مندرجات کا رخ کریں

برفانی طوفان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

برفانی طوفان (جسے طوفانِ سرما بھی کہا جاتا ہے) شدید سرد درجہ حرارت میں پائی جانے والی ایسی موسمی صورتِ حال جس میں تیز ہواؤں کے ساتھ برف، مِلی جُلی بارش و برف برستی یا جمنے والی بارش ہوتی ہے۔ معتدل برّ اعظمی اور زیر باردی علاقوں میں یہ طوفان صرف سردیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ خزاں کے آخر اور بہار کے آغاز میں بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ تیز ہواؤں اور کم حدِ نگاہ کے ساتھ آنے والے برفانی طوفان کو ’برفانی آندھی‘ (blizzard بِلِزَرڈ) کہا جاتا ہے۔

فن لینڈ کے شہر اولو میں برفانی طوفان
شکاگو کی فلرٹن ہاربر کا جنوب کی جانب منظر – 31 جنوری تا 2 فروری 2011ء کے شمالی امریکی سرمائی طوفان کے دوران (بائیں) اور موازنہ کے لیے ایک صاف دن میں۔

صرف 2 انچ (5.1 سینٹی میٹر) برف بھی ٹریفک اور اسکول ٹرانسپورٹ میں شدید خلل ڈالنے کے لیے کافی ہوتی ہے کیونکہ پھسلن والی سڑکوں پر گاڑیاں چلانا اور اسکول بسوں کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ سنگین ہوتا ہے جہاں عام طور پر برف باری نہیں ہوتی مگر کبھی کبھار شدید اور زیادہ مقدار میں برف جمع ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جہاں برف باری معمول کی بات ہے وہاں اتنی کم مقدار کی برف شاذ و نادر ہی خلل ڈالتی ہے کیونکہ بلدیاتی ادارے برف اور برفانی جمنے کو مؤثر طور پر ہٹا لیتے ہیں، چار پہیوں والی گاڑیوں اور اسنو ٹائروں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور ڈرائیور موسمِ سرما کی حالتوں کے عادی ہوتے ہیں۔ عموماً 6 انچ (15 سینٹی میٹر) سے زیادہ برف باری ہر جگہ نمایاں خلل کا باعث بنتی ہے۔

1888ء اور 1947ء میں نیز 1990ء کی دہائی کے آغاز اور وسط میں ریاستہائے متحدہ امریکا میں شدید برفانی طوفانوں کی بڑی تعداد رونما ہوئی جن میں سے بعض برفانی آندھیاں (بلزرڈ) بھی تھیں۔ 1947ء کی برف باری 2 فٹ (61 سینٹی میٹر) سے زیادہ تھی جبکہ برف کے ٹیلے اور برف ہٹانے سے بننے والے ڈھیر 12 فٹ (3.7 میٹر) تک جا پہنچے اور کئی ماہ تک درجۂ حرارت اتنا بڑھ نہ سکا کہ برف پگھل سکے۔ 1993ء کا ”سُپر اسٹورم“ متاثرہ بیشتر علاقوں میں برفانی آندھی کی صورت اختیار کر گیا تھا۔

شدید برفانی طوفان نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ 6 انچ (15 سینٹی میٹر) برف کی تہ بعض ایسی سڑکوں کو (جہاں برف صاف نہ کی گئی ہو) نا قابلِ آمد و رفت بنا دیتی ہے اور گاڑیوں کے برف میں پھنس جانے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ 12 انچ (30 سینٹی میٹر) سے زیادہ برف (خاص طور پر جنوبی یا عموماً گرم علاقوں میں) بعض گھروں کی چھتیں گرا سکتی ہے اور بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا کر سکتی ہے۔ مردہ کھڑے درخت بھی برف کے وزن سے گر سکتے ہیں، خاص طور پر جب برف گیلی ہو۔ تیز ہواؤں کے ساتھ تو خشک برف کے چند انچ بھی کئی فٹ اونچے برفانی ٹیلے بنا سکتے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]