈیوک آف لنکاسٹر کا بیٹا تھا ہنری سوم کے دور میں برطانیہ میں بہت سے کام ہوئے مگر ہنری کے دور میں بہت سے امرا نے بغاوت کی فرانس نے بھی باغی سرداروں کی امداد میں اپنی فوج بھیجی مگر 1413ء میں ہنری وفات پاگیا جس کے بعد اس کا بیٹا ہنری پنجم کے لقب سے بادشاہ بنا ہنری پنجم بہت ہی لائق بادشا ہ شمار کیا جاتا ہے اس نے برگنڈی کے ڈیوک کیساتھ صلح کرکے فرانس کے تخت و تاج کا دعویٰ کر دیا اور فرانس کے خلاف لڑائی شرع کردی جس کے بعد ہنری کی افواج نے ایجن کورٹ کے مقام پر فرانس کو شکست دیدی اور نارمنڈی کے علاقے کو فتح کر لیا 1420ء میں صلح نامے کے نتیجے میں فرانس کے ولی عہد کو سلطنت سے محروم کرکے اعلان کر دیا گیا کہ ہنری پنجم ہی فرانس کا آئندہ بادشاہ ہو گا مگر ہنری 1422ء میں اچانک وفات پاگیا ہنری پنجم کی وفات کے بعداس کے نو ماہ کے بیٹے کو ہنری ششم کے لقب سے بادشاہ بنایا گیا اس کے تین چچاؤں نے بادشاہ کے سرپرست کی حیثیت اختیا ر کی ایک چچا فرانس میں نائب السلطنت بن گیا دوسراانگلستان میں نائب سلطنت بنامگر ان ہی دنوں فرانس میں بغاوت کی ابتدا ہو گئی یہ بغاوت مشہور و معروف جون آف آرک نے شروع کی جس کے نتیجے میں فرانس میں انگلستان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ 1437ء میں ہنری بالغ ہو گیا لیکن وہ اچھا حکمران ثابت نہیں ہو سکا اس کے دور میں بد نظمی ہی رہی کبھی کوئی نواب فوج جمع کرکے کنٹرول کرلیتا کبھی کوئی۔ ان حالات میں ڈیوک آف یارک کے پوتے نے بادشاہ کے خلاف اعلان بغاوت کردی اس طرح ایک ہی خاندان کی دو شاخوں کے درمیان خانہ جنگی کی ابتدا ہوئی یارک اور لنکاسٹر خاندانوں کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ابتدا میں یارک نے شاہی فوج کو شکست دے کر بادشاہ کو گرفتار کر لیا مگر بادشاہ کی ماں اور ہنری پنجم کی بیوہ نے فوج جمع کرکے ڈیوک آف یارک کی افواج کو شکست دیدی جنگ میں ڈیوک آف یارک مارا گیا مگر جنوبی انگلستان کے لوگوں کی حمایت سے ڈیوک آف یارک کے بیٹے ایڈورڈ نے شاہی افواج کو شکست دینا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں جلد ہی لنکاسٹر خاندان شکست کھا گیا اور 1461ء میں خاندان یورک کی حکمرانی کی ابتدا ہو گئی 1465ء میں ہنری ششم گرفتار ہو گیا جس کو ٹاؤر میں بند کر دیا گیا جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری دن خاندان پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کے آخری بادشاہ رچرڈ کی مانند گزارے۔

خاندان یورک کی حکمرانی برطانیہ کے عوام کے لیے نئی صبح بن کرطلوع ہواعوام مسلسل ہونے والی خانہ جنگی سے بے زار آچکے تھے۔

برطانہ کہ شاہی خاندانوں کی تفصیلات[ترمیم]

گریٹ برٹین یا متحدہ برطانیہ کی ابتدا ہوئی

کرام ویل اور اس کا بیٹا رچرڈ کرام ویل ڈکٹیٹر بنے 1649تا1712

ہاؤس آ ف گوتھا نو سال تک خاندان کا نام یہ ہی رکھا گیا 1901 تا1910

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں OSM relation ID (P402) ویکی ڈیٹا پر "صفحہ مملکت متحدہ في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2019۔
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  3. ^ ا ب http://europa.eu/about-eu/eu-history/1970-1979/index_en.htm
  4. ^ ا ب Brexit timeline: key dates in the UK’s divorce from the EU — اخذ شدہ بتاریخ: 7 مئی 2019 — شائع شدہ از: Financial Times — شائع شدہ از: 24 اپریل 2019
  5. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  6. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  7. https://www.iho.int/srv1/index.php?option=com_wrapper&view=wrapper&Itemid=452&lang=en — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2017 — ناشر: بین الاقوامی آب نگاری تنظیم
  8. List of the 195 Members (and the 11 Associate Members) of UNESCO and the date on which they became members (or Associate Members) of the Organization — اخذ شدہ بتاریخ: 19 فروری 2018 — ناشر: یونیسکو
  9. BRITAIN CONFIRMS ITS PLAN TO QUIT A 'HARMFULLY POLITICALIZED UNESCO — اخذ شدہ بتاریخ: 19 فروری 2018 — ناشر: نیو یارک ٹائمز — شائع شدہ از: 6 دسمبر 1985
  10. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  11. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  12. The World Factbook: United Kingdom — اخذ شدہ بتاریخ: 3 جون 2015
  13. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=GB — اخذ شدہ بتاریخ: 19 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  14. http://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD
  15. http://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD
  16. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش اص اض اط اظ اع اغ اف اق https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  17. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج http://hdr.undp.org/en/countries/profiles/GBR
  18. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS

بیرونی روابط[ترمیم]

حکومتی
عمومی معلومات
سفر